Loading...
سورن آرکشن:کیا مودی سرکار نے ددھاری تلوار پر پیر رکھ دیا ہے؟| Webdunia Hindi

سورن آرکشن:کیا مودی سرکار نے ددھاری تلوار پر پیر رکھ دیا ہے؟

Narendra Modi
غریب سورنوں کو اچ شکشن سنستھاؤں اور سرکاری نوکریوں میں دس فیصدی آرکشن کے ذریعےنے ایک بڑا ماسٹرسٹروک ضرور کھیلا ہے لیکن اسکے عمل میں آنے میں کئی پینچ اور سنویدھانک اڑچنیں ہیں۔

غریب سورنوں کو سرکار جو دس فیصدی آرکشن دینے کی تیاری کر رہی ہے اسکے لئے اسے موجودہ پچاس پرتیشت کی سیما سے باہر رکھا جائیگا اور اسکے لئے سنودھان کے انوچھید انوچھید15اور16میں سنشودھن کرنا پڑےگا۔

جہاں تک سنسد کا سوال ہے تو بی جے پی کو راجیہ سبھا میں بہہ مت نہ ہونے کے باوجود راجنیتک طور پر زیادہ ورودھ کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔ ورشٹھ پترکار اروند سنگھ کہتے ہیں کهسمیت زیادہ تر پارٹیاں اس فیصلے کا سیدھے سیدھے ورودھ تو نہیں کر پائینگی,لیکن اس فیصلے پر چناوی فائدہ لینے کی کوشش کا آروپ تو لگا ہی رہی ہیں اور اس میں کوئی سندیہ بھی نہیں ہے۔

عام چناووں سے ٹھیک پہلے ایسا قدم اٹھانے کے لئے مودی سرکار کی راجنیتک طور پر آلوچنا ہو رہی ہے۔ کانگریس نے پروکش روپ سے سورن آرکشن کا سمرتھن کیا ہے,لیکن یہ سوال بھی پوچھا ہے که آخر غریبوں کو نوکریاں کب ملینگی,وہیں بہوجن سماج پارٹی نے صاف کر دیا ہے که وہ اس معاملے میں بی جے پی کو سنسد میں سمرتھن دیگی۔

انیہ راجنیتک دل بھی سیدھے طور پر سرکار کے اس قدم کا ورودھ تو نہیں کر پائیں گے,لیکن انکی کوشش ہوگی که یہ فی الحال عمل میں نہ آ پائے تاکہ کیندر سرکار اسکا شرییہ نہ ل سکے۔ اس ودھیک کو سنسد کے دونوں سدنوں سے دو تہائی بہہ مت سے پاس کرانا بی جے پی کے لئے بڑی چنوتی ہے,لیکن یدی سنسد میں یہ پارت بھی ہو گیا تو اسے سپریم کورٹ میں چنوتی ملنا تے ہے اور پھر سپریم کورٹ میں یہ سنشودھن ٹک پائیگا,ابھی کہنا مشکل ہے۔

سپریم کورٹ کے ورشٹھ ادھوکتا اور سنودھان وشیشگیہ ڈاکٹر صورت سنگھ کہتے ہیں که یہ ویوستھا سپریم کورٹ نے ہی دی تھی که آرکشن کی سیما پچاس فیصدی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ دوسرے,سنودھان نے آرکشن کا آدھار ساماجک اور شیکشنک پچھڑیپن کو تے کیا ہے,نہ که آرتھک پچھڑیپن کو۔ ظاہر ہے,یہ سنودھان کے مول ڈھانچے کو بھی پربھاوت کر سکتا ہے۔

آرکشن دیش میں ہمیشہ سے ایک سنویدنشیل راجنیتک مدعا رہا ہے خاص کر1991میں منڈل آیوگ کی رپورٹ لاگو ہونے کے بعد سے۔ غریب سورنوں کو آرکشن دینے کی مانگ بھی اکثر اٹھتی رہتی ہے اور کئی بار اسکے پریاس ہوئے بھی ہیں۔ پورو پردھان منتری پی وی نرسمہا راؤ نے اپنے کاریہ کال میں منڈل آیوگ کی رپورٹ کے پراودھانوں کو لاگو کرتے ہوئے اگڑی جاتیوں کے لئے10فیصدی آرکشن کی ویوستھا کی تھی,لیکن سپریم کورٹ کی سنویدھانک پیٹھ نے اسے خارج کر دیا تھا۔

شائد اسی لئے کیندر سرکار سنودھان میں سنشودھن کرکے آرتھک آدھار پر آرکشن کی ویوستھا کرنے کی تیاری کر رہی ہے,لیکن سپریم کورٹ میں یہ سنشودھن ٹکا رہ پائیگا,یہ بڑا سوال ہے۔ حالانکہ تمل ناڈو میں67پرتیشت آرکشن کی ویوستھا ہے لیکن وہ سنودھان کے ان پراودھانوں کے حوالے سے ہے جنہیں نیایالیوں میں چنوتی نہیں دی جا سکتی ہے۔ جانکاروں کا یہ بھی کہنا ہے که کسی بھی ورگ کے آرکشن کے لئے دو انواریہ شرطیں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے تو اسکے لئے سنودھان میں پراودھان ہونا چاہئیے اور دوسرا یہ که اسکے لئے ایک آدھار دستاویز تیار ہونا چاہئیے۔

پچھڑے ورگوں کو آرکشن دینے کے لئے پہلے کاکا کالیلکر آیوگ کا گٹھن کیا گیا تھا اور اسکے بعد1978میں بی پی منڈل آیوگ کا گٹھن کیا گیا تھا۔ حال ہی میں مہاراشٹر میں بھی مراٹھوں کے آرکشن دینے کے راجنیتک فیصلے سے پہلے ایک آیوگ کا گٹھن کیا گیا,لیکن سورنوں کو آرکشن دینے کی کیندر سرکار جو کوشش کرنے جا رہی ہے,اس میں اس پرکریا کا پالن نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری اور,سرکار کے اس فیصلے کے پیچھے راجنیتک وجہ کو مانا جا رہا ہے اور اسکی ٹائمنگ بھی اس بات کو ثابت کر رہی ہے۔ ورشٹھ پترکار یوگیش مشر کہتے ہیں که پہلے تو اسے لاگو کر پانا مشکل ہے,دوسرے یدی لاگو ہو بھی گیا تو بی جے پی اسکا فائدہ نہیں اٹھا پائیگی۔

انکے مطابق دراصل,یہ پہل سرکار نے ایسے سمیہ کی ہے جب ٹھیک چناؤ کا سمیہ ہے۔ سنسد میں یدی یہ پاس نہیں ہوا تو بی جے پی اسکی ذمیداری دوسرے دلوں پر نہیں تھوپ پائیگی,کیونکہ یہ سوال اس سے پوچھا جائیگا که آپنے یہ کام اتنی دیری سے کیوں کیا۔ دوسرے یدی پاس ہو بھی جاتا ہے تو چونکہ اس میں سبھی راجنیتک دلوں کی سہمتی ہوگی,اسلئے اکیلے بی جے پی کریڈٹ نہیں لے پائیگی۔

یوگیش مشر کہتے ہیں که یہ صاف ہے که بی جے پی نے تین راجیوں میں ہار کے بعد سورن متداتاؤں کی اہمیت کو سویکارا ہے اور اس بات کو اب متداتا بھی جان رہا ہے۔ خاص کر,سورن متداتا۔ سورن کہتے ہیں که سال2014کے لوک سبھا چناؤ میں انہوں نے لگ بھگ ایکجٹ ہوکر بی جے پی کے پکش میں متدان کیا تھا,لیکن پچھلے چار سال میں پردھان منتری اور بی جے پی ادھیکش صرف دلتوں اور پچھڑوں کی ہی بات کرتے رہے۔

جانکاروں کے مطابق تین راجیوں میں جس طرح سے بی جے پی کے خلاف سورنوں نے ابھیان چلایا اور نوٹا کو پراتھمکتا دینے کی اپیل کی,اس سے بی جے پی کو جھٹکا لگا ہے۔ یوگیش مشر اسکے پیچھے یوپی میں سپہ بسپا کے سنبھاوت گٹھ بندھن کو بھی دیکھتے ہیں اور سورن آرکشن کو اسی کی کاٹ کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔

میرٹھ وشوودیالیہ میں راجنیتک وگیان کے پرادھیاپک اور دلت چنتک ایس پی سنگھ کہتے ہیں که گٹھ بندھن کی کاٹ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ گٹھ بندھن تو ویسے بھی پچھڑوں اور دلتوں کا ہو رہا ہے اور اترکت بھومکا اس میں الپ سنکھیک متداتا نبھائیگا۔ جہاں تک سورنوں کو آرکشن سمبندھی ٹرمپ کارڈ کا سوال ہے تو یہ بی جے پی کے اس دلت پچھڑے ووٹ بینک کو بھی دور کر دیگا جسے پچھلے پانچ سال میں اسنے پانے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی کو ویسے بھی دلت پچھڑا ورودھی اور سورن سمرتھک مانا جاتا ہے۔

ایس پی سنگھ کہتے ہیں که اس قدم سے تو بی جے پی نے ایک طرح سے دودھاری تلوار پر پیر رکھ دیا ہے۔ سورنوں کا بھی بھروسہ کھو دیا ہے اور اب اس پر دلتوں پچھڑوں کا بھروسہ بھی کم ہو جائیگا۔ حالانکہ جانکاروں کا یہ بھی کہنا ہے که رام مندر پر بیکپھٹ پر چل رہی بی جے پی کو سورن آرکشن کا مدعا ایک بار پھر آکرامک مورچے پر لا سکےگا۔

یہی نہیں,سرکار کے اس قدم سے انوسوچت جاتی/جنجاتی کے مدعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بدلنے سے سورنوں میں اپجی ناراضگی بھی کچھ حد تک دور ہو سکتی ہے,لیکن یہ سب تبھی سمبھو ہے جب آرکشن نہ صرف سنسد میں پارت ہو جائے بلکہ اسکے لاگو ہونے کی پرکریا بھی پوری ہو جائے۔

اس سنودھان سنشودھن ودھیک کا حشر کچھ بھی ہو لیکن اتنا تو تے ہے که سورن آرکشن بھی آگامی لوک سبھا چناؤ میں ایک اہم مدعا ہوگا۔ بی جے پی کو فائدہ ملیگا یا نقصان,چناؤ میں متداتا اسے تے کر دینگے۔
رپورٹ:سمیراتمج مشر

-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation