Loading...
سیکس کوچ کے پاس کیوں جانے لگے ہیں اتنے روسی| russia | Webdunia Hindi

سیکس کوچ کے پاس کیوں جانے لگے ہیں اتنے روسی

پن سنشودھت شنیوار, 11مئی2019 (10:59 IST)
کے ٹیبو کو توڑنے کی کوشش میں آج ادھک سے ادھک سنکھیا میں روسی لوگ سیکس کوچنگ کے لئے جانے لگے ہیں۔ کوچ بھی سکھا رہے ہیں که کیسے اپنی یون اچھاؤں کو کھل کر ظاہر کیا جائے۔

اروٹک سیکس ٹائیج سے گھرے کمروں میں اکثر لوگ ماسکو میں کسی عمارت کے بیسمینٹ میں کلاس اٹینڈ کرتے ہیں۔ دیوار پر وہائٹبورڈ کے پاس کھڑا سیکس کوچ انہیں سکھاتا ہے که کیسے وہ اپنی یون اچھاؤں کو کھل کر ظاہر کریں۔ ایسا ہی ایک کورس کرنے والی ایک"چھاترا",جو طلاق شدہ ہے اور جسکی عمر قریب45سال ہے,بتاتی ہے, "اب تو میں جاننا ہی چاہتی ہوں که مہلا کی سنتشٹی کیا ہوتی ہے۔ یون سکھ کیا ہوتا ہے۔"

اس بارے میں ساروجنک روپ سے نہ تو سوویت کال میں بات ہوتی تھی اور نہ ہی حال کے سالوں میں جب سرکاریں سماج میں ایک سے ایک دقیانوسی مولیوں کو بڑھاوا دینے میں لگی رہی۔ ایسے میں سیکس پر کھل کر بات کرنا تو دور,اسکا ذکر بھی مشکل سے ہی ہوتا تھا۔ مگر آج کئی ٹی وی کاریہ کرموں اور مہلا پترکاؤں میں لوگوں کو انکی شرمندگی سے باہر نکل کر یون سکھوں کے بارے میں بات کرنے,سیکسولاجسٹ کے ساتھ ٹریننگ کورس کرنے,سائکولاجسٹ اور تتھاکتھت سیکس کوچوں سے پرامرش لینے کو پریرت کیا جا رہا ہے۔

ایسی ہی ایک سائکولاجسٹ ایوں سیکسولاجسٹ وکٹوریہ ایکاٹیرینا پھرانک کہتی ہیں, "انکے کورس کا لکشیہ لوگوں کو سیکس کی مدرائیں سکھانا نہیں بلکہ مہلاؤں کے دماغ میں گہری بسی ہوئی سوچ کو بدلنا ہے۔"وہ بتاتی ہیں که کئی مہلائیں تو"سیکس کے بارے میں بات کرنے میں اتنی شرمندگی محسوس کرتی ہیں که انہیں سانسیں مشکل سے آتی ہیں۔


سوویت سنگھ کو ٹوٹے ہوئے قریب تین دشک ہو گئے ہیں لیکن روسی سماج اب بھی سیکس کے ٹیبو کو لیکر اسی یگ میں جی رہا ہے۔ اس کال میں اس وچار کو بڑھاوا دیا گیا که"سیکس کیول پرجنن کے لئے ہونا چاہئیے۔"سماجشاستری ییلینا کوچکینا بتاتی ہیں, "اسکا ارتھ یہ ہوا که یونکتا کو لیکر نہ تو پریوار میں اور نہ ہی سکول میں کوئی بات ہوتی تھی۔"

بھلے ہی ساروجنک روپ سے بات نہ ہو لیکن سماجشاستری دمتری روگوجین کہتے ہیں که سوویت کال میں لوگ"شائد کچھ زیادہ ہی سیکس کر رہے تھے۔"رشین اکیڈمی آف سائنسیج میں پڑھانے والے پروفیسر روگوجین بتاتے ہیں سوویت کال میں خوب گربھ پات کروائے جاتے کیونکہ تب اسکی گولیاں یا کنڈوم اپلبدھ نہیں تھے۔


1990کے شروعاتی دشک تک یہاں گربھ پات کی در دنیا میں سب سے اونچی ہو گئی تھی۔ پھر1991میں سوویت سنگھ کے وگھٹن کے ساتھ ہی وہاں سیکس انڈسٹری اچانک پھلنی پھولنی شروع ہو گئی۔ سنیما اور ویڈیو کیسٹ میں کامک پھلمیں بکنے لگیں,اتیجک تصویروں والی پترکائیں اور پرچار پاپلر پریس کا حصہ بن گئے۔

سیکس کوچ ییلینا ردکنا بتاتی ہیں که اس شروعاتی دلچسپی کے دھماکے کے بعد لوگوں کو دھیرے دھیرے اس سے بوریت ہونے لگی۔ وہ بتاتی ہیں, "پچھلے10سالوں سے دیش کی راجنیتی میں بھی یونکتا پر کھل بات کرنے کے بجائے پارمپرک پریوارک مولیوں کو ہی بڑھاوا دینے پر زور رہا ہے۔"


حالانکہ اب وہ سیکس سے جڑے مدعوں کو لیکر ایک"اصل مانگ"اٹھتی دیکھ رہی ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کهمیں سیکس کے بارے میں بلاگنگ کرنے کا ٹرینڈ بھی زور پکڑ چکا ہے۔ تین سال پہلے ایسا ہی ایک بلاگ شروع کرنے والی تاتیانا دمترییوا بتاتی ہیں تب ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں اس وشیہ پر گمبھیرتا سے بات ہو سکے۔ وہ کہتی ہیں که"میں اسے بدلنا چاہتی تھی,اسکے اردگرد سنواد شروع کرنا چاہتی تھی۔"
آر پی/ایئے(ایئیپھپی)


 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation