Loading...
حج سبسڈی ختم کرنے کا اوچتیہ| Webdunia Hindi

حج سبسڈی ختم کرنے کا اوچتیہ

دوارہ حج یاترا پر ورشوں سے دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کو لیکر دیش میں سوابھاوک ہی دو رائے بن گئی ہے۔ ایک رائے ہے که یہ قدم اچت ہے۔ کسی سمودائے کے ویکتیوں کے دھارمک کرم کانڈ پر سرکار دھن کیوں خرچ کرے۔ اسکے سمانانتر دوسرا ترک یہ ہے که جو سمپن ہیں,وہ تو آرام سے حج یاترا پر چلے جاتے ہیں۔ انکا اس سے کچھ نہیں بگڑےگا۔ جو کچھ اثر ہوگا وہ غریبوں پر ہوگا,جو سبسڈی کے کارن حج کی اپنی چاہت کو پوری کر لیتے تھے۔
اس فیصلے کے باوجود اس بعد سب سے زیادہ قریب1لاکھ75ہزار لوگ حج یاترا پر بنا سبسڈی کے جا ئینگے۔ آزادی کے بعد ایسا پہلی بار ہوگا۔ اس ناطے یہ قدم بہت بڑا ہے۔ حج کے لئے سبسڈی دیا جانا صحیح تھا یا نہیں اور اسے سماپت کرنے کے قدم کو صحیح مانا جائے یا غلط,اس پر وچار کرنے کے پہلے کچھ انیہ پہلوؤں پر وچار کرنا ضروری ہے۔

واستو میں حج سبسڈی ہٹانا مودی سرکار کی سمگر حج نیتی کا ایک انگ ہے۔ سرکار پچھلے ورش سے حج نیتی میں بدلاؤ اور اسے ویوہارک ایوں سب کے لئے انوکول بنانے پر کام کر رہی تھی۔ اس بات کا سنکیت اسکے وچار ومرش میں ہی مل گیا تھا که سبسڈی ختم کی جائیگی۔ الپ سنکھیک معاملوں کے منتری مختار عباس نقوی نے حج نیتی کے لئے ہونے والی بیٹھکوں میں اسکا صاف سنکیت دے دیا تھا۔
دراصل, 2012میں ہی اچتم نیایالیہ کی سنودھان پیٹھ نے فیصلہ دیا تھا که حج سبسڈی کو اگلے10ورشوں کے اندر ختم کر دیا جائے۔ اسنے یہ بھی کہا تھا که حج کے لئے سبسڈی دینا واستو میں مسلمانوں کو لالچ دینے کے سمان ہے اسلئے اسے جاری نہیں رکھنا چاہئیے۔ تو اچتم نیایالیہ کے آدیش کے انوسار اسے ختم ہونا ہی تھا۔

پورو سرکار نے اس دشا میں کچھ نہیں کیا۔ کہا جا سکتا ہے که10ورش پورے ہونے میں ابھی4ورش باقی تھے کنتو10ورش انتم سمیسیما تھی۔ جو لوگ یہ ترک دے رہے ہیں که اسے10ورش میں ختم کرنا تھا,سرکار نے4ورش پہلے ہی ختم کر دیا وہ اچتم نیایالیہ کی پوری ٹپنی کو دھیان میں نہیں لا رہے۔
اکتوبر2017مے کیندر سرکار نے جو نئی حج نیتی پیش کی اس میں حج سبسڈی ختم کرنے تتھا اور45ورش سے ادھک عمر کی مہلاؤں کو بنا میہرم کے حج پر جانے کی اجازت دینے کا پرستاؤ صاف طور پر الخط تھا۔45ورش سے ادھک عمر کی مہلاؤں کے بنا میہرم کے حج پر جانے کی گھوشنا ہو چکی ہے۔'میہرم'اسے کہتے ہیں جس سے مہلا کا نکاح نہیں ہو سکتا,مثلاً پتا,سگا بھائی,بیٹا اور پوتر نواسا میہرم ہو سکتے ہیں۔ یہ اکیلی یا اکیلی جانے کی اچھا رکھنے والی مہلاؤں کے مارگ کی بڑی بادھا تھی,جو ختم ہو گئی ہے۔
بھارت سے قریب1,300مہلائیں اس بار بنا میہرم کے حج یاترا کرینگی۔ اسی میں ہوائی مارگ کے ساتھ سمندری مارگ سے بھی یاترا کے وکلپ پر کام کرنے کی بات تھی۔1995سے سمندری راستے کا وکلپ بند ہو گیا تھا۔ ابسرکار سے سمجھوتے کے بعد یہ پھر سے آرمبھ ہو رہا ہے۔

حج نیتی میں کہا گیا تھا که پوت کمپنیوں کی رچی اور سیوا کی تھاہ لینے کے لئے وگیاپن دیا جائیگا۔ سمندری مارگ سے یاترا ویسے بھی کم خرچیلا ہوگا۔ پہلے سمندر کے راستے حج یاترا میں12سے15دنوں کا سمیہ لگتا تھا,لیکن اب3سے4دن میں یاترا پوری ہو جائیگی۔ ایک طرف کا راستہ2,300ناٹکل میل کا ہے۔1995میں ممبئی کے یلو گیٹ سے سعودی عرب کے جیداہ تک جل مارگ پر یاترا ہوتی تھی۔
نئی حج نیتی میں راجیوں اور کیندر شاست پردیشوں کے لئے حج کوٹے کا پراودھان انکے یہاں کی مسلم آبادی کے انوپات میں کئے جانے کا پراودھان ہے,جو اچت ہی ہے۔ نئی حج نیتی میں حج سمتی اور نجی ٹور آپریٹروں کے ذریعے جانے والے حج یاتریوں کے انوپات کو بھی سپشٹ کیا گیا ہے۔ اب کل کوٹے کے70پرتیشت حج یاتری حج سمتی کے ذریعے جا ئینگے تو30پرتیشت نجی ٹور آپریٹروں کے ذریعے حج پر جا ئینگے۔
نئی حج نیتی پر وکتویہ دیتے ہوئے مختار عباس نقوی نے اسے ایک بہتر نیتی بتایا ہے۔ انکے انوسار یہ پاردرشی اور جنتا کے انوکول نیتی ہوگی۔ یہ حج یاتریوں کی سرکشا سنشچت کریگی۔ حالانکہ بھارتیہ حج سمتی نے نئی حج نیتی کے مسودے کا ورودھ کیا تھا۔ اسنے اپنی آپتی منتری مختار عباس نقوی کو بھی سونپی تھی۔ سرکار کا کہنا ہے که ان آپتیوں پر بھی وچار کیا گیا ایوں جو سجھاؤ مانیہ تھے انہیں سویکار کیا گیا۔ باوجود اسکے اس پر ایک رائے بنانا مشکل ہے۔
واستو میں حج سبسڈی ختم کرنا ایسا نرنیہ ہے جس سے پورو کی سبھی سرکاریں بچتی رہیں ہیں۔ جس طرح سے اسکا اب بھی ورودھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے اسکے کارن کو سمجھنا آسان ہے۔ کوئی بھی مسلمانوں کے ایک ورگ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ بات الگ ہے که اس سے غریب مسلمانوں کو شائد ہی کوئی لابھ تھا۔ ایسے غریب کم ہی ہو نگے جنہوں نے اس سبسڈی کا لابھ اٹھاتے ہوئے جب سے سمندری جہاج بند ہوا تھا,حج کیا ہوگا۔ ویسے کچھ مسلم سنگٹھن خود بھی سبسڈی کا ورودھ کرتے رہے ہیں۔ انکا ترک تھا که کسی کی مدد سے حج کرنے کا کوئی پراودھان شریا میں ہی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ مجہبی وشیہ ہے اسلئے ہم اس میں یہاں نہیں پڑنا چاہتے۔
دھیان رکھیے,سبسڈی حج یاتریوں کو سیدھے نہیں ملتی تھی۔ سعودی عرب تک آنے جانے کے لئے ہوائی یاترا خرچ55سے60ہزار رپئے آتا ہے۔ اس میں سے کیول12ہزار رپئے حج جانے والے کو دینے ہوتے ہیں,شیش راشی سرکار سبسڈی کے روپ میں بھگتان کرتی تھی۔ سرکاری ایئرلائن کمپنی ایئر انڈیا کو اسکا ذمہ سونپا جاتا رہا ہے۔ لیکن کئی سنگٹھنوں نے اسکا ورودھ کرتے ہوئے کہا تھا که نجی ایئرلائن کمپنی یہ کام15سے20ہزار رپئے میں ہی کر رہی ہیں۔
سرکار نے حاجیوں کی2شرینی(گرین اور اجیجیا)نردھارت کر رکھی ہیں۔ پچھلی بار سرکار نے گرین شرینی کے لئے ادھکتم2,39,600رپئے تے کئے,وہیں اجیجیا شرینی کے لئے یہ رقم2,06,200رپئے تھی۔ کھانے پینے پر حاجیوں کو خود ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

ورودھیوں کا کہنا ہے که سرکار نے حج سبسڈی ختم کرکے مسلمان ورودھی بھاونا کا پرچیہ دیا ہے۔ ویسے بھی بھاجپا ایوں سنگھ پریوار لمبے سمیہ سے حج سبسڈی کا ورودھ کرتی رہی ہے۔ یہ بات الگ ہے که جب1998میں اٹل بہاری واجپئی کے نیترتو میں سرکار بنی تو اسکے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کیا یہ واقعی مسلم ورودھی قدم ہے؟ ایسا ہوتا تو اچتم نیایالیہ اسکے لئے آدیش نہیں دیتا۔ جو کچھ ہوا ہے اچتم نیایالیہ کے آدیش کے انوروپ۔ اچتم نیایالیہ میں اس سے جڑے سارے پہلوؤں پر بحث ہوئی تھی۔ نیایالیہ یوں ہی کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔ کسی مجہب وشیش کے لوگوں کو انکی دھارمک یاترا کے لئے اتنے ویاپک پیمانے پر سبسڈی دینا ایک اسادھارن ستھتی تھی۔

ایسا کسی سیکیلر دیش میں شائد ہی کہی ہو۔ اس میں وپن اور سمپن کے بیچ کوئی انتر بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ وپن اور اکشم لوگوں کی دھارمک بھاونا کو پورا کرنے کے لئے سرکار چھوٹے سطر پر کچھ سہیوگ کرتی ہے تو اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ حالانکہ سرکار اسکے لئے بھی نجی دانداتاؤں کو پروتساہت کرے تو یہ زیادہ بہتر راستہ ہوگا۔
نقوی نے کہا بھی ہے که غریبوں کے لئے الگ سے کچھ ویوستھائیں کی جائینگی۔ تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟ کنتو اتنے ویاپک پیمانے پر سبسڈی کو ختم کرنا ہی اچت تھا۔ قریب700کروڑ روپیہ سرکار کا اس پر خرچ ہوتا تھا۔ حاجیوں کی سنکھیا بڑھنے ایوں ہوائی کرائے میں بڑھوتری کے ساتھ اس میں اور وردھی ہی ہونی تھی۔ اس ناطے یہ ایک اچت نرنیہ ہے۔

اب سوال ہے که سرکار اس سے جو دھن بچائیگی اسے کہاں خرچ کرنا چاہئیے؟ اچتم نیایالیہ نے ہی اپنے فیصلے میں سجھاؤ دیا تھا که اسے مسلمانوں کی شکشا پر خرچ کرنا چاہئیے۔ اکتوبر2017میں حج نیتی کا جو مسودہ سامنے آیا تھا اس میں کہا گیا تھا که سبسڈی سے بچنے والا پیسہ مسلموں کی شکشا,سشکتیکرن و کلیان پر خرچ ہوگا۔
حج سبسڈی ختم کرنے کی گھوشنا کرتے سمیہ مختار عباس نقوی نے کہا بھی که ہماری نیتی الپ سنکھیکوں کو سمان کے ساتھ سشکت کرنا ہے,نہ که تشٹکرن۔ اگر واقعی یہی سوچ ہے تو اسکا سواگت کیا جانا چاہئیے۔ حج سبسڈی فنڈ کا استعمال الپ سنکھیکوں کی بچیوں اور مہلاؤں کی شکشا کے لئے استعمال کیا جائیگا۔ اگر سرکار ایسا کرتی ہے,جسکی پوری سنبھاونا ہے,تو یہ ایک بہتر شروعات ہوگی۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation