Loading...
چین کیوں کر رہا ہے'اسلام کو بدلنے'کی کوشش؟| Webdunia Hindi

چین کیوں کر رہا ہے'اسلام کو بدلنے'کی کوشش؟

کو چینی سبھیتا اور سماج کے انوروپ ڈھالنے کی کوششوں کے کارن چینی شاسن کی کافی آلوچنا ہو رہی ہے۔ لیکن کیا آج کی گلوبلائجڈ دنیا میںکا یہ مقصد پورا ہو پائیگا۔

نے اگلے پانچ سالوں میں اسلام کو اور چینی بنانے کی یوجنا کی گھوشنا کی ہے۔ سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس میں چھپی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے که4جنوری کو دیش کے آٹھ چینی پرانتوں سے اسلامک سنستھاؤں کے پرتندھیوں نے راجدھانی بیجنگ میں ہوئے ایک سیمنار میں حصہ لیا۔ اس سیمنار میں اس پر چرچا ہوئی که چینی طور طریقوں کے ساتھ اسلام کی کیسے سنگت کرائی جائے۔ ایک سرکاری ادھیکاری نے زور دیکر بتایا که چینی مسلمانوں کے لئے انکا راجنیتک رخ سدھارنے اور(کمیونسٹ)پارٹی کے نیترتو کا پالن کرنا کیوں اتنا اہم ہے۔

اس گھوشنا کے کچھ ہی دن پہلے چینی پولیس نے کتھت طور پر ینان پرانت کی تین انادھکرت مسجدوں میں چھاپہ مارا تھا۔ اس میں درجنوں شردھالوؤں کے گھائل ہونے اور40سے بھی ادھک لوگوں کے گرفتار کئے جانے کی خبر تھی۔

اوکلاہوما وشوودیالیہ میں چینی معاملوں کے وشیشگیہ ڈیوڈ سٹروپ نے ڈایچے ویلے کو بتایا که چینی سرکار اسلامی سموہوں کے اوپر اپنا شکنجہ کسنا چاہتی ہے اور ساروجنک جگہوں سے ایسی کسی بھی چیز کو ہٹانا چاہتی ہے جو باہر کی لگتی ہو۔ اسکا مطلب ہو سکتا ہے عربی بھاشا میں لکھے ہوئے ساروجنک سائن بورڈ ہٹانا اور عربی ڈیزائن والی مسجدوں کو بدلنا۔

سٹروپ نے کہا,اسکے علاوہ سرکار اور باتوں کو بھی سیدھے سیدھے نینترت کرنے کی کوشش کر سکتی ہے جیسے که دھرم کا پالن کیسے کیا جائے,خاص طور پر ہر ہفتے دیئے جانے والے مولویوں کے سندیش کو لیکر۔

بری یادیں
چین میں مسلمانوں کا بریشواش کرنے کے شوروں میں او مر بیکالی نے جو جھیلا,اسکی بری یادیں اب تک انکے دماغ سے نہیں نکلتیں۔ اسلامی چرمپنتھ سے نپٹنے کے نام پر چل رہے ان شوروں میں رکھے لوگوں کی سوچ کو پوری طرح بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

الگ تھلگ مسلمان
امریکہ کی پھراسٹبرگ سٹیٹ یونیورسٹی میں اتہاس کے پروفیسر ہایون ما کہتے ہیں که چینی سرکار کی ایسی کوششیں ودیشیوں کے پرتی گھرنا جیسی دکھتی ہیں۔ انکا ماننا ہے که اس طرح ودیشی پربھاؤ کو کم کرتے کرتے چین کی کمیونسٹ پارٹی اسلام کو ایسے روپ میں لینا چاہتی ہے جو اصل میں ناستکتا کے قریب ہو۔

ما کہتے ہیں,وہ چینی مسلمانوں کو دوسرے مسلم دیشوں سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے شبدوں میں کہیں تو چین اپنے مسلم سمودائے کو الگ تھلگ کر رہا ہے,جبکہ دعوے ویشویکرن کو اپنانے کے کر رہا ہے۔

وشیشگیوں کا ماننا ہے که اسلام کا اس طرح چینیکرن کرنا اصل میں مسلمانوں پر بڑے سطر پر کارروائی کرنے کی یوجنا کا حصہ ہے,خاص طور پر شنجیانگ شیتر میں۔ کتھت طور پر قریب10لاکھ شنجیان مسلموں کو انٹرنمینٹ کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ ایسے قدموں کو لیکر چین کے دوسرے حصوں میں رہنے والے مسلمان چنتت ہیں۔ سرکار ان پریاسوں کو آتنکواد کو پنپنے سے روکنے کی کوششیں قرار دیتی ہے۔

باہری پربھاؤ
وشلیشک سٹروپ مانتے ہیں که انترراشٹریہ سمودائے کو چین پر مسلم سمودائے کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کرنے کا دباوٴ ڈالنا چاہئیے۔ وہ کہتے ہیں,اب تک انترراشٹریہ سمودائے اسے گمبھیرتا سے نہیں لے رہا ہے۔

ما کو لگتا ہے که اسلام کو اور چینی بنانے کی کوششیں شائد انتی سپھل نہ ہو پائیں۔ اسکا کارن
اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والا بیلٹ اینٹ روڈ انشئیٹو ہے,جو که انڈونیشیا,کجاکستان,پاکستان اور ترکی جیسے کئی مسلم پردھان دیشوں سے ہوکر جانا ہے۔

وشیشگیہ مانتے ہیں که امریکہ اپنے پربھاؤ کا استعمال کر چین پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ما کہتے ہیں,یہ سمبھو ہے که امریکہ اور انیہ پچھمی دیش باقی مسلم دیشوں کے ساتھ ملکر اس معاملے کو دیکھیں۔

ایک بڑے وواد کی شروعات؟
ما کو لگتا ہے که ستھانیہ پرشاسن اسلام کے اس'چینیکرن'میں بہت اہم بھومکا نبھا رہے ہیں۔ لیکن اسکے ساتھ کئی خطرے بھی جڑے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں ننگشیا اور ینان میں ستھانیہ پرشاسن اور مسلمان سمودائے کے بیچ کئی ہنسک مٹھبھیڑیں ہو چکی ہیں۔ کئی ہاؤشن نام کے ایک ہوئی مسلمان کوی نے ڈایچے ویلے کو بتایا که مسلم سمودائے چینیکرن کی ایسی کوششوں کو اتنی آسانی سے سویکار نہیں کریگا۔ کئی کو لگتا ہے که ایسی کوششیں بھوشیہ میں ایک بڑے وواد کا روپ لے سکتی ہیں۔

ولیم یانگ(تائپے) /آر پی

-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation