Loading...
کوتا:رسمیں جو چھل رہی ہیں بھوشیہ... | Webdunia Hindi

کوتا:رسمیں جو چھل رہی ہیں بھوشیہ...




* پر تیکھا کٹاکش:رسمیں جو چھل رہی ہیں بھوشیہ...

کچھ تو خاص الاس تھا اس دن میں,
تیوہار کا دن,رسموں کو نبھانے کا دن۔

آڈمبر پیچھے چھوڑ ہوا نئی رسم کا ادگھوش,
بدل کر پرانی رسمیں جو چھل رہی ہیں بھوشیہ۔

ہر سال کی طرح وہ تھا کروا چوتھ کا دن,
سبھی تھیں سجنے سنورنے میں پور نشٹھا مگن۔

مندر میں بھیڑ تھی ٹھہاکوں کی گونج چاروں اور,
لال,گلابی,سندوری وستر رنگوں میں سجی۔

کھنکتیں چوڑیاں,مانگ ٹیکا,للاٹ پر بندی,
مہندی کڑھی کلائیاں,ماتھے پر گروت سندور۔

جلتے کئی دیپ,مہکتے پشپ,رنگ برنگے کروا,
تیوہاروں کی پہچان اتی آنندت تھا واتاورن۔

اس پرم نجارے میں ایک پل کو نظر ٹھہر گئی,
بھیڑ کو دھکیلتی مکیلتی نظر آئی لکشمی۔

تن پر نہیں کوئی قیمتی گہنے وستر ورن نیسرگک,
گھاگھرا چولی پہنے,سنگ تھیں مسکراتی چاروں پتریاں۔

پاس آ کیا ابھوادن سب کا,وعدن گیانی ماں سے,
بھریپوری گیانی ماں ہیروں کا بھاری ہار کندن کی ساڑی۔

دیپکا ایشوریہ سی دو بہؤں سنگ,لکشمی پر ڈالے پینی نظر,
آ گئی لکشمی بیٹیوں سنگ,ساگ سلاد سے فرصت پاکر۔

ہاتھ جوڑکر مسکراتی لکشمی سیدھے گلے ملی,
ویرتھ ویدناؤں سے پرے آشواست بول پڑی,
ہزار بیٹوں پر نو سو بیٹیاں,ہے سو کا فاصلہ۔

چار میں نے دی ہیں چھیانوے ابھی بھی تو کم ہیں,
آپ بڑھیا پکوان بنائیں,کھلائیں مدھمیہ میں۔
بیچارے پتی کے دل کا راستہ کھوجتے ہیں پیٹ سے,
پھر اسکی لمبی عمر کی کامنا میں رکھیں ورت۔

آج بھگوان بھی اسمنجس میں ہیں تھوڑے,
پکوانوں کا ایشوریہ چھوڑ ساگ سلاد کا بھوگ لگائیں۔

بہؤں کو چھوڑ پتروں کو آدیش دیں کچھ بدلاؤ لائیں,
کروا سزائیں, رکھیں,منتیں مانگیں۔
کریں لمبی عمر کی کامنا آپکی بہؤں کی,
تب کہیں ختم ہوگا یہ چھیانویں کا فاصلہ۔

پیڑھیاں گھس جائینگی کوئی دھرم رسم کام کیا آئیگی,
اب دمک رہی تھی لکشمی پوتر سادگی کی چمک لئے۔

مند پڑی ہیروں کندن کی چمک,کرترم رسموں کا وہ دن,
کھلکھلائیں بہئیں,کھو گئی مرجھائی گیانی ماں کہیں بھیڑ میں...!


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation