Loading...
Vijay Shankar Chaturvedi | Poems of Vijay Shankar Chaturvedi |وجیشنکر چترویدی
0

چاندنی کی رشمیوں سے چترت چھایائیں

رویوار,اکتوبر11, 2009
0
1

صرف ایک بار

شکروار,نومبر7, 2008
مجھے آنے دو ہنستے ہوئے اپنے گھر ایک بار میں پہنچنا چاہتا ہوں تمہاری کھلکھلاہٹ کے ٹھیک ٹھیک قریب جہاں تم موجود ہو پورے...
1
2

پریم ہمارا

شکروار,نومبر7, 2008
تم وہ پھول چڑھا سکتی تھیں مندر میں یا کھونس سکتی تھیں جوڑے میں مگر رکھ آئیں سمندر کنارے ریت پر میرا نام کھود کر....
2
3

کس کے نام ہے وصیت

شکروار,نومبر7, 2008
جھانجھ بجتی ہے تو بجے منجیرے کھڑکتے ہیں تو کھڑکتے رہیں لوگ کرتے رہیں رام دھن پنڈت کرتا رہے گیتا پاٹھ میرے سرہانے نہیں, ...
3
4

کھڑکی

شکروار,نومبر7, 2008
بابا کی کھڑکی سے ہوا چلی آتی ہے درختوں کے چمبن لے رات برات پہچان میں آتی ہیں دھونیاں مل جاتی ہے آہٹ آنیوالے...
4
4
5

چہرے تھے تو داڑھیاں تھیں

شنیوار,اکتوبر25, 2008
چہرے تھے تو داڑھیاں تھیں بوڑھے مسکراتے تھے موچھوں میں ہر یگ کی طرح ان میں سے کچھ جانا چاہتے تھے بیکنٹھ کچھ بہؤں سے...
5
6

آخر کب تک

شکروار,اکتوبر17, 2008
گانٹھ سے چھوٹ رہا ہے سمیہ ہم بھی چھوٹ رہے ہیں سفر میں
6
7

وجہ نہیں تھی اسکے جینے کی

شنیوار,اکتوبر11, 2008
پہلا تیکھا بہت کھاتا تھا اسلئے مر گیا دوسرا مر گیا بھات کھاتے کھاتے تیسرا مرا که دارو کی تھی اسے لت چوتھا نوکری کی تلاش میں...
7
8

سمیہ گزرنا ہے بہت

شنیوار,اکتوبر11, 2008
بہت گزرنا ہے سمیہ دسوں دشاؤں کو رہنا ہے ابھی یتھاوت کھنج اور تیل بھری دھرتی گھومتی رہنی ہے بہت دنوں تک ونسپتیوں میں...
8
8
9

کپاس کے پودے

شکروار,اکتوبر3, 2008
کپاس کے یہ ننھیں پودے کیاریدار جیسے اسنکھیہ لوگ بیٹھ گئے ہوں چھتریاں کھول کر پودھوں کو نہیں پتہ انکے کسان نے کر لی ہے...
9
10

مٹی کے لوندوں کا شہر

شکروار,اکتوبر3, 2008
انترکش میں بسی اندر نگری نہیں نہ ہی پرانوں میں ورنت کوئی گرام بنایا گیا اسے مٹی کے لوندوں سے راجا کا قلعہ...
10
11

دنیا ابھی جینے لائق ہے

شکروار,ستمبر26, 2008
میں سوچتا تھا پانی اتنا ہی صاف پلایا جائیگا جتنا ہوتا ہے جھرنوں کا چکتسک بالکل ایسی دوا دینگے جیسے ماں کے دودھ میں...
11
12

نوکری پانے کی عمر

شنیوار,ستمبر20, 2008
جن کی چلی جاتی ہے نوکری پانے کی عمر انکے آویدن پتر پڑے رہ جاتے ہیں دفتروں میں تانترک کی انگوٹھی بھی گرہوں میں...
12
13

جن ہت یاچکا

شنیوار,ستمبر20, 2008
نیایادھیش, نیائے کی بھویہ دویہ کرسی پر بیٹھ کر تم کرتے ہو فیصلہ سنسار کے چھلچھدم کا دمکتا ہے چہرہ تمہارا ستیہ کی...
13
14

بارش میں استری

شنیوار,ستمبر13, 2008
بارش ہے یا گھنا جنگل بانس کا اس پار ایک استری بہت دھندھلی میدان کے دوسرے سرے پر جھوپڑی جیسے سمندر کے بیچ کوئی...
14
15

قدم آتے ہیں

شنیوار,ستمبر13, 2008
قدم آتے ہیں گھسٹتے ہوئے لٹپٹاتے ہوئے قدم آتے ہیں قدم آتے ہیں بوٹدار کھڑاؤدار قدم آتے ہیں...
15
16

آتی تھیں ایسی چٹھیاں

شکروار,ستمبر12, 2008
آتی تھیں ایسی چٹھیاں جن میں بعد سماچار ہوتے تھے سکھد اپنی کشلتا کی کامنا کرتے ہوئے ہوتی تھیں ہماری کشلتا کی
16
17

چند آدم روپ

شنیوار,ستمبر6, 2008
باڑھ میں پھنسنے پر ویسے ہی بدکتے ہیں پشو جیسے عیسٰی سے کروڑ سال پہلے۔ ٹھیک ویسے ہی چوکنا ہوتا ہے ہرن شیر کی آہٹ...
17
18

جنمستھان

شنیوار,اگست9, 2008
کتنے عیسٰی کتنے بدھ کتنے رام کتنے رحمٰن
18
19

دیوتا ہیں تینتیس کروڑ

شنیوار,جولائی12, 2008
بہت دنوں سے دیوتا ہیں تینتیس کروڑ انکے حصے کا کھانا پینا نہیں گھٹتا وہ نہیں الجھتے کسی اکشانش دیشانتر میں وہ...
19


Web Tranliteration/Translation