Loading...
بدلتے وقت کی بیسواد اتسکتا| Webdunia Hindi

بدلتے وقت کی بیسواد اتسکتا

No Image Found
WD|
 پریتی سونی جن چیزوں کے لئے مہینوں کا انتظار کیا جاتا تھا,اب وہ سبھی چیزیں دینک جندگی کا حصہ بن کر رہ گئیں ہیں۔ اتسکتا کو جنم دیتی وہ ساری باتیں,جو کبھی اتسو سے کم نہیں ہوتی تھی,اب ایک سامانیہ کریا ہوکر رہ گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اس پرورتن سے ہمارے جیون کا ایک حصہ رنگہین ضرور ہوا ہے۔ 
> > جب کوئی چیز آسانی سے اور ادھی‍ک سنکھیا میں اپلبدھ ہوتی ہے,تو اسکی مہتہ کم ہو ہی جاتی ہے۔ سمیہ کے ساتھ ساتھ ہمارے جیون کی ایسی کئی چیزوں,رسم رواز اور طریقوں میں بدلاؤ آ گیا ہے,جو اب پہلے کی طرح پرسنتا نہیں دیتے۔ بچپن میں جن باتوں کے لئے من میں اتسکتا ہوا کرتی تھی,اب وہ ساری باتیں عام ہو چلیں ہیں۔ ایک نظر ڈالتے ہیں جیون کے ان پہلوؤں پر,جو کبھی اپنے آپ میں بیحد م‍ہتوپورن,اتسکتا سے پرپورن اور اتسو کی طرح منائے جاتے تھے,لیکن ورتمان میں کیول ضرورت اور کئی بار غیر ضروری ولاستا کا روپ لے چکے ہیں۔
 
نئے کپڑوں کی اتسکتا-
یاد کرتے ہیں ان دنوں کو جب ہم چھوٹے تھے۔ اس وقت ہم نئے کپڑے تبھی خریدتے تھے,جب ہمارا جنم دن,کوئی تیوہار یا قریبی رشتےدار کے گھر کوئی وواہ سماروہ ہو۔ اس سمیہ نئے کپڑوں کے لئے مہینوں کا انتظار کیا جاتا تھا۔ جب بھی نئے کپڑے خریدنے نکلتے تھے,من میں اپار اتساہ اور خوشی ہوتی تھی۔ مہینوں میں ایک بار لی‍اے جانے والے کپڑے...کوالٹی,سائز اور کلر سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی فیشن پر اتنا زیادہ فوکس ہوتا تھا۔ لیکن ورتمان سمیہ میں آج ادھکانش یووا ہر سپتاہ یا ہر مہینے نئے پکڑے خرید لیا کرتے ہیں۔ اسکے لئے کسی شبھ موقعے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب نئے کپڑے موقعے کے بجائے من پر نربھر کرتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے,که شوق اور فیشن ضرور مہتوپورن ہے,لیکن اب وہ اتسکتا محسوس نہیں کی جا سکتی,جو پہلے کھریدداری کے لئے گھر سے نکلتے ہی ہوا کرتی تھی۔ بلکہ اس وقت گھر سے نکلنا ہی ادیشیہ سے ہوتا تھا,اور اب نرودیشیہ بھی کپڑوں کی خریدی ہو جاتی ہے۔

 
 
جوتے چپلوں کی ضرورت
بچے ہوں یا بڑے,سبھی کے لئے سال یا6مہینے میں ایک بار چپل جوتے لے لئے جاتے تھے,جو آرام سے اگلے6مہینے یا سال بھر تک چل جایا کرتے تھے۔ بچوں کے سکول کےبھی ایسے ہی ہوتے تھے جو ادھک سمیہ تک چل جائے۔ ابھی جہاں جوتے چپلوں کی ڈیزائن اور سٹائل پر دھیان دیا جاتا ہے,اس سمیہ اس بات پر زیادہ دھیان دیا جاتا تھا,که چپلیں ٹکاؤ کتنی ہے۔ ایک ہی چپل کسی بھی کپڑوں پر پہن لیا کرتے تھے۔اب میچنگ پھٹویئر کے زمانے میں گھر میں جوتے چپلوں کا ڈھیر ضرور لگ جاتا ہے,لیکن انمیں سے کچھ ہی لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہوتی ہیں۔ کئی تو ایسی بھی نکل جاتی ہے,جو مہینے بھر میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔ اب دوکانوں کو بھی وشوسنیتا کے آدھار پر نہیں چنا جاتا,بلکہ ویرائٹی آف سٹاک کے انوپات,انوسار چنا جاتا ہے۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation