Loading...
کہاں غائب ہو رہے ہیں پاکستان کے شیعہ مسلمان| shia muslim in pakistan | Webdunia Hindi

کہاں غائب ہو رہے ہیں پاکستان کے شیعہ مسلمان

shia muslim in pakistan
پن سنشودھت بدھوار, 10جولائی2019 (18:37 IST)
پچھلے کچھ سالوں سےمیں شیعہ مسلمانوں کے غائب ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ شیعہ کاریہ کرتا دعویٰ کر رہے ہیں کهاور سیریا سے لوٹنے کے بعد انہیں دیش کی خفیہ ایجینسیوں نے اٹھایا ہے۔
پاکستانی پرشاسن کا کہنا ہے که کئی"گمشدہ لوگ"ووادگرست شیتروں مثلاً افغانستان,عراق اور سیریا جانے کے بعد کبھی پاکستان واپس لوٹ کر ہی نہیں آئے۔ وہیں ساماجک کاریہ کرتاؤں کا دعویٰ ہے که جو لوگ واپس آئے ہیں انہیں سرکشا ایجینسیوں نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ کاریہ کرتاؤں کے مطابق گمشدہ لوگوں کے پریوار والوں کو بھی انکے بارے میں نہیں پتہ۔

سال2010میں سیریا میں وواد شروع ہونے کے بعد دنیا بھر سے کئی سارے لوگ مدھیہ پورو کی اور گئے۔ ان میں سے کچھ آتنکوادی سنگٹھن اسلامک سٹیٹ(آئییس)میں شامل ہوئے,وہیں کچھ نے ایران سمرتھت سیریا کے راشٹرپتی بشر ال اسد کے پکش میں ہتھیار اٹھائے۔

پاکستان میں سکریہ شیعہ سنستھاؤں کا کہنا ہے که پاکستان,سیریا کے ساتھ ان سمبندھوں کا بہانہ دیکر شیعہ مسلمانوں پر نشانہ سادھ رہا ہے۔ پاکستان کی تقریباً20کروڑ کی آبادی میں لگ بھگ10فیصدی حصہ شیعہ مسلمانوں کا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں شیعہ کاریہ کرتا راشد رجوی نے کہا, "ادھکتر گمشدہ شیعہ مسلمانوں کی کوئی اگروادی پرشٹھبھومی نہیں ہے۔ ہم اس سنبھاونا سے انکار نہیں کر رہے ہیں که کچھ لوگ شاسن کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کے لئے سیریا گئے تھے۔ لیکن وہیں150-160گمشدہ لوگ اپنے پوتر ستھلوں کی یاترا کرنے بھی ایران,عراق اور سیریا گئے تھے۔"۔ انہوں نے کہا که اگر کسی نے اپرادھ کیا بھی ہے تو اسے قانونی پرکریاؤں کے لئے عدالت کے سمکش پیش کرنا چاہئیے۔
پاکستان,ایک سنی بہل دیش ہے جو سعودی عرب کا قریبی ہے۔ سعودی عرب اور ایران,مدھیہ پورو میں کئی ووادوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہیں پاکستان کے شیعہ مسلمان سعودی پاکستان رشتے کا ورودھ کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام آباد کہتا رہا ہے که اسکے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ اچھے سمبندھ ہیں۔

تکلیف اور انتظار
60سال کی سبیہا جعفر پاکستان کے دکشنی شہر کراچی میں رہتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا که تقریباً ایک سال سے وہ چین کی نیند نہیں سوتی ہیں۔ سبیہا بتاتی ہیں که پچھلے ایک سال سے وہ اپنے32سال کے بیٹے سید علی میہدی کے گھر لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ پیشے سے ٹیکسی ڈرائیور میہدی سال2010میں دبئی گیا تھا اور پھر ستمبر2017تک پاکستان لوٹ آیا۔ پریوار کے مطابق مارچ2018میں نقاب پوش سرکشا ادھیکاریوں نے اسکا راستہ روکا اور اسے اٹھا کر لے گئے۔ اس وقت پریوار والوں سے کہا گیا که پوچھ تاچھ کے بعد اسے چھوڑ دیا جائیگا۔
میہدی کی ماں نے بتایا که انکے پریوار نے کئی سارے سرکاری ادھیکاریوں سے سمپرک کیا۔ ساتھ ہی گمشدہ لوگوں سے جڑی کورٹ کی سنوائی بھی سنی تاکہ انہیں میہدی کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے۔

سبیہا کے بیٹے کی طرح ہی کراچی کے سید ممتاج بھی لاپتہ ہیں۔ انکی پتنی پچھلے لمبے وقت سے اپنے57سال کے پتی کے لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ ممتاج پاکستان سیما کے نکٹ کویٹا گئے تھے۔ پرواروالوں نے بتایا که سال2018میں جب وہ کاروباری یاترا سے واپس آ رہے تھے تبھی وہ غائب ہو گئے۔
انکی پتنی نے ڈی ڈبلیو سے کہا, "ہم پورے دن انہیں ڈھونڈے رہے۔ آخر میں ہم نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑ لیا جس نے ہمیں بتایا که میرے پتی کو سرکشا ادھیکاریوں نے پکڑ لیا۔"اسکے بعد سے ہی پریوار نے انکا پتہ لگانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا لیکن سب بینتیجا رہا۔

سرکشا کے مسئلے
ادھیکار سموہ پاکستان کی سرکشا ایجینسیوں پر لوگوں کو غائب کرنے کا آروپ لگا رہے ہیں۔ وہیں سینا کے رٹائر جنرل اور رکشا وشلیشک امجد شعیب ایسے معاملوں میں سینا کے دخل سے پوری طرح انکار کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں شعیب نے کہا, "عراق اور سیریا میں اب بھی ایران سے سمرتھن پراپت ملشیا اپنے آپریشن چلا رہے ہیں۔ ایسے میں سمبھو ہے که یہ لاپتہ لوگ اب بھی مدھیہ پوروی دیشوں میں ہی ہوں۔"انہوں نے کہا که شیعہ سمودائے نے کبھی بھی پاکستان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تو رکشا ایجنسیاں انہیں کیوں نشانہ بنائیگی۔ شعیب کے مطابق, "رکشا ایجینسیوں پر لگائے جا رہے سبھی آروپ بےبنیاد ہیں۔"
رکشا وشلیشک احسان رجہ نے کہا که لوگ پاکستان میں غائب ہوتے رہے ہیں لیکن انکے پیچھے کون ہوتا ہے اس پر سب کی الگ رائے ہے۔ رجہ نے ڈی ڈبلیو سے کہا, "کچھ شیعہ یووا یہ مانتے ہیں که اسلام میں شامل پوتر ستھلوں کی رکشا کرنا انکا دھارمک کرتویہ ہے۔ اس سوچ کے ساتھ وہ اس تتھیہ کو نکار دیتے ہیں که وہ پاکستان سے ہے اور انہیں انیہ دیشوں کے آنترک مسئلوں میں دخل دینا انکا کام نہیں ہے۔"انہوں نے کہا, "سرکار کو اس سمسیا سے نپٹنے کے لئے شیعہ سنگٹھنوں اور مولویوں کو اپنے ساتھ جوڑنا چاہئیے۔"
رجہ نے بتایا که بیتے سالوں میں کئی پاکستانی جہاد چھیڑنے افغانستان گئے اور پھر پاکستان واپس لوٹ آئے۔
ان میں سے کئی طالبان,ال قاعدہ اور اسلامک سٹیٹ جیسے آتنکوادی سنگٹھنوں سے نجدیکیوں کے چلتے سرکشا کے لئے خطرہ بن گئے۔ انہوں نے کہا, "مجھے لگتا ہے که پاکستان سرکار کو ڈر ہے که جو لوگ سیریا اور عراق سے واپس آئے ہیں وہ سرکشا کے لئے کوئی خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اسلئے انہیں پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا جا رہا ہے یا سمبھو ہے که انہیں کٹرپنتھی راستے سے ہٹانے کے لئے کاریہ کرم چلا رہی ہے۔"
ایئے/اینار
رپورٹ ستار خان,اسلام آباد

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation