Loading...
دیوالی:نیہ کے چھور سے ایک دیپ ہم بھیجیں,آپ بھی سہیجیں| Webdunia Hindi

دیوالی:نیہ کے چھور سے ایک دیپ ہم بھیجیں,آپ بھی سہیجیں


سمرتی


دیپوتسو,دیپپرو,دیوالی,دیپاولی۔ ناموں کا کیا ہے,کتنے ہی رکھ لیں۔ لیکن بھاوٴ ایک ہی ہے۔ سب شبھ ہو,منگلمیی ہو,کلیان کاری ہو۔ امنگ,الاس,اتکرش اور اجاس کا یہ سہانا پرو ایک ساتھ کتنے منوبھاو روشن کر دیتا ہے۔ ہر من میں آشاؤں کے رنگ برنگے پھول مسکرا اٹھتے ہیں۔ بھارتیہ سنسکرتی میں کتنا کتنا سوندریہ نحت ہے۔ کہاں کہاں سے سمیٹے اور کتنا سمیٹے؟ خوبصورت تیوہاروں کی ایک لمبی شرنکھلا ہے جو کسی ریشمی ڈوری کی طرح کھلتی چلی جاتی ہے اور مانو من کا بھولا پن که اس میں بندھتا چلا جاتا ہے سموہت سا۔ سب بھول جاتا ہے راگ,دویش,وشاد,سنکٹ,کشٹ اور سنتاپ۔ گھر میں پدھارے ہوں جب ساکشات آنند کے دیوتا تو بھلا کہاں سدھ اپنے دکھوں کی پوٹلی کو کھول کر بیٹھنے کی۔

کتنی منورم ہے ہماری بھاونائیں که ہم ویدوں پرانوں میں ورنت گیان کو سنچت کرتے ہوئے اسے اپنی کلپنا کا ہلکا سا سومیہ سپرش دیکر اپنے لئے خود ہی سوندریہ کا سنسار رچ لیتے ہیں۔ خود ہی سوچ لیتے ہیں که پرتھوی پر ابھی گنیشجی پدھاریں,پھر سوچتے ہیں ماں درگا پدھاریں ہیں اور پھر پورانک اور لوک ساہتیہ کی انگلی تھامیں پرتیکشا کرنے لگتے ہیں مہالکشمی کی۔

ان میں جھوٹھ کچھ بھی نہیں ہے,سب سچ ہے اگر انتر آتما اور درڑھ کلپناشکتی سے کسی دویہسوروپا کا آہوان کریں تو ایشور چاہے پرکٹ نہ ہوں لیکن ایک الوکک انوبھوتی سے ساکشاتکار اوشیہ کرا دیتے ہیں۔ ہم چاہے کتنے ہی ناستک ہوں لیکن اتنا تو مانتے ہیں نہ که کہیں کوئی ایسی'سپریم پاور'
ہے جو اس اتنے بڑے سگٹھت سنسار کو اتنی
سویوستھا سے سنبھال رہی ہے۔ بس,اسی مہاشکتی کو نمن کرنے,اسکے پرتی آبھار پرکٹ کرنے کا بہانہ ہیں یہ سندر,سہانے سجیلے تیوہار۔ یہ تیوہار جو ہمیں باندھتے ہیں اس اردشیہ دیویہ شکتی کے ساتھ,جو ہمیں جیون کا کلاتمک سندیش دیتے ہیں۔

ایک ننھا سا دیپ۔ نازک سی باتی۔ اسکا شیتل سومیہ اجاس۔ جھلملاتی روشنیوں کے بیچ اس کومل دیپ کا سوندریہ بربس ہی من موہ لیتا ہے۔ کتنا ساتوک,کتنا دھیر۔ بیشمار پٹاخوں کے شور میں بھی شانت بھاوٴ سے مسکراتا ہوا۔ ٹوٹ کر بکھر بکھر جاتی انار کی روشن لڑی کے بیچ بھی ذرا نہیں سہمتا,تھوڑا سا جھکتا ہے اور پھر تیار پوری تتپرتا سے جہان کو جگمگانے کے لئے۔ یہی ہے سندیش دیپوں کے سورنم پرو کا۔

بھارتیہ سنسکرتی کے انمول رتنوں میں سے ایک ہے دیپاولی کا جھلمل پرو۔ ایک ایسا پرو,جو ہر من کی کیاری میں خوشیوں کے دپدپاتے پھول کھلاتا ہے۔ ایک ایسا پرو جو ہر امیر غریب کو اوسر دیتا ہے سویں کو ابھویکت کرنے کا ۔ یہ تیوہار نہ صرف سانسکرتک یا پورانک روپ سے بلکہ کلاتمک اور سرجناتمک روپ سے بھی من کی بھاوابھویکتیوں کے پرواہت ہونے کا اوسر دیتا ہے۔

اس دیپوتسو پر جب سب سے پہلا دیپ روشن کریں تو یاد کریں راشٹرلکشمی کو۔ کامنا کریں که یہ راشٹر اور یہاں وراجت لکشمی,سدیو ویبھو اور سوبھاگیہ کی ادھشٹھاتری بنی رہیں۔ دوسرا دیپ جلائیں تو یاد کریں سیما پر تعینات ان'کلدیپکوں'
کو جن کی وجہ سے آج ہمارے گھروں میں سوتنترتا اور سرکشا کا اجالا ہے۔ تیسرا دیپ پرجولت کریں اس دیش کی ناری اسمتا کے نام۔ جو پرورتت یگ کی وکرتیوں سے ججھتے ہوئے بھی جیت کی مشعل لئے نرنتر آگے بڑھ رہی ہے۔ بنا روکے,بنا تھکے اور بنا جھکے۔

یہ'دویلکشمی'
اپنے اننت گنوں کے ساتھ اس دھرا پر نہ ہوتی تو سوچیں کیسے رنگہین ہوتے ہمارے پرو؟ شررنگارہین اور شریہین؟ دیپپرو پر شرنگار,سوندریہ اور سوبھاگیہ کی گھر میں وراجت دیوی کے ساتھ ہم سب کے آنگن میں دل نہیں دیئیں جلیں۔ سنسارک جھلملاتی روشنیوں کے بیچ سکومل دیپ کی طرح صدا مسکرائیں۔ اور کیوں نہ اس بار اپنے دیپک آپ بن جائیں۔'دیہہ'
کے دیپ میں'آتما'
کی باتی کو'آشا'کی تیلی سے روشن کریں۔ تاکہ مہک اٹھیں خوشیوں کی اجاس اپنے ہی من آنگن میں۔ ان پنکتیوں کے ساتھ-منگلکامنائیں...

نیہ کے چھور سے ایک دیپ ہم بھیجیں
رشتوں کے اس چھور سے آپ بھی سہیجیں
جھلمل پرو پر خوشیاں گنگنائیں
آشاؤں کا رنگین انار بکھر بکھر جائے...
سنیہدیپ کے ساتھ مدھر شبھ کامنائیں...




اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation