Loading...
دو قدم تم بھی چلو,دو قدم ہم بھی چلیں| Webdunia Hindi

دو قدم تم بھی چلو,دو قدم ہم بھی چلیں


بھارتیہ گھر پریواروں میں عام طور پردو دشاؤں میں دکھائی دیتے ہیں۔ یا تو نئی پیڑھی سے تال میل کے ابھاؤ میں وہ اپیکشت سے رہتے ہیں اتھواکے ستا سوتر سوکیندرت رکھتے ہوئے تاناشاہ کی مدرا میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے پریوار کم ہیں,جہاں دونوں پیڑھیوں میں یتھایوگیہ سامنجسیہ ہے اور دونوں ہی پرسپر ایک دوسرے سے پرسن ہے۔
پہلے بات کریں اپیکشت بزرگوں کی۔ سوابھاوک روپ سے دو پیڑھیوں کی سوچ,وچار,درشٹی,پرستھتیاں سب الگ الگ ہوتی ہیں۔ پرانی پیڑھی ارتھات بزرگوں کو اپنے انبھو کا اہنکار ہوتا ہے,تو نئی پیڑھی کو اپنے گیان کا۔ ٹکراو تب آرمبھ ہوتا ہے,جب انبھو سویں کو انتم ستیہ مان لیتا ہے اور گیان خود کو سرووپری۔


ایسے میں نئی پیڑھی بزرگوں کی اپیکشا کرنے لگتی ہے۔ بات بات میں انکا انادر اور انہیں ان سنا رکھا جانے لگتا ہے۔ تب بزرگوں کی تلملاہٹ اپنے ہی بچوں کو کوسنے اور شاپ دینے جیسے گرہت سوروپ میں ابھویکت ہوتی ہے۔
کل ملاکر گھر کا واتاورن بیحد تناؤ بھرا ہو جاتا ہے,جسمیں پرسن کوئی نہیں رہ پاتا۔ کھید کی بات یہ ہے که دونوں سویں آئینہ دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے کو ہی دکھاتے رہتے ہیں گویا که خود پاک صاف ہوں۔

ہونا تو یہ چاہئیے که پرسپر ایک دوجے کا پکش سمجھ کر اپنی درشٹی اور ویوہار میں کچھ پرورتن کر لئے جائیں۔ اس سے دونوں کے جیون میں سکھ اور شانتی سدھ جا ئینگے۔

بزرگ یہ مان لیں که نئی پیڑھی کے سمیہ کی چنوتیاں اور آوشکتائیں انکے سمیہ سے الگ ہیں۔ اسلئے اب ہر وشیہ میں انکا انبھو ہی اپیوگی ہو,یہ ضروری نہیں۔ اسلئے وبھن مدعوں کے حل میں اپنے انبھو کے ساتھ سنتان کے گیان کو بھی شامل کریں اور یووا یہ سمجھ لیں که بزرگوں کے روپ میں انکے ساتھ انبھو کا ایسا کھجانا ہے,جسکے بل پر وہ کئی جٹل سمسیاؤں کا سمادھان پا سکتے ہیں اور انکے روپ میں پربھو کرپا کی ایک ایسیانہیں اپلبدھ ہے,جسکے نیچے رہ کر وہ دنیا کے ہر سنکٹ کا سامنا کرنے کی شکتی پا سکتے ہیں۔

دوسرے شبدوں میں کہیں تو یہ که سمان,سنیہہ اور سمجھ کی سنتلت تریی دونوں کو دونوں سے خوش اور سنتشٹ رکھ سکتی ہے۔

اب چرچا ان بزرگوں کی,جو نئے زمانے کی ہوا سے اس قدر بھے بھیت ہیں که اپنی سنتان کو ادھیکاروں کا ہستانترن کبھی کرتے ہی نہیں۔ وہ اسمپورن پریوار کی ستا اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اور ہر بات میں انکا نرنیہ ہی انتم ہوتا ہے۔ تاناشاہی کی اس اتی کے تلے انکے بچوں کی نہ جانے کتنی جایج اچھائیں,مانگیں اور سپنے دم توڑ دیتے ہیں۔ گھر میں انکی چھوی کسی آتنکوادی سے کم نہیں ہوتی۔ انکے سوبھاؤ کے کارن بچے اپنے بچپن کو بھی کھل کر نہیں جی پاتے اور یواوستھا بھی بھے اور تناؤ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تاناشاہی انمیں کرودھ اور ودروہ کی نکاراتمک بھاونا کو بھی جنم دیتی ہے,جسکے پرنام بھوشیہ میں بہت خراب ہوتے ہیں,جب یا تو بچے اپنے ماتا پتا سے صدا کے لئے الگ ہو جاتے ہیں اتھوا انکے ساتھ گھور درویوہار پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

بہتر تو یہ ہے که ایسے بزرگ اپنی سوچ کو تھوڑا ادار اور یگ کے انوکول رکھیں۔'زمانے کی ہوا'سے ادھک اپنے سنسکاروں پر وشواس رکھیں۔ اپنے بچوں کو کرتویوں کا پاٹھ پڑھانے کے ساتھ دھیرے دھیرے ادھیکاروں کا ہستانترن بھی کرتے چلیں۔ کئی مہتوپورن مدعوں پر سویں رائے دیں اور شیش پر انکی رائے مانیں۔ کچھ اچھا انہیں سکھائیں اور کچھ بہتر ان سے سیکھیں۔

شاستروں میں ویسک سنتانوں سےکی بات کہی گئی ہے۔ پھر آپ ان سے غلاموں کی بھانتی آچرن کرکے بھلا کون سے شبھ پرنام کی آشا کر رہے ہیں؟

میں چار آشرموں کے تحت جس وانپرستھ آشرم کی چرچا کی گئی ہے,اسکا بھی یہی سنکیت ہے که اب اگلی پیڑھی کو ستا سونپ کر سویں نورت ہو جائیں۔ انہیں جیون اور اس سے جڑے وودھ آیاموں پر سویں نرنیہ لینے دیں۔ سنگھرش کرکے سیکھنے دیں۔ آپ انکے لئے مارگدرشک کی بھومکا میں رہیں نہ که تاناشاہ کی۔

اب آپکی ویا تیاگ کی ہے,بھوگ کی نہیں۔ اسلئے ادھیکار صرف سنیہہ کا رکھیں,شیش سنتتی کو سونپ دیں۔ نسندیہ اپنے جیونیاپن کے پریاپت سادھن آپ اپنے پاس رکھیں,لیکن سوچ اور ویوہار سے تیاگ شیل ہو جائیں تاکہ اگلی پیڑھی آپکے استتو کو اپنے لئے وردان مانے نہ که بوجھ۔

یوں بھی سنتان میں سنسکار یدی ستونمکھی ہوکر بوئے گئے ہیں,تو فصل بھی نشچت روپ سے اچھی ہی آئیگی۔ آپکی ادھکارویشٹھت سنتان آپکے جیون میں سکھ و شانتی کی بہار آجیون لائیگی۔ تب دونوں پیڑھیاں پرسپر ایک دوسرے کے لئے ایک انوٹھا گورو محسوس کرینگی اور'گھر'کا احساس کسی سرلوک سے کم نہیں ہوگا۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation