Loading...
مدھیہ پردیش میں ستا بدلنے والے مالوہنماڑ کی8لوک سبھا سیٹوں کا سیاسی سمیکرن| Webdunia Hindi

مدھیہ پردیش میں ستا بدلنے والے مالوہنماڑ کی8لوک سبھا سیٹوں کا سیاسی سمیکرن

بھوپال۔میں لوک سبھا چناؤ کے آخری چرن میں19مئی کو مالوہ نماڑ کی8سیٹوں پر متدان ہوگا۔ ان آٹھ سیٹوں پر جیت حاصل کرنے کے لئے بھاجپا اور کانگریس نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ پردھان منتری نریندر مودی,بھاجپا ادھیکش امت شاہ,کانگریس ادھیکش راہل اور پارٹی مہاسچو پرینکا گاندھی یہاں پر چناؤ پرچار کر چکے ہیں۔

اگر ان8سیٹوں کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو2018کے دسمبر مہینے میں ہوئے ودھان سبھا چناؤ میں کل64سیٹوں میں سے35پر کانگریس, 26پر بھاجپا اور3نردلیہ پرتیاشیوں نے جیت درج کی تھی جبکہ2013کے ودھان سبھا چناؤ میں مالوہ نماڑ کی64سیٹوں میں سے بھاجپا کے پاس54,کانگریس کے پاس9اور نردلیہ کے کھاتے میں صرف1سیٹ تھی۔ اگر اس انتر کو دیکھا جائے تو بی جے پی کو2013کے مقابلے28سیٹیں کم ملی تھیں,جبکہ کانگریس کو26سیٹوں پر بڑھت ملی۔ مدھیہ پردیش میں ستا بدلنے والے مالوہنماڑ کی8لوک سبھا سیٹوں کا سیاسی سمیکرن پر'ویبدنیا'کی خاص خبر...

1. لوک سبھا سیٹ: مندسور لوک سبھا سیٹ پر کانگریس امیدوار میناکشی نٹ راجن کا مکھیہ مقابلہ بھاجپا کے ورتمان سانسد سدھیر گپتا سے ہے۔ اگر ودھان سبھا چناؤ کی بات کریں تو بی جے پی نے7سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی وہیں کانگریس نے1سیٹ پر قبضہ کیا تھا۔ کسان گولی کانڈ کے کارن چرچا میں آئے مندسور میں بھاجپا نے ودھان سبھا میں اچھا پردرشن کر لوگوں کو چونکا دیا تھا۔ اس بار ٹھیک چناؤ کے سمیہ کسان قرض معافی کو لیکر جو سیاست شروع ہوئی ہے,اسے دیکھتے ہوئے مقابلہ بہت دلچسپ ہو گیا ہے۔
2. لوک سبھا سیٹ: رتلام میں بھاجپا نے ورتمان ودھایک جی ایس ڈامور کو میدان میں اتارا ہے,جن کا مقابلہ کانگریس کے بڑے آدیواسی نیتا اور ورتمان سانسد کانتلال بھوریا سے ہے۔2014میں لوک سبھا چناؤ ہارنے والے کانتلال بھوریا نے بعد میں اپ چناؤ میں پھر جیت حاصل کر لی تھی۔ چناؤ کے آخری دور میں بھاجپا امیدوار ڈامور کے جنا کی تعریف میں دیئے بیان کے بعد سیاست گرم ہے۔ اگر سیٹ کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو سنسدیہ سیٹ میں آنے والی8سیٹوں میں کانگریس نے5سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی,وہیں بھاجپا3سیٹوں پر جیتیں تھی۔ لوک سبھا چناؤ میں قرض معافی اور آدیواسی سے جڑے مدعے یہاں پر اثردار ثابت ہو سکتے ہیں۔
3. لوک سبھا سیٹ: کھرگون میں بھاجپا نے ورتمان سانسد کی ٹکٹ کاٹ کر گجیندر پٹیل کو امیدوار بنایا,وہیں کانگریس نے گونود ملاجدا کو ٹکٹ دیا ہے۔ اگر سیٹ کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو8ودھان سبھا سیٹوں میں سے بھاجپا1,نردلیہ1اور6پر کانگریس کا سیٹوں پر قبضہ ہے۔ بھگوانپرا سے نردلیہ ودھایک کیدار ڈاور نے کمل ناتھ سرکار کو اپنا سمرتھن دے رکھا ہے۔
4. لوک سبھا سیٹ: مالوہ کی مہتوپورن سیٹ پر بھاجپا نے ورتمان سانسد چنتامنی مالویہ کا ٹکٹ کاٹ کر انل پھروجیا کو چناوی میدان میں اتارا ہے تو کانگریس نے بابولال مالویہ پر دانو کھیلا ہے۔ بھاجپا کے ورتمان سانسد چنتامنی مالویہ کے سکریہ نہ رہنے کے چلتے بھاجپا کے خلاف تگڑی اینٹی انکمبینسی ہے,جسے دور کرنے میں بھاجپا کو کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر سیٹ کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو کل8ودھان سبھا چناؤ میں بھاجپا نے3کانگریس نے5سیٹ پر قبضہ کیا۔
5.کھنڈوا: کھنڈوا لوک سبھا سیٹ پر بھاجپا اور کانگریس دونوں کے پورو پردیش ادھیکش کی پرتشٹھا دانو پر ہے۔ بھاجپا کی اور سے ورتمان سانسد نندکمار سنگھ چوہان تو کانگریس کی اور سے ارن یادو میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ اس سیٹ پر دونوں ہی پارٹیوں کو بھترگھات کا ڈر ستا رہا ہے۔ پورو منتری ارچنا چٹنس اور نندکمار سنگھ چوہان کے بیچ آپسی کھینچ تان جگہ ظاہر ہے تو نردلیہ ودھایک سریندر سنگھ شیرہ اپنی پتنی کے لئے کانگریس کا ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ بعد میں مکھیہ منتری کمل ناتھ کے منانے کے بعد انہوں نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے ہیں۔ اگر سیٹ کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو بھاجپا کے پاس3,کانگریس کے پاس4سیٹ اور1پر نردلیہ ودھایک کا قبضہ ہے۔
6. لوک سبھا سیٹ:دیو اس لوک سبھا سیٹ پر چناوی مقابلہ بہت دلچسپ ہے۔ بھاجپا نے جہاں پورو جج مہیندر سنگھ سولنکی کو ٹکٹ دیا ہے تو کانگریس نے کانگریس نے سرکاری سکول میں ٹیچر اور کبیر پنتھی گایک پرہلاد ٹپانیا کو پرتیاشی بناکر مقابلے کو روچک بنا دیا ہے۔ اگر سیٹ کے سیاسی سمیکرن کی بات کریں تو کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی4-4سیٹوں پر قابض ہیں۔
7. لوک سبھا سیٹ: اندور لوک سبھا سیٹ پر بھاجپا نے اس بار لوک سبھا سپیکر سمترا مہاجن کا ٹکٹ کاٹ کر نئے چہرے شنکر لالوانی پر بھروسہ جتایا ہے تو کانگریس نے پنکج سنگھوی پر بھروسہ کیا ہے۔ دونوں ہی چہرے لوپروپھائل ہونے کے چلتے لوک سبھا چناؤ میں اندور سیٹ چرچا کے کیندر میں نہیں تھی,لیکن پہلے پردھان منتری نریندر مودی کی سبھا اور بعد میں کانگریس مہاسچو پرینکا گاندھی کے روڈ شو کے بعد اندور میں چناوی پارہ بڑھ گیا ہے۔ ودھان سبھا چناؤ کے نتیجوں پر نظر ڈالیں تو بھاجپا اور کانگریس دونوں نے4-4سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔

8. لوک سبھا سیٹ:دھار لوک سبھا سیٹ پر بھاجپا نے پورو سانسد چھتر سنگھ دربار کو ٹکٹ دیا ہے تو کانگریس نے دنیش گروال کو میدان میں اتارا ہے۔ مودی لہر میں جیتنے والیں ساوتری ٹھاکر کا ٹکٹ کاٹے جانے سے انکے سمرتھک ناراض ہیں تو کانگریس میں بھی اسنتوش ہے۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation