Loading...
روس اور ایران کیوں اتر کوریا کے قریب جا رہے ہیں؟| Webdunia Hindi

روس اور ایران کیوں اتر کوریا کے قریب جا رہے ہیں؟

Last Updated: منگلوار, 14مئی2019 (11:46 IST)
لمبے سمیہ سے دنیا میں الگ تھلگ پڑے اتر کوریا کے ساتھ امریکہ کے رشتے سدھرینگے یا نہیں,یہ تو پتہ نہیں ہے لیکن روس اورضرور اتر کوریا سے نزدیکیاں بڑھا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟

اتر کوریا کے نیتا کم جونگ ان نے جب روسی شہر ولادووستوک کا دورہ کیا تو روسی راشٹرپتی ولادمیر پتن نے انکے سمان میں ایک شاندار بھوج دیا۔ یہاں نظارہ فروری میں کم جونگ ان اور امریکی راشٹرپتی ڈانلڈکی ویتنام میں ہوئی ملاقات سے بالکل الگ تھا جہاں دونوں نیتا اہم وارتاؤں کو چھوڑ کر چل دیئے تھے۔ ولادووستوک میں کم نے ٹرمپ کے رویے کی آلوچنا کی۔ وہیں روس کے ساتھ سمبندھوں کو انہوں نے"رننیتک اور پارمپرک"بتایا۔
روس اکیلا دیش نہیں ہے جو اتر کوریا کے قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایران کے ودیش منتری جواد جریپھ نے کہا که وہ جلد ہی اتر کوریا کا دورہ کرینگے۔ حالانکہ انہوں نے اپنی اس یاترا کے مقصد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن اتنا صاف ہے که ایران بھی اتر کوریا کے ساتھ رشتوں کو رننیتک روپ سے اہم مان رہا ہے۔

ٹرمپ پرشاسن کوریائی پرایدویپ کو پرمانو ہتھیاروں سے مکت کرنے کے ارادے سے اتر کوریائی نیتا کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ اس سے انترراشٹریہ سطر پر کم کے شاسن کو ایک طرح کی ویدھتا ملی ہے۔ ایسے میں روس اور ایران بھی اتر کوریا کے قریب جا رہے ہیں۔
ایرانی کنیکشن
اتر کوریا کے ساتھ ایران کے سمبندھوں کی شروعات1980کے دشک کے شروعاتی دنوں میں ہوئی۔ عراق ایران یدھ کے دوران اتر کوریا نے ایران کو ہتھیاروں کی آپورتی کی تو دونوں دیش اور قریب آئے۔

دونوں دیشوں کے رشتوں کو1990کے دشک میں سوویت سنگھ کے وگھٹن کے بعد اور وستار ملا۔ جب اتر کوریا کو سستے داموں پر ملنے والی گیس کی سپلائی بند ہو گئی تو اسنے ایران کی طرف دیکھا۔ ایران تیل سنسادھنوں سے مالامال ان چند دیشوں میں رہا ہے جس نے ہمیشہ اتر کوریا کے ساتھ رشتے بنائے رکھے۔
اتہاسک روپ سے اتر کوریا اور ایران,دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت رہی ہے۔ ایرانی ودیش منتری نے بھی ایسے سمیہ میں اتر کوریا کا دورہ کرنے کی گھوشنا کی جب انکا دیش امریکی پرتیبندھوں کے کارن نازک دور سے گزر رہا ہے۔ لمبے سمیہ تک تیل کو ایران کی ارتھویوستھا کی جیونریکھا سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن امریکہ پھر سے ایران پر شکنجہ قص رہا ہے۔ اسنے حال میں ایرانی تیل کی برکی پر لگے پرتیبندھ کو لیکر دی گئی ریایت ختم کر دی ہے۔
اتر کوریا بھی اپنے اوپر لگے پرتیبندھوں کو گچا دینا چاہتا ہے,جن کے تحت اتر کوریا صرف سیمت ماترا میں انیہ دیشوں سے تیل لے سکتا ہے۔ ایسے میں,امریکی وت وبھاگ کی پورو صلاحکار ایلیزبیتھ روجینبرگ اپنے ایک لیکھ میں کہتی ہیں که ایران ایسے دیشوں کو اپنا تیل نریات بڑھانا چاہتا ہے جو امریکی پرتیبندھوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔

چونکہ ایران اور اتر کوریا کے مدعے پر انترراشٹریہ سمودائے کو ایکجٹ کرنے کی راشٹرپتی ٹرمپ کی"ادھکتم دباوٴ"والی نیتی کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے,تو ایسے میں موجودہ حالات اتر کوریا اور ایران کو سہیوگ کے نئے اوسر دیتے ہیں۔
روس سے نزدیکی

دوسری طرف,روس پورووتر ایشیاء میں اپنا پربھاؤ بڑھانے کے لئے اتر کوریا کے ساتھ رشتے مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ سوویت سنگھ شیت یدھ کے دوران اتر کوریا کے سب سے بڑے سمرتھکوں میں سے ایک تھا۔ سوویت سنگھ نے چین کے ساتھ مل کر1950سے تک1953تک چلے کوریائی یدھ میں اتر کوریا کا ساتھ دیا تھا۔ سوویت سنگھ نے1950کے دشک میں اتر کوریائی وگیانکوں کو اپنےوکست کرنے کے لئے بنیادی جانکاری مہیا کرائی۔
روس بیسویں صدی کے اتراردھ میں اتر کوریائی سرکار کو لگاتار سہایتا اور ہتھیار دیتا رہا,جس سے شیتریہ سرکشا میں لگاتار اسکا پربھاؤ بنا رہا۔ لیکن جیسے ہی1991میں سوویت سنگھ ختم ہوا,اسکے ساتھ ہی اتر کوریا کے ساتھ اسکے سمبندھ بھی دھوست ہو گئے۔ جب روس میں ولادمیر پتن نے ستا سنبھالی تو انہوں نے اتہاسک سمپرکوں کی ڈور پکڑ کر اتر کوریا سے رشتوں کو پھر پروان چڑھانے کی کوشش کی۔
واشنگٹن ستھت تھنک ٹینک38نارتھ میں ورشٹھ رسرچر سٹیفن بلینک کہتے ہیں که اتر کوریا کے ساتھ سمبندھ مضبوط کر روس کا فائدہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں که اس وقت اتر کوریا روس کا سمرتھن چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی راجنیک پرستھتیوں سے نپٹ سکے۔ دوسری طرف روس بھی اتر کوریا سے کئی ریایتیں چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی کئی رکی ہوئی پریوجناؤں کو دوبارہ شروع کر سکے اور کوریائی پرایدویپ کو لیکر ہونے والی وارتاؤں میں اپنی بھومکا کو سنشچت کر سکے۔
رپورٹ: لیوس سینڈرس/اےکے

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation