Loading...
گرداسپر سیٹ:ابھنیہ و انبھو میں ہے روچک مقابلہ,سنی دیول کے سامنے ہیں سنیل جاکھڑ| Webdunia Hindi

گرداسپر سیٹ:ابھنیہ و انبھو میں ہے روچک مقابلہ,سنی دیول کے سامنے ہیں سنیل جاکھڑ

پن سنشودھت بدھوار, 15مئی2019 (17:24 IST)
گرداسپر۔ پنجاب کی پاکستان سے لگتی گرداسپر پٹھانکوٹ لوک سبھا سیٹ پر کانگریس کے پردیش ادھیکش سنیل جاکھڑ تتھا بھاجپا اکالی گٹھ بندھن کے پرتیاشی ابھینیتاکے بیچ کانٹے کی ٹکر ہے۔
اسکے علاوہ عام آدمی پارٹی کے پیٹر مسیح تتھا6دلوں کے پنجاب ڈیموکریٹک الائنس کے لالچند کٹاروچک بھی چناؤ میدان میں ہیں۔

پچھلی بار اس سیٹ پر لگاتار3لوک سبھا چناؤ جیتنے والے ونود کھنہ نے کانگریس کے پرتاپسنہ باجوا کو پٹخنی دی تھی۔ کھنہ نے یہ سیٹ5بار سانسد رہیں سکھبنس کور بھنڈر سے1998کے چناؤ میں چھینی تھی۔ اس سیٹ پر بھی کھنہ2009میں باجوا سے چناؤ ہار گئے تھے۔
کھنہ کے ندھن کے بعد2017میں ہوئے اپ چناؤٔ میں کانگریس کے پردیش ادھیکش سنیل جاکھڑ نے بھاجپا کے سورن سلاریا کو بھاری متوں کے انتر سے ہرایا تھا۔ اس بار بھاجپا کے ٹکٹ کے دعویداروں میں سلاریا,کھنہ کی پتنی کوتا کھنہ بھی دعویدار تھیں,لیکن پارٹی نے پھر سٹارڈم پر بھروسہ کرتے ہوئے ابھینیتا سنی دیول کو چناؤ میدان میں اتار دیا جس سے مقابلہ کافی دلچسپ ہو گیا ہے۔

حالانکہ کانگریس کے پردیش ادھیکش ایوں نورتمان سانسد سنیل جاکھڑ اپنی جیت کے پرتی اتنے آشوست تھے که وہ اپنے سنسدیہ شیتر کے پٹھانکوٹ علاقے میں لوگوں سے سنواد بھی ستھاپت نہیں کر پائے ہیں۔ پارٹی پردھان ہونے کے کارن وہ چناؤ جیتنے کے بعد اپنے شیتر پر زیادہ دھیان نہیں دے پائے۔ اب سمیہ اتنا کم ہے که وہ چاہ کر بھی سمیہ نہیں دے سکتے۔
اس شیتر کی9ودھان سبھا سیٹوں میں سے7پر کانگریس کا قبضہ ہے اور1بھاجپا تتھا1اکالی دل کے پاس ہے۔ ساتوں ودھایک کانگریس کو جتانے کے لئے خوب محنت کر رہے ہیں۔ مکھیہ منتری کیپٹن امریندر سنگھ بھی پچھلے2دنوں میں پرینکا گاندھی کے ساتھ روڑ شو تتھا جنسبھا کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی جاکھڑ کے لئے کیپٹن سنگھ پرچار کر چکے ہیں۔
کیپٹن سنگھ نے بھاجپا پرتیاشی کو اہنکاری بتاتے ہوئے کہا که سنی کو اپنے شیتر کی چنتا نہیں,دوسری جگہ جاکر پرچار کر رہے ہیں۔ چناؤ کے بعد دکھائی نہیں دینگے۔ پورا دیول پریوار بھی آ جائے تو بھی جاکھڑ کو ہرا نہیں سکتا۔ کیپٹن سنگھ نے تو ایک جنسبھا میں اعلان کر دیا که ایک دن جاکھڑ پردیش کے مکھیہ منتری بنینگے۔
جاکھڑ کا کہنا ہے که مودی کی سینا کے راجنیتکرن کی سوچ پر مجھے چنتا ہے۔ بھاجپا نے کرجماپھی کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہ کانگریس سرکار نے کسانوں کا قرض معاف کیا ہے تتھا کسان آتمہتیاؤں میں دو تہائی کی کمی آئی ہے۔ پلوامہ حملے کے سمیہ چوکیدار کہاں تھا؟ میرا مقابلہ کسی ابھینیتا سے نہیں ہے۔

انکا کہنا ہے که بادلوں نے10سال کے شاسن میں نشے کے کارن پوری پیڑھی کو تباہ کر دیا۔ گرگرنتھ صاحب کی بیئدبی تتھا فائرنگ کی گھٹنا کا راجیہ میں بڑا مدعا ہے۔ بادل صاحب اکال تخت پر معافی مانگنے کا ڈھونگ کرکے لوگوں کو مورکھ نہیں بنا سکتے۔
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی که وہ بھاوک ہوکر تتھا شکل دیکھ کر ووٹ نہ کریں بلکہ کام کے آدھار پر اور اپنی انترآتما کی آواز پر ووٹ دیں۔

راجنیتی کے میدان میں پہلی بار اترے ابھینیتا سنی دیول زیادہ کچھ بولنے کے بجائے کیول اتنا ہی کہتے ہیں که وہ یہاں بحث کرنے یا بھاشن دینے کے لئے نہیں آئے ہیں,وہ تو دیش تتھا لوگوں کی سیوا کے لئے آئے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے اپنے پرچار میں اپنے پرتدوندوی کے خلاف ایک بھی اپشبد نہیں بولا ہے تتھا وہ آدر ستکار کی بھاشا میں جواب دیتے ہیں۔ وہ لوگوں سے پردھان منتری نریندر مودی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
سنی دیول کہتے ہیں که انہوں نے نام,مان و شان خوب کمایا ہے اور وہ پیسہ کمانے راجنیتی میں نہیں آئے ہیں۔ میں پنجاب کا پتر ہوں اور پنجاب تتھا پنجابیوں کی سیوا کرنے آیا ہوں۔ میں کھنہ کے شروع کئے گئے پروجیکٹوں کو پورا کرونگا۔ انہیں لوگوں سے مل رہے بھرپور پیار پر بھروسہ ہے که جنتا نے جو مجھ پر بھروسہ جتایا ہے,وہی میری جیت کا کارن بنےگا۔

انکے پرچار کے لئے انکے پتا دھرمیندر تتھا بھائی بابی دیول بھی یہاں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ بھاجپا ادھیکش امت شاہ,کیندریہ منتری سشما سوراج,پیوش گوئل,ویکے سنگھ,اکالی دل ادھیکش سکھبیر بادل سہت بھاجپا اکالی گٹھ بندھن کے ورشٹھ نیتا انکے لئے پرچار کر رہے ہیں۔ دونوں سہیوگی دلوں کے کاریہ کرتا سبھی حلقوں میں پرچار کاریہ میں جٹے ہیں۔
سشما سوراج نے انکے سمرتھن میں آیوجت جنسبھا میں کہا تھا که پچھلی کانگریس سرکار ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے میں وپھل رہی لیکن مودی سرکار نے پلوامہ حملے کا بدلہ بالا کوٹ میں آتنکیوں کے شور کو نشٹ کرکے لیا۔ وہ تتھا ویکے سنگھ نے پورو سینکوں سے ملکر سنی کا سمرتھن کرنے کی اپیل کی۔

اس بار بھی چناؤ میں بارڈر ایریا کی شکشا,سواستھیہ,روزگار جیسے بنیادی سودھائیں پرچار سے ندارد ہیں۔ بس سبھی پارٹیوں میں آروپپرتیاروپوں اور بدجبانی کی جنگ جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے که بھاجپا اپنی سیٹ کو کانگریس سے چھین پاتی ہے یا کانگریس اسے برقرار رکھیگی؟ اس سیٹ پر متداتا قریب15لاکھ94ہزار ہیں,جو19مئی کو اپنا سانسد چننے کے لئے متادھکار کا استعمال کرینگے۔(وارتا)


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation