Loading...
انتم چرن میں پردھان منتری مودی اور کیبنیٹ سہیوگیوں کی ساکھ دانو پر| Webdunia Hindi

انتم چرن میں پردھان منتری مودی اور کیبنیٹ سہیوگیوں کی ساکھ دانو پر

Last Updated: بدھوار, 15مئی2019 (11:12 IST)
لوک سبھاکےمیں پردھان منتری نریندر مودی سہت انکے دوسہیوگیوں اور ایک پورو کیبنیٹ سہیوگی کی ساکھ دانو پر ہے۔ خاص بات یہ که یہ چاروں سیٹیں ایک ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ ساتویں چرن میں مودی,ریل راجیہ منتری منوج سنہا,سواستھیہ منتری انوپریا پٹیل اور پورو کیندریہ مانو سنسادھن راجیہ منتری مہیندر ناتھ پانڈییہ کے وکاسواد کی پریکشا ہونی ہے۔

پردھان منتری نریندر مودی وارانسی سیٹ سے میدان میں ہیں۔ اسکے علاوہ منوج سنہا غاضی پور سے,انوپریا پٹیل مرجاپر سے اور مہیندر ناتھ پانڈییہ چندولی سے امیدوار ہیں۔ یہ تینوں سیٹیں وارانسی سے لگی ہوئی ہیں۔ نریندر مودی کے بیتے پانچ سالوں میں بنارس میں کئے گئےکاریو کی پریکشا بھی ہونی ہے۔

مودی نے وارانسی میں40ہزار کروڑ روپے کے کام کرائے ہیں۔ سب سے زیادہ پرچارت کام وشوناتھ کارڈور مانا جا رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے روڈ شو کر بنارس میں اپنی طاقت کا احساس بھی کرایا تھا۔ وپکش کی اور سے انکے خلاف کوئی بڑا پرتیاشی نہ کھڑا ہونا انکی مضبوطی کا آدھار بن رہا ہے۔


کانگریس نے اجے رائے کو دوبارہ پرتیاشی بنایا ہے,جن کی2014کے چناؤ میں ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ سپہ بسپا گٹھ بندھن سے شالنی یادو چناؤ میدان میں ہیں۔ اسکے علاوہ بہبالی عتیق احمد نردلیہ امیدوار کے روپ میں میدان میں ہیں۔ راجگ سے ناراض سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی(سبھاسپا)کے سریندر پرتاپ کو لیکر کل31پرتیاشی وارانسی میں تال ٹھوک رہے ہیں۔

انتم چرن میں راجیہ کی جن13سیٹوں پر متدان ہونا ہے,انمیں سے11سیٹیں بھاجپا کے پاس,ایک سیٹ اسکی سہیوگی اپنا دل اور ایک سیٹ سماجوادی پارٹی(سپہ)کے پاس ہے۔ اب انھیں بچانے کی ذمیداری مودی کے کندھوں پر ہے۔


غاضی پور سے ریل و سنچار راجیہ منتری منوج سنہا بھاجپا سے ایک بار پھر چناؤ لڑ رہے ہیں۔ تین بار سانسد اور ایک بار منتری رہ چکے منوج سنہا نے بیتے پانچ ورشو میں غاضی پور سہت دوسرے ضلعوں میں ریلوے اور انیہ وکاس کاریہ کروائے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے که اب تک دیش میں کوئی بھی روڈ سہ ریل برج بنانے میں10ورش سے کم سمیہ نہیں لگا ہے,لیکن گنگا پر بن رہا روڈ سہ ریل برج ریکارڈ ساڑھے تین ورش میں تیار ہونے کی اور اگرسر ہے۔ غاضی پور سے بڑے شہروں کے لئے گاڑیاں شروع ہو گئی ہیں۔

منوج سنہا نے سواستھیہ پر بھی دھیان دیا ہے۔ غاضی پور میں میڈکل کالج بن رہا ہے,لیکن چناؤ نزدیک آتے ہی سبھاسپا کے ساتھ چھوڑنے اور اپنا پرتیاشی کھڑا کرنے سے راجنیتک سمیکرن تھوڑا بدلہ ہے۔ اس شیتر میں راجبھر سماج کا بڑا ووٹ بینک ہے۔ یہ سنہا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انکے خلاف گٹھ بندھن نے اپھجل انصاری کو پرتیاشی بنایا ہے۔


اس لوک سبھا شیتر میں لگ بھگ دو لاکھ مسلم متداتا ہیں۔ انصاری کی شیتر میں اچھی پکڑ معنی جاتی ہے۔ اپھجل ایک بار پہلے بھی غاضی پور سے سانسد رہ چکے ہیں۔ وہ باہبلی مافیا مختار انصاری کے بھائی ہیں۔ کانگریس نے یہاں سے اجیت کشواہا کو میدان میں اتارا ہے۔ اس لوک سبھا سیٹ پر سورن متداتاؤں کی سنکھیا نرنائک معنی جاتی ہے۔ او بی سی,ایس سی اور الپ سنکھیکوں کی بھی ٹھیک ٹھاک سنکھیا ہے۔ ایسے میں منوج سنہا کے لئے لڑائی کٹھن بتائی جا رہی ہے۔

بھاجپا کے پردیش ادھیکش مہیندر ناتھ پانڈییہ نے2014کے چناؤ میں بنارس سے لگی سیٹ چندولی پر پارٹی کا15سالوں کا سوکھا سماپت کیا تھا۔ اسکے بعد سے ہی وہ مودی شاہ کی نظر میں تھے۔ چندولی پہلے بھی بھاجپا کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے۔ یہاں سے1991, 1996اور1999کے عام چناووں بھاجپا کے آنند رتن موریا نے لگاتار تین جیت درج کی تھی۔ لیکن1999اور2004کے چناؤ میں آنند رتن کا جنادھار کم ہو گیا اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔2014کے چناؤ میں بسپا کے انل کمار موریہ کو مات دیکر مہیندر ناتھ نے چندولی میں پھر سے کمل کھلایا تھا۔

بھاجپا کا پردیش ادھیکش ہونے کے ناطے سنگٹھن پر انکی پکڑ ہے۔ ساتھ ہی کیندری راجیہ منتری رہتے ہوئے علاقے میں انہوں نے وکاس کاریہ بھی کروایا ہے۔ مگر سپہ بسپا گٹھ بندھن نے انکے سامنے سنجے چوہان کو امیدوار بنایا ہے۔ اس بار جان بوجھ کر گٹھ بندھن نے سورن پرتیاشی میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ کانگریس نے شوکنیا کشواہا پر دانو لگایا ہے۔


اپنا دل کی ادھیکش انوپریا پٹیل نے مرجاپر سے2014میں مودی لہر میں جیت حاصل کی تھی۔2016میں انوپریا پٹیل کو منتری منڈل میں جگہ دی گئی۔ انہیں سواستھیہ ایوں پریوار کلیان منترالیہ میں راجیہ منتری بنایا گیا۔ انکے منتری ہو جانے کی وجہ سے اس سیٹ کا مہتو اس بار اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پانچ سالوں کے وکاس کاریو کے ساتھ ہی جاتگت ووٹوں کے سہارے وہ چناؤ میدان میں ہیں۔ کرمی ووٹر اور بھاجپا کے پارمپرک ووٹ سے انہیں اچھی خاصی امید ہے۔ لیکن سپہ بسپا گٹھ بندھن یہاں بھی انکے لئے مشکل کھڑا کر رہا ہے۔

مچھلیشہر سے بھاجپا سانسد رہے رام چرتر نشاد کو گٹھ بندھن نے مرجاپر سے پرتیاشی بنایا ہے۔ وہیں کانگریس نے اس سیٹ پر کملا پتی ترپاٹھی کی وراثت سنبھال رہے للتیش پتی ترپاٹھی کو چناؤ میدان میں اتارا ہے۔


ورشٹھ راجنیتک وشلیشک پریمشنکر مشرع کے انوسار, 2014میں نریندر مودی وارانسی سے,ملایم سنگھ یادو آعظم گڑھ سے امیدوار تھے۔ جسکے کارن سب کی نگاہیں پورواچل پر ٹکی تھیں۔ اب2019میں پورواچل کے پرنام اور بھی مہتوپورن ہو چکے ہیں,کیونکہ مودی سہت بھاجپا و اسکے سہیوگی دلوں کا پروفائل ان سالوں میں بہت بدل چکا ہے۔ مہیندر پانڈییہ,انوپریا پٹیل,منوج سنہا یا خود مکھیہ منتری یوگی آدتیناتھ کے گرہکشیتر گورکھپور کے پرنام ان چہروں کی ویکتیگت پرتشٹھا تے کرینگے۔

وویک ترپاٹھی(آئییئینئیس)



اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation