Loading...
خلاصہ: 'ماتوشری'کو بم سے اڑانا چاہتے تھے آتنکی,بال ٹھاکرے نے پریوار کو دیا تھا بنگلہ چھوڑنے کا آدیش| Webdunia Hindi

خلاصہ: 'ماتوشری'کو بم سے اڑانا چاہتے تھے آتنکی,بال ٹھاکرے نے پریوار کو دیا تھا بنگلہ چھوڑنے کا آدیش

پن سنشودھت بدھوار, 15مئی2019 (21:21 IST)
نئی دہلی۔ شیوسینا کے پورو سدسیہ نارائن رانے نے دعویٰ کیا ہے که آتنکوادیوں نے1989میں ٹھاکرے پریوار کے آواس'ماتوشری'کو بم سے اڑانے کی یوجنا بنائی تھی جسکے چلتے شیوسینا سپریمو بال ٹھاکرے کو سبھی سدسیوں کو کچھ دنوں کے لئے کسی سرکشت ستھان پر رہنے کا نردیش دینا پڑا تھا۔
بھاجپا سمرتھت راجیہ سبھا سدسیہ رانے نے کہا که اس سمیہکے مکھیہ منترینے بال ٹھاکرے کے چھوٹے بیٹے ادھو کو بلاکر انہیں اس خطرے کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا که ٹھاکرے کھالستانیوں کے نشانے پر تھے۔ غورطلب ہے کهآندولن کے سمرتھک ممبئی سمیت کئی شہروں میں موجود تھے۔
رانے نے کہا که19مارچ1988کو بال ٹھاکرے نے ایک سنوادداتا سمیلن آیوجت کیا,جسمیں انہوں نے ایک پرشن سوچی وترت کرتے ہوئے شہر کے سکھ سمودائے کے پرمکھ لوگوں سے آشواسن مانگا تھا که وہ آندولنکاری گتیودھیوں کو وتیہ مدد نہیں پہنچا رہے ہیں۔

انکے انوسار ٹھاکرے نے سنوادداتا سمیلن میں اعلان کیا تھا که اگر سکھوں نے چرمپنتھیوں کو وتیہ مدد پہنچانا جاری رکھا,تو وہ شہر میں انکا ساماجک اور آرتھک بہشکار سنشچت کرینگے۔ رانے نے ان گھٹناؤں کا خلاصہ اپنی جیونی'نو ہولڈ بارڈ:مائے ایرس ان پالٹکس'میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا که شیوسینا1989میں مہاراشٹر ودھان سبھا چناؤ ہار گئی تھی اور اس ہار نے ٹھاکرے کو بہت ادھک اسرکشت ستھتی میں پہنچا دیا تھا کیونکہ راجیہ کی سرکشا ویوستھا کانگریس کے ہاتھوں میں تھی۔

رانے نے لکھا ہے که ٹھاکرے نے ماتوشری کی سرکشا بڑھوائی اور ہر کوئی ہائیئلرٹ پر تھا۔ اس تناؤ کے بیچ نووواہت ادھوجی کو مکھیہ منتری پوار صاحب کی اور سے فون آیا۔ پوار نے ادھو کو ترنت اپنے پاس پہنچنے کو کہا۔ انہوں نے خاص طور پر انہیں اکیلے ہی آنے کو کہا۔

رانے نے لکھا که پوار نے ادھو کو بتایا که انہیں ماتوشری کو بم سے اڑانے کی یوجنا کے بارے میں وشوسنیہ سوچنا ملی ہے اور جس آتنکوادی کو اسے انجام دینا ہے وہ شہر میں آ چکا ہے۔

رانے نے کہا که پوار نے ادھو کو بتایا که انہیں اس بات کی چنتا ہے که ماتوشری,راجیہ کے پولیس بل اور یہاں تک که گرہ منترالیہ کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔

رانے نے کتاب میں دعویٰ کیا که پوار صاحب نے کہا که سوچنا کے انوسار اس واردات کو دو دنوں کے بھیتر انجام دیا جانا ہے۔ انہوں نے ٹھاکرے پریوار کو پولیس سرکشا بڑھانے کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا که اس بات کو پریوار کے بھیتر ہی رہنے دیں۔
اسکے بعد ادھو نے اس بات کی جانکاری اپنے پتا کو دی۔ انہوں نے پرتیک سدسیہ کو کچھ دن کے لئے سرکشت گھر ڈھونڈنے اور ماتوشری خالی کرنے کا نردیش دیا۔ انہوں نے کہا که اگلی صبح ٹھاکرے اپنی پتنی میناتائی کے ساتھ لوناوالا چلے گئے۔(بھاشا)


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation