Loading...
چناؤ کی نیلی سیاہی پر کالے داغ| West Bengal Elections 2019 | Webdunia Hindi

چناؤ کی نیلی سیاہی پر کالے داغ

election 2019
پن سنشودھت سوموار, 13مئی2019 (17:44 IST)
بھارت میں چناوی دھاندھلی روکنے کے لئے ووٹروں کی انگلی پر استعمال ہونے والی سیاہی کی گنوتا پر ہر چناؤ میں سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اس بار بھی دیش کے کئی حصوں سے اسکے ترنت صاف ہو جانے کی شکائتیں مل رہی ہیں۔
چناؤ آیوگ ان شکایتوں کو خارج کرتا رہا ہے۔ پورو چناؤ آیکت نسیم زیدی سمیت کئی لوگوں نے اس معاملے کی جانچ کی مانگ اٹھائی ہے۔ ووٹروں کی انگلی پر یہ سیاہی لگانے کا مقصد چناوی دھاندھلی کو روکنا تھا۔ یہ سیاہی اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں رہی ہے۔ حال میں دکشن افریقی چناووں میں بھی اس امٹ سیاہی کی گنوتا پر سوال اٹھاتے ہوئے تمام راجنیتک دلوں نے بھاری ہنگامہ کیا ہے۔
امٹ سیاہی کی شروعات
بھارت میں ورش1962میں چناؤ آیوگ نے ودھی منترالیہ,نیشنل فزیکل لیبارٹری اور نیشنل ریسرچ ڈیولپمینٹ کارپوریشن کے ساتھ مل کر کرناٹک سرکار کے اپکرم میسور پینٹس کے ساتھ لوک سبھا و ودھان سبھا چناووں کے لئے امٹ سیاہی کی سپلائی کے قرار پر ہستاکشر کئے تھے۔ وہ کمپنی اسی سمیہ سے اس سیاہی کی سپلائی کرتی رہی ہے۔ کمپنی بھارت کے علاوہ25سے زیادہ یوروپیہ اور افریقی دیشوں کو بھی اس سیاہی کی سپلائی کرتی رہی ہے۔ اس سال لوک سبھا چناؤ کے پہلے اور دوسری چرن کے بعد ہی تمام حصوں سے لوگ محض نیل پالش رموور سے اس سیاہی کو مٹا کر اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے لگے۔ د کونٹ ویب سائٹ کی سنستھاپک اور مکھیہ کاریہ کاری ادھیکاری رتو کپور بھی ان میں شامل تھیں۔ اس ویب سائٹ نے اس بارے میں ایک رپورٹ بھی چھاپی تھی۔
ویسے تو پہلے بھی ایسی شکائتیں ملتی رہی ہیں۔ لیکن اب انکی باڑھ آ گئی ہے۔ بنگلرو کے آرکٹیکٹ پریکشت دلال نے تو بنگلرو اتر لوک سبھا شیتر کے چناؤ ادھیکاری سے اس بارے میں با قائدہ لکھت شکایت بھی کی ہے۔ دلال نے اپنی شکایت میں کہا ہے,ووٹ ڈالنے کے بعد میں نے صابن سے ہاتھ دھوئے اور یہ دیکھنے کے لئے نیل پالس رمیور کا استعمال کیا که سیاہی کا داغ مٹتا ہے یا نہیں۔
مجھے یہ دیکھ کر صدمہ لگا که یہ داغ پوری طرح مٹ گیا ہے۔
جانچ کی مانگ
اب ایسی شکائتیں بڑھنے کے بعد تمام لوگوں اور سنگٹھنوں نے اس سیاہی کی گنوتا کی جانچ کرنے کی مانگ کی ہے۔ پورو مکھیہ چناؤ آیکت نسیم زیدی کہتے ہیں,اس معاملے کی جانچ کی جانی چاہئیے اور اگر کوئی دو بار ووٹ ڈالنے کے لئے اس سیاہی کو مٹانے میں سپھل رہتا ہے تو چناؤ قانون کے سمبندھت پراودھانوں کے تحت پولیس میں پراتھمکی درج کرائی جانی چاہئیے۔ وشیشگیوں کا کہنا ہے که اس سیاہی کا جیونکال محض چھہ مہینوں کا ہے یعنی اسکے بعد یہ خراب ہو جاتی ہے۔
کانگریس کے پروکتا سنجے جھا نے بھی اس سیاہی کے آسانی سے مٹنے کی شکایت کی ہے۔ انکا کہنا تھا,متدان کرنے کے ایک گھنٹے بعد ہی نیل پالس رموور لگانے پر سیاہی غائب ہو گئی۔ انہوں نے متدان کے بعد کی اور انگلی پر سیاہی کا نشان مٹنے کی دو تصویریں بھی اپنے ٹوٹّر پر پوسٹ کی ہے۔ حیدرآباد کی ایک پترکار نے تو اس سیاہی کو مٹاتے ہوئے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ہے۔ انکے علاوہ دیش بھر کے کئی پترکاروں اور نیتاؤں نے ایسی تصویریں پوسٹ کی ہیں۔
چناؤ آیوگ نے اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلعے سے ایسی شکائتیں ملنے کے بعد جلا چناؤ ادھیکاری سے اس بارے میں رپورٹ بھی مانگی تھی۔ اپ چناؤٔ آیکت چندر بھوشن کمار کہتے ہیں, "ہر چناؤ سے پہلے اس سیاہی کو جانچ کے لئے کاؤنسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ یعنی سیئیسائیار کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے25سے زیادہ دیش اسی سیاہی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

اس سال لوک سبھا چناووں سے پہلے چناؤ آیوگ نے33کروڑ روپے دے کر اس سیاہی کی26لاکھ بوتلیں خریدی تھیں۔ دوسری اور,اس معاملے پر وواد بڑھتے دیکھ کر یہ سیاہی وکست کرنے والا سنگٹھن کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ بھی اسکے بچاو میں سامنے آیا ہے۔ دیش کے اس اگرنی شودھ و وکاس سنگٹھن کے مہاندیشک ڈا۔ شیکھر مانڈے کہتے ہیں, "ہم نے1960کی شروعات میں اس سیاہی کو وکست کر یہ تکنیک میسور پینٹس اینڈ وارنس لمڈیٹ کو سونپ دی تھی۔ اسی سمیہ سے کمپنی ہر چناؤ میں اسکی سپلائی کرتی رہی ہے۔ اب تک اربوں لوگوں نے اسکا استعمال کیا ہے۔ اس پر سندیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔"
اس امٹ سیاہی کی سپلائی کرنے والی کمپنی میسور پینٹس نے بھی اس وواد پر اپنی صفائی دی ہے۔ کمپنی کے مہاپربندھک(وپنن)ایچ۔ کمار کہتے ہیں, "چناؤ آیوگ کی مانگ کے آدھار پر ہم نے بہترین کوالٹی کی سیاہی کی سپلائی کر دی ہے۔ ایک ادھ متدان کیندروں میں شکایت ہو سکتی ہے۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ اسکے علاوہ ہمیں زمینی حقیقت کے بارے میں جانکاری نہیں ہے۔"دھیان رہے که یہ کمپنی بھارت کے علاوہ یو کے,ترکی,نیپال,گھانا,دکشن افریقہ,ڈنمارک,رپبلک آف بینن,آئوری کوسٹ اور ملیشیا سمیت کئی دیشوں کو اس سیاہی کی سپلائی کرتی ہے۔
راجنیتک پریویکشک وشوناتھ پنڈت کہتے ہیں, "اس نیلی سیاہی پر ہر چناؤ میں لگتے کالے داغ یا آروپ لوکتنتر کے ہت میں نہیں ہے۔ چناؤ آیوگ کو ان شکایتوں کی جانچ کر خامیوں کو درست کرنے کی دشا میں ٹھوس پہل کرنی چاہئیے۔ ایسا نہیں ہونے کی ستھتی میں انگلی پر سیاہی لگانا ہی بیمکسد ہو جائیگا۔”

رپورٹ پربھاکر,کولکاتہ

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation