Loading...
بھارت کی آکانکشاؤں کو پورا کرنے کا وشواس دلانیوالا بجٹ| Webdunia Hindi

بھارت کی آکانکشاؤں کو پورا کرنے کا وشواس دلانیوالا بجٹ

Budget

سنسد میں پیش آرتھک سرویکشن سے بجٹ کی دشا,چرتر اور نیتیوں کا آبھاس مل گیا تھا۔ آرتھک سرویکشن نریندر مودی سرکار کے دوتیہ کاریہ کال کا روڈمیپ ہی تھا۔ اس میں پردھان منتری کے اگلے پانچ ورشوں میں بھارت کوکی ارتھویوستھا بنانے کے لکشیہ کے ساتھ چناؤ پورو بھاجپا کے سنکلپ پتر میں گھوشت ساماجک آرتھک وکاس کی ورتمان ستھتیوں ایوں اسکی کارییوجناؤں کا بھی سنکیت تھا۔ وت منتری نے ان سب کو سماہت کرتے ہوئے عام آدمی کی آوشیکتاؤں کو پورا کرنے والے قدموں کے ساتھ آرتھک چنوتیوں کا سامنا کرنے والا بھارت کی ساموہک آکانکشؤں کو پوری طرح ابھویکت کرتے ہوئے ایک سنتلت بجٹ پیش کیا ہے۔

میں بھارت کو سمردھتم دیش بنانے کے لئے دس آیام گھوشت کیا گیا تھا۔ وت منترینے اسکی چرچا کرتے ہوئے کہا بھی یہ ایک نرنترتا کا بجٹ ہے۔10آیاموں کی چرچا کرتے ہوئے سیتارمن نے فزیکل سوشل انپھراسٹرکچر سے لیکر ڈجیٹل انپھراسٹرکچر تک اور میک ان انڈیا سے لیکر بلو اکانمی تک کی چرچا کی۔ وستت انترم بجٹ کو اور سشکت کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بجٹ بھاشن کی شروعات5000عرب ڈالر کا لکشیہ پانے کے ساتھ کی۔ یہ سچ ہے که جب نریندر مودی سرکار ستا میں آئی تھی تو بھارت کی ارتھویوستھا1.85خبر امریکی ڈالر کی تھی۔ اس ورش وہ2.7کھرب ڈالر تک پہنچی۔ کچھ ہی سمیہ میں یہ3کھرب ڈالر کی ہو جائیگی۔ اسکے آدھار پر5کھرب ڈالر تک لکشیہ پانے کی امید اویاوہارک نہیں ہے۔

بجٹ اس بڑے لکشیہ پر کیندرت اوشیہ ہے لیکن اسکو پانے کے لئے سماج کے نچلے طبقے کے کلیان سے لیکر اچتر طبقے کی زمیداریاں تے کی گئیں ہیں۔ اسے سب کا بجٹ اور سنتلت بجٹ کہا جا سکتا ہے۔ اس میں ارتھویوستھا کے سمکش ساری چنوتیوں کا حل کرنے کی کوشش ہے,آدھاربھوت سنرچنا پر فوکس ہے تو کاروباری,ادیوگ,کسان,گاؤں,غریب,اسنگٹھت شیتر میں کام کرنے والوں,کھدرا ویوپاریوں آدی کے کلیان کے لئے کافی کچھ کیا گیا ہے۔ شہری آبادی,یوواؤں,مہلاؤں سب کے لئے بجٹ میں کافی کچھ ہے۔ بجٹ کی تھیم یہ ہے که ارتھویوستھا کے سبھی انگوں کو ایک ساتھ ملاکر سمگرتا میں دھیان دیا جائے تو اسکا پرنام ہر شیتر کے بیچ سنتلن بنانے کے روپ میں سامنے آئیگا۔

5000عرب ڈالر کی ارتھویوستھا بنانے کے لئے4پرتیشت سے نیچے مدراسفیتی ایوں آٹھ پرتیشت کی وکاس در چاہئیے۔ پچھلے وت ورش کے انتم تماہی میں وکاس در5.8پرتیشت پر آ گیا تھا۔ اسکا مکھیہ کارن اینبیئیپھسی یعنی غیر بینکنگ وتیہ کمپنیوں کی کھستاہالی,ونرمان ایوں کرشی وکاس کا دھیماپن مانا گیا تھا۔

بجٹ میں وت منتری نے اینبیئیپھسی کی سمسیاؤں کے سمادھان کے لئے سارے سمبھو قدم اٹھائے گئے ہیں۔ چرمرا رہے بینکوں کے لئے70ہزار کروڑ کے پنرپونجیکرن کا اعلان اتینت مہتوپورن ہے۔ مودی سرکار کے کاریہ کال میں نئے قانونوں کے کارن4لاکھ کروڑ کا قرض وصولا گیا ہے۔ این پی اے میں ایک لاکھ کروڑ کی کمی آ گئی ہے۔ بینکوں کے پاس دھن آنے کا مطلب ہوا ادیوگ اور کروبار کو قرض کے لئے دھن کی اپلبدھتا۔ اس طرح ونرمان شیتر کو پروتساہن مل سکتا ہے۔ وت منتری نے کہا که آزادی کے پورو جو بھاونا سودیشی کی تھی وہی بھاونا اب میک ان انڈیا کا ہے۔

تو میک ان انڈیا کے لئے بجٹ میں جتنے پراودھان ہیں ان سے امید جگتی ہے که بھارت ونرمان حب کا ٹھوس کیندر ہو سکتا ہے۔ اگلے پانچ ورش میں100لاکھ کروڑ روپیہ آدھاربھوت سنرچنا تتھا25لاکھ کروڑ روپیہ کرشی ایوں گرامین آدھاربھوت سنرچنا کے لئے خرچ کی گھوشنا بہت بڑی ہے۔ انترراشٹریہ وت پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں که بازار میں بھاری دھن نویش کے لئے پڑا ہوا ہے۔ آپ کو بس انکو اپنے یہاں لانے کے لئے کوشش کرنی ہے۔ یہ ایسی مہاتواکانکشی یوجنا ہے جسکے ساکار ہونے کے بعد واقعی جیسا پردھان منتری نے کہا نیو انڈیا کی کلپنا ساکشات ہوگی۔ اسکے لئے بجٹ جو کہتا ہے اسے دیکھیئے۔

انپھراسٹرکچر پھائنینسنگ کے لئے سادھنوں کو لیکر کئی سدھاروں کے پرستاؤ کئے گئے ہیں۔ کریڈٹ گارنٹی اینہینسمینٹ کارپوریشن کے لئے آر بی آئی سے نوٹپھیشن آ چکا ہے۔ اسکی ستھاپنا2019-20میں ہو جائیگی۔ انپھراسٹرکچر ڈیٹ پھنڈس اور اینبیئیپھسی کی اور سے جاری ڈیٹ سکیارٹیج میں ایپھائیائی اور ایپھائی نویش کو گھریلو نویشکوں کو نشچت اودھی کے لئے ٹرانسفر کرنے کی انومتی دی جائیگی۔ وت منتری نے سڑک,جلمارگ اور وایمارگ کو مضبوطی پردان کرنے کے سرکار کے لکشیوں کا ذکر کیا۔

واستو مے5000کھرب ڈالر پانا لکشیہ ہے اور اسکا پورا آدھار بنایا گیا ہے۔ پہلی بار اپبھوگ پر فوکس کی بجائے وکاس کی وردھی کو بچت,نویش اور نریات کے اچھے چکر سے بنائے رکھنے کی بات ہے۔ نویش,وشیشکر نجی نویش وکاس کا مکھیہ پریرک ہوتا ہے,جو مانگ,شمتا,نرمان,شرم اتپادکتا میں وردھی کرتا ہے۔ پچھلے پانچ ورشوں میں انسالوینسی اینڈ بینکرپٹسی کوڈ جیسے بڑے سدھاروں کے کارن ہماری ارتھویوستھا چھلانگ لگانے کو تیار ہے۔ جیسا بجٹ میں صاف کیا گیا ہے که مدراسفیتی لگاتار نینترن میں ہے اور رہیگی جو که وکاس کو طاقت دیگا۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو بجٹ نے مانگ,نوکریوں,نریات کی وبھن آرتھک چنوتیوں سے نپٹنے کے لئے انھیں الگ سمسیاؤں کے روپ میں نہیں,بلکہ ایک ساتھ جوڑکر پراودھان اور نیتیاں بنائی گئیں ہیں۔

مودی سرکار نے پچھلے1000دنوں میں130سے135که.می.لمبی سڑکیں روز بنائیں۔ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت گرین ٹیکنالاجی کے استعمال سے30ہزار کلومیٹر لمبی سڑکیں بنائی جا چکی ہیں۔ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تیسرے چرن میں1.25لاکھ که.می.سڑکوں کو اگلے پانچ سالوں میں اپ گریڈ کیا جائیگا۔ اس پر80,250کروڑ رپئے کی لاگت آئیگی۔

کرشی کی اور آئیں تو اس میں ویاپک نویش کی بات ہے۔2022تک کسانوں کی آئے دوگنی کرنے کے لئے پہلے کی نیتیوں کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ اس میں کرشی سے جڑے ادیوگوں پر بھی فوکس ہے۔ کہا گیا ہے که ان داتا کو اورجاداتا بنانے کے لئے ہمارے پاس کاریہ کرم ہیں۔ اداہرن کے لئے سور اورجا ایکائیوں سے کسان اور جا بچاکر اسکی بکری کر سکتے ہیں۔ بجٹ میں سب سے بڑی بات یہ ہے که آنے والے سمیہ میں کسانوں کے لئے بجٹ لانے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ سکم آف فنڈ فار اپ گریڈیشن اینڈ ریجنریشن آف ٹریڈشنل انڈسٹریز(سفورتی)یوجنا کے تحت زیادہ کامن پھیسلٹی سینٹر ستھاپت کئے جا ئینگے اور ایگرو رورل انڈسٹری سیکٹر میں75ہزار سکلڈ آنٹرپرنیورس تیار کئے جا ئینگے۔

2022تک سبھی کو آواس,بچے سبھی پریواروں کو شوچالیہ,اچھک سبھی پریواروں کو رسوئی گیس کنیکشن,سبھی کو بجلی,پییجل اپلبدھ کرانے کی گھوشنا گاؤوں کے جیون سطر میں کتنا بدلاؤ جائیگا اسکی کلپنا آسانی سے کی جا سکتی ہے۔


بجٹ کا ایک سدھانت امیروں پر کر لگاؤ اور غریبوں کا کلیان کروں ہے۔ اداہرن کے لئے2سے5کروڑ آئے پر3پرتیشت ادھبھار لگےگا۔5کروڑ رپئے سالانہ سے ادھک آئے والے لوگوں پر7پرتیشت اترکت ادھبھار لگےگا۔ کاروبار میں نقدی کے پر یوگ کو کم کرنے کے لئے پراودھان کیا گیا ہے که ایک کھاتے میں1سال میں2کروڑ سے زیادہ کی نکاسی ہوگی تو2پرتیشت ٹیڈیئیس کٹ جائیگا۔

نسندیہ,ایک ورگ کو یہ پسند نہیں آئیگا۔ کنتو دیش کو وکاس کے لئے دھن چاہئیے تو امیروں کو اسکا بھار وہن کرنا ہی ہوگا۔ یہ نہیں بھولنا چاہئیے که400کروڑ رپئے کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو اب25پرتیشت کی در سے کارپوریٹ کر دینا ہوگا۔ اس سے پہلے250کروڑ رپئے تک کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر کم در سے کر لگایا گیا تھا۔ ان دونوں کو ایک ساتھ ملاکر دیکھنا چاہئیے۔ عام آئے کر سلیب میں کوئی بدلاؤ نہیں کیا گیا ہے۔

انترم بجٹ کو قائم رکھتے ہوئے5لاکھ رپئے سالانہ سے ادھک آئے پر ہی کر دینا ہوگا۔ نوکری پیشہ لوگوں کے لئے مانک چھوٹ(سٹینڈرڈ ڈڈکشن)کی سیما40ہزار رپئے سے بڑھاکر50ہزار رپئے کر دی گئی۔ اب نوکری پیشہ لوگ دو گھروں کے لئے ایچارئے کا آویدن کر سکتے ہیں۔ ایچارئے پر کر چھوٹ1.80لاکھ رپئے سے بڑھکر2.40لاکھ کر دی ہے۔ مدھیم ورگ کے لئے45لاکھ کا گھر خریدنے پر قرض کے بیاج پر3.5لاکھ رپئے کی چھوٹ ملے گی۔ پہلے یہ2لاکھ رپئے تھی۔

اس اعلان سے15سال کی اودھی کے آواس قرض پر لابھارتھی کو سات لاکھ رپئے تک کا فائدہ ہوگا۔ اس طرح نمن مدھیم ورگ ایوں مدھیم ورگ کے لئے یہ بجٹ بہتر پراودھان لیکر آیا ہے۔ یہ لوگوں کو گھر خریدنے کے لئے پریرت کریگا اور آواس شیتر کو گتی دیگا۔ جیسا ہم جانتے ہیں سب سے زیادہ روزگار آواس نرمان شیتر سے ہی ملتا ہے۔ اس طرح آواس ایوں آدھاربھوت سنرچنا سمبندھی نرمان بھارت کو وکست دیشوں کی شرینی میں ہی لائےگا بلکہ روزگار اور کاروبار کا ویاپک اوسر پردان کریگا۔

کل ملاکر کہا جا سکتا ہے یہ بھارت کے سبھی ورگوں اور شیتروں کی وکاس کو پروان چڑھانے کے لئے سبھی سمبھاو اپائے کرتے ہوئے آکانکشاؤں کو بڑھانے اور اسے پورا کرنے کا وشواس دلانے والا بجٹ ہے۔

(اس لیکھ میں ویکت وچار/وشلیشن لیکھک کے نجی ہیں۔ اس میں شامل تتھیہ تتھا وچار/وشلیشن'ویبدنیا'کے نہیں ہیں اور'ویبدنیا'اسکی کوئی ذمیداری نہیں لیتی ہے۔)



 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation