Loading...
رکشا بندھن:مائکے کی لال منڈیر پر سبکتی چڑیا| Webdunia Hindi

رکشا بندھن:مائکے کی لال منڈیر پر سبکتی چڑیا


ساون کا رم جھم رم جھم موسم۔ بادلوں کی آنکھ مچولی۔ پکوانوں کی بھینی خوشبو اور پارشو میں بجتا'اب کے برس بھیج بھیا کو بابل..ساون میں لی جو بلائے رے...۔'ایسے دلکش ماحول میں من کیسا کچا کچا ہو جاتا ہے۔ دورستھ انچل میں بیاہی بیٹیاں بھیتر ہی بھیتر چھٹپٹانے لگتی ہیں۔
'کاش ہوتی میں ایک چڑیا...!
جیسے اڑ آئی بابل کے آنگن سے
پھر اڑ جاتی...
...اور بیٹھ جاتی ماٹی کی
ان گڑھ لال منڈیر پر
دیتی آواز پوجاگھر میں چندن گھستی دادی کو,
پنجرے میں کٹوری بجاتے ہیرامن طوطے کو,
چارے کے لئے رمبھاتی شیاما گائے کو
اور سب سے پہلے اپنے'انمول رتن'بھیا کو...۔
دیکھو...آ گئی میں۔
سسرال کے بندھنوں کو چھوڑکر,
اس پاون پرو کی مریادہ نبھانے
اپنے آکل من کو جوڑکر...۔
کنتو ہائے رے یتھارتھ! کیا اتنا آسان ہے سب کچھ؟ نہ جانے کتنی ایسی بےبس سلونی بہنیں ہیں,جن کے کشٹوں کا انداز نہیں لگایا جا سکتا۔ راکھی کے پرو کو نبھانے کے لئے وہ کتنے مورچوں پر اکیلی لڑتی ہیں؟

سال بھر کی اپنی سموچی اکلاہٹ پر نینترن رکھتی,اس ایک دن کا انتظار کرتی یہ'درد کی گٹھریاں'ساون لگتے ہی پتی کو منانے لگ جاتی ہیں۔

گپ چپ پیسے جوڑتی,بچوں کے کپڑے,بنواتی یہ بھاوبھری بھگنیاں کشکائے ہوتے ہوئے بھی اپنی درڑھتا نہیں چھوڑتی۔ کسی طرح ماحول بناتی ہیں مائکے جانے کا۔ مائکے,جہاں ماتا پتا کی ترستی کمزور آنکھوں کے سوا شائد ہی کسی کو انتظار ہوتا ہے اسکے آنے کا۔ پراتھمکتائیں بدل گئی ہیں,رشتے کب تک بندھے رہینگے کچے ریشم دھاگے میں؟ سپنجی راکھی پر چپکے ٹیگ'میرے پیارے بھیا'سے کیا بہنیں بھی پیاری ہو جاتی ہیں؟
اپواد سمبھو ہے,کنتو کسی غریب پریوار میں بیاہی بہن کے کانپتے کلیجے میں جھانکیں,اپنوں سے ملے درد اور کسیلے انوبھووں کا رستہ جھرنا پھوٹ کر بہہ نکلیگا۔

اس چھور سے اس چھور تک ڈولتی ان کمنیہ بالاؤں کی پیڑا یہ ہے که انکی پیڑا'پیڑا'نہیں سمجھی جاتی۔ قسمت اور کرموں کا پھل نروپت کر دی جاتی ہے۔ اس چھور پر سسرال ہے,اس چھور پر مایکا اور وہ ہے جو'شٹل کاک'بنی ایک دوسرے پر پھینکی جاتی ہے۔ ان دونوں چھوروں سے۔
صرف ایک بار نظریں عنایت کیجئے ان درشیوں پر۔ کیونکہ بہنیں ان درشیوں سے کبھی پردہ نہیں اٹھاتیں:

درشیہ ایک:جس دن مائکے نکلنا ہے۔

پتی صبح سے غائب۔ دھلائی کے لئے روز سے زیادہ کپڑے۔ مانجنے کے لئے اترکت برتن۔ گھر کے انیہ سدسیوں دوارہ بچوں پر جھنجھلاہٹ۔ چاروں طرف اویکت تناؤ,پیڑا اور کڑواہٹ۔ مانو تیوہار پر نہیں بلکہ... (?)نہیں...نہیں! ایسے پاون اوسر پر بھلا اتنی اشبھ بات کیسے سوچ سکتے ہیں؟ پر ماحول تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
درشیہ دو:اسٹیشن۔

پتی یدی چھوڑنے آئے تو کھنتا سپشٹ نظر آتی ہے 'جلدی آ جانا۔ بہن دو دن کے لئے آتی ہے اسے ہی کام کرنا پڑتا ہے...۔' 'کیوں؟ میں کسی کی بہن نہیں ہوں؟ میرے لئے تیوہار نہیں ہے؟ پرشنوں کو پی جاتی ہے۔ مائکے کا الاس ساری پیڑا ہر لیتا ہے۔ سفر میں بچپن کی میٹھی سمرتیاں ہلوریں لینے لگتی ہیں۔ بھولے جھگڑے,اٹھاپٹک,مستی,جھولے اور دھولدھسرت کھیلوں کی یادوں کے مخملی ٹکڑے سطح پر تیرنے لگتے ہیں۔
آنکھوں میں دھواں سا بھر اٹھتا ہے۔ کلپنا اڑان بھرنے لگتی ہے۔ آس کا پنچھی پھدک پھدککر چہکنے لگتا ہے۔ بھیا لینے آئینگے,یا بھتیجا؟ بھیا ہی آئینگے۔ کہیں گے کتنی کمزور ہو گئی ہے؟ وہ شرما کر سمٹ جائیگی اور بچوں سے پیر چھونے کو کہےگی۔

درشیہ تین:اپنا شہر۔

بہت کچھ بدل گیا ہے۔ سامان سہت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کھوجتی ہیں۔ کوئی نہیں آیا۔ بچے پوچھتے ہیں۔'ماما جی نہیں آئے؟'کلیجہ بھر آتا ہے۔ کسی طرح من کو تسلی دیتی ہیں,شائد ویست ہو نگے۔
درشیہ چار:گھر کی دہلیز پر۔

کوئی پرتیکشارت نہیں۔ بس,وہی اپنی ساری آکلتا اور خوشی دبائے دستک دے رہی ہے۔ بھائی دروازے پر۔ کنچت مسکان پل بھر ٹھہرتی ہے ہوٹھوں پر,آ گئی؟ میں آنے والا تھا۔ ایک سرکاری کام آ گیا۔(نہ جانے یہ سارے سرکاری کام رشتوں میں ہی آڑے کیوں آتے ہیں؟)بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ دامادجی کیسے ہیں؟ تمہاری بھابھی مائکے گئی ہے۔

رشتے ٹھنڈے,بات چیت بیجان,بیدم آواز,ماحول انجان۔ کچھ درکتا ہے من میں,پر وہ سمیٹ لیتی ہے تیزی سے۔
درشیہ پانچ: کا دن۔

شبھ مہورت۔ بھائی کی آواز 'لے باندھ جلدی سے راکھی,پھر مجھے سیما(منہ بولی بہن)کے یہاں جانا ہے۔ جلدی جلدی سجاتی ہے تھالی۔ راکھی,پھندے,ناریل,کن کو,اکشت,دیپک,گھیور,پھینی,سپاری,رومال,ٹوپی...۔(آج کل ٹوپی کون لگاتا ہے؟ پھر بھی...)

تلک لگاتے ہوئے کتنے شبھ آشیرواد اور منگل کامنائیں امڑتی ہیں اور بھائی؟ بھاگنے کو تت پر۔
نہ تلک سے بھائی کا چہرہ دمکتا ہے۔ نہ گھیور کی مٹھاس رشتوں کا سواد بدلتی ہے۔ نہ دیپک آتمیتا کی پوتر جیوت جگاتا ہے۔ نہ رنگ برنگے راکھیپھندے دلوں میں اندردھنش کھینچتے ہیں۔ پیسوں کی بھینٹ تھالی میں رکھ بھائی اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ نہ'وہ'منا کرتی ہے۔ نہ'وہ'منہار کرتا ہے۔ سب کچھ ایک مشینی ڈھنگ سے سمپن ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کی قور میں موتی جھلملا اٹھتا ہے۔ اور وہ سہیج لیتی ہے رپئے۔ بچے منھ دیکھتے ہیں,ماما جی نے کچھ نہیں دیا۔
پھنستا ہے کچھ گلے میں۔ بالکل نہ چاہتے ہوئے بھی بہن حساب لگا ہی لیتی ہے۔ کتنے رپئے خرچ ہو گئے یہاں آنے میں۔ پیسوں سے نہ صحیح شبدوں اور بھاوناؤں سے تو بدلہ چکاتا میرے پیار کا,میری انوبھوتیوں کا۔

دو گھڑی تو پاس بیٹھتا۔ مجھ سے باتیں کرتا۔ بچوں کو سہلاتا۔ آخر کیوں آئی وہ؟ کیا ملا اسکے ہاردک سنگھرش کا پرتپھل؟


درشیہ سادھارن سے ہیں۔ سادھارن بہنوں کی اسادھارن بھاوناؤں کے آس پاس گنتھے۔ لیکن کیا آپ کا کلیجہ نہیں چھیدتے؟ وقت بدلہ ہے۔ بہنیں بھی بدلی ہیں۔ آچار وچار سے,آدان پردان سے,ابھویکتی اور پردھان سے۔ انٹرنیٹ پر راکھیاں بھیجتی بند اس بہنوں سے لیکر بھایئوں کے لئے چاندی سونے کے مترتا بیلٹ خریدتی شوخ بہنوں تک۔
پر کیا آپنے اپنے شہر کے کاسمیٹک بازاروں میں اس موسم میں ڈولتی ان بہنوں کو دیکھا ہے,جو نقلی ہنسی اور نقلی زیوروں کے ساتھ بھائی کے لئے سندر سے سندر راکھی تلاشتی ہیں؟

سدھ بدھ کھوتی ان بہنوں کو دیکھ کر لگتا ہے برسوں سے پنجرے میں قید مینائیں ہیں,جو الپ سمیہ کے لئے ملی اس آزادی کو بھرپور جینا چاہتی ہیں۔ اپنے کومل پروں میں شہر کی اڑان بھر لینا چاہتی ہیں۔

اس اڑان کی میٹھی اور بھائی کے ویوہار کی کھٹی یادیں سہیجکر وہ خود اپنے پنجرے کا دوار کھولیگی اور سما جائیگی اس میں۔ سویں کو بھول کر۔ ایک ورش کے لئے۔ پنجرے میں کس سے کہےگی اپنی پیڑا؟
ایک استری کتنے روپوں میں کتنے سطر پر جیتی ہے۔ آج تک صحیح صحیح کوئی محسوس نہیں کر سکا ہے۔ اس پوتر پرو پر بھایئوں سے یہی اپیل ہے که بہن آپکے رپیوں,کپڑوں,آبھوشنوں اور اپہار کی آکانکشی نہیں ہے۔ وہ آپ سے ایسا کچھ نہیں چاہتی,جو آپ نہیں دے سکتے؟ وہ چاہتی ہے آپکی ایک میٹھی مسکان,پیار برساتی آنکھیں,من کو مضبوطی دیتے شبد اور ہمیشہ ساتھ دینے کا آشواسن دیتی گہری تھپکی۔

...جیسے آپ بچپن میں اسے دیا کرتے تھے۔ کیا اب بھی آنکھیں سوکھی اور دل خالی ہے؟...نہ...میں نہیں مانتی۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation