Loading...
پرواسی کہانی:ادھورے خواب...۔pravasi hindi story | Webdunia Hindi

پرواسی کہانی:ادھورے خواب...

Eiffel-Tower
 
انڈین؟  
کو نہارتی نظریں۔ پر خود میں ہی کھوئی ہوئی ہاتھوں میں پین اور ڈائری,شائد کچھ لکھنے کے پریاس میں۔ پارک میں اکیلی بیٹھی گہو کی تندرا ایک آواز سے بھنگ ہوئی۔ اسنے جب نظر اٹھاکر دیکھا تو ایک خوبصورت سمارٹ جوان لڑکا اسکے سامنے کھڑا تھا۔
 
اسنے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی'آر یو انڈین'?
 
تب گہو نے سر ہلاکر کر جواب دیا,ہاں۔
 
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟
 
شیور,گہو نے کہا۔
 
میں...انمول...انمول پارکھ۔ مجھے پیرس آئے کچھ ہی دن ہوئے ہیں۔ کمپنی کی اور سے ہم دس لوگوں کی ٹیم آئی ہے۔
 
لیکن آپ یہاں کیسے؟
 
میں یہاںکے سلسلے میں آئی ہوں۔
 
آپ کوتا بہت اچھی لکھتی ہیں۔
 
آپ کو کیسے معلوم؟ گہو نے حیرانی سے انمول سے پوچھا۔
 
آپکی ڈائری نے بتایا,دیکھیئے آپ بھی۔
 
اتنا سنتے ہی گہو زور سے ہنسنے لگی۔
 
اوہ...یہ تو بس ایسے ہی...دراصل لکھنا میرا شوق ہے اور مجھے جب بھی وقت ملتا ہے میں لکھنے بیٹھ جاتی ہوں بس۔ گہو نے انمول سے بتایا اور اپنی ڈائری بند کر ایک طرف رکھ دیا۔
 
کافی دلکش انداز ہے آپکے لکھنے کا,انمول نے گہو سے کہا
 
اتنا سن کر گہو کے ہوٹھوں پر ہنسی تیر گئی اور پھر دیر تک دونوں کے بیچ باتوں کا سلسلہ چل پڑا۔
 
اکثر شام کو یا ویکینڈ دونوں کی ملاقاتیں پارک میں ہوتی رہتیں۔ لیکن آج کی شام انمول تھوڑا اداس تھا۔ گہو نے انمول سے اداسی کا کارن پوچھا تو انمول نے بتایا که بدھوار کی صبح اسکی فلائٹ ہے اور اسے واپس جانا ہے۔ یہ سن کر گہو کا بھی کھلا کھلا چہرہ مرجھا گیا۔
 
انمول نے گہو سے کہا که تم اپنیکا پتہ دے دینا۔ میں تم کو روز میل کیا کرونگا۔ اس طرح ہم روز مل لیا کرینگے۔
 
گہو نے مسکراکر کہا که روز میل؟ اگر تم بھولے کسی دن تو؟ تو تمہیں دو میل کرنے پڑینگے سوچ لو۔ اور اگر میں بھولی تو میں تم کو دو میل کرونگی۔ 
 
دھیرے دھیرے وقت نے اپنی رفتار پکڑ لی اور3سال گزر گئے۔ ای میل بھی انمول کم ہی کرنے لگا۔ انمول کو واپس لوٹتے ہی کمپنی میں پرموشن جو مل گیا تھا اور وہ اس میں ویست رہنے لگا۔ کبھی کبھی وہ گہو کے ای میل کا جواب دے دیتا۔ ادھر گہو کو بھی ایک جرمنی کی کمپنی میں جاب مل گئی تھی۔ وہ جب آفس سے لوٹتی,اپنی پیپر اور پین کے ساتھ ہو جاتی۔
 
بیٹا جو تونے یہ پنے بھر رکھے ہیں نہ,اسے بائنڈ کروا لیتی تو یہ کتابیں بن جاتیں۔ تو کہے تو میں ایک پبلشر سے بات کروں؟ گہو کی ماں نے گہو سے کہا۔ 
 
ماں یہ تو میری دلی خواہش ہے۔ تو آج ہی بات کرنا پلیز۔ ماں,میری اچھی ماں۔ میری پیاری ماں۔ آئی لو یو ماں۔ بس بس,لیکن بیٹا میری بھی تو تو بات مان لے۔ پہلے تو اپنا خیال رکھیگی۔ دیکھ تو کتنی دبلی ہوتی جا رہی ہے۔ چل,ایک دن میں تیرا چیک اپ کروانا چاہتی ہوں که کیوں تیرے چہرے کی رنگت اڑتی جا رہی ہے۔ کیا بات ہے؟ تجھ کو ایسا دیکھ میرا دل بیٹھتا جا رہا ہے۔
 
ٹھیک ہے ماں,میں تیرے ساتھ چلونگی۔ مسکراتی گہو ماں کے سینے سے لگ گئی اور ماں نے خوب لاڑ پیار بھی کیا۔ 
 
آج آفس سے آتے ہی گہو بستر پر جا لیٹی۔ ماں جب آفس سے لوٹی تو دیکھا که گہو بستر پر سو رہی تھی۔ ماں نے پاس جاکر اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو بدن تپ رہا تھا۔ ماں نے ڈاکٹر کو فون کیا۔ ڈاکٹر نے دوائیں دیں اور کہا که یہ کچھ ٹیسٹ ہیں,جو دو دن بعد کروا لیجئیگا۔
 
ادھر رپورٹ میںآیا۔ ڈاکٹر نے کہا که آخری سٹیج ہے اور وقت صرف مہینیبھر کا۔ 
 
ماں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ پاگل سی ہو گئی۔ سمجھ نہیں پا رہی تھی که کرے تو کیا کرے؟ پھر اسنے خود کو سنبھالا اور گھر کی اور چل پڑی۔
 
اب گہو بستر پر ہی لیٹے لیٹے کوتائیں اور کہانیاں لکھتی۔
 
آج ماں نے اس سے کہا که بہت جلد ہی اسکی کتاب چھپ جائیگی۔ گہو بہت خوش ہوئی۔
 
اتنا لکھتی ہے تو آج۔ مجھے بھی دکھا نہ که لکھا کیا ہے؟
 
گہو نے ڈائری ماں کے سامنے رکھ دی۔
 
لپھجوں میں پرویا ہے تمہیں
لمحوں میں بسایا ہے تمہیں
گواہ ہیں یہ کورے پنے
کس طرح تمہیں چاہا ہے میں نے۔
 
ماں کی آنکھیں بھر آئیں۔ ماں نے گہو سے کہا که کیا تو مجھے انمول کے ای میل کا پتہ دیگی؟
 
گہو نے انمول کی ای میل اپنی ماں کو دے دی۔
 
دو ہفتے بیت گئے اور گہو کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروانا پڑا,جہاں ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی تھی پھر بھی کوئی سدھار نہیں اسکی طبیعت میں۔ ادھر کئی دنوں سے گہو کا کوئی میل نہ پاکر انمول پریشان ہو رہا تھا۔ اسنے گہو کو کئی ای میل کئے یہ سوچ کر که گہو ناراض ہو گئی ہوگی,پر کوئی جواب نہیں ملا۔
 
انمول آفس سے آتے ہی سب سے پہلے میل چیک کرتا,لیکن یہ کیا؟ یہ تو گہو کی ماں کا میل؟ آشچریہ سے بھر اٹھا اور جھٹ سے چیک کرنے کے لئے میل کھولنے لگا۔ پورا میل اسنے کئی کئی بار پڑھا اور آفس سے چھٹی لیکر گھر آ گیا۔ اسنے تے کیا که وہ گہو کے پاس جائیگا۔
 
گہو کافی کمزور ہو گئی تھی اور دواؤں کے اثر سے اسے نیند سی رہتی۔ ڈھلتی شام الوداع کہنے کو بیچین تھی۔ یہ شام گہو کو نہ جانے کتنی یادوں کو پنوں پر لکھنے کو مجبور کیا کرتی تھی۔
 
آج شام جب گہو نے بوجھل پلکیں اٹھائیں تو سامنے انمول کھڑا تھا۔
 
انمول,انمول تم؟ یہ کوئی خواب دیکھ رہی ہوں کیا میں؟ یا حقیقت ہے؟ میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔
 
انمول ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔
 
تبھی ماں نے کہا که گہو,انمول تم سے ملنے آیا ہے اور یہ کوئی سپنا نہیں ہے۔ اسے میں نے ای میل کیا تھا۔
 
انمول آؤ بیٹھو یہاں۔ چیئر آگے بڑھاتے ہوئے ماں نے کہا۔
 
آج میں بیحد خوش ہوں۔ زندگی میں جسکی ساری خواہشیں پوری ہو جائیں,ایسے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں۔ انمول,میں تمہیں مرنے سے پہلے ایک بار دیکھنا چاہتی تھی اور تمہیں دیکھ بھی لیا۔ اب مجھے چین کی نیند آ جائیگی۔ میں نے اپنی ساری بیچینیوں کو پنوں کی پرت میں دبا تو دیا تھا,پر نہ جانے ایسا کیا تھا,جو مجھے سہج نہیں ہونے دے رہا تھا۔ تمہیں دیکھتے ہی وہ سہجتا خود ب خود ہی آ گئی۔ میں نشچت ہی بہت ہی بھاگیہ شالی ہوں۔
 
سچ کہہ رہی ہو گہو تم۔ ابھاگیشالی تو میں ہوں,جو تم مجھے اکیلا چھوڑکر جا رہی ہو۔ میری عادت تھی تم,میری خوشیاں,میرا غم تھیں تم۔ میں خود کو کیسے سمبھالونگا,یہ بھی نہیں سوچا تم نے؟
 
انمول ایسا نہ کہو۔ سچ پوچھو تو میں نے صرف تمہیں ہی سوچا ہے۔ میرے ایک ایک شبد میں صرف تم ہو۔ میں مرنا نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی میں مرونگی کبھی۔ یوں کہو که میں مر ہی نہیں سکتی۔ میں خود کو کتابوں میں سمیٹ کر جا رہی ہوں۔ تم جب بھی میری کتاب کا کوئی بھی پنا پلٹو گے,کوئی بھی نجم پڑھو گے تو میں تمہیں اس میں ملونگی۔ میں تم سے جدا ہو ہی نہیں سکتی۔ میری لکھاوٹ ایک کتاب نہیں ہے,میری زندگی ہے جسمیں میں سانس لیتی رہی۔ جسمیں میں ٹوٹ کر بکھرتی رہی۔ جسمیں میں گلموہر کی طرح کھلتی رہی۔ جسمیں میں نے کبھی دھوپ,تو کبھی پیپل کی ٹھنڈی چھانو محسوس کی,چاندنی کی نور بھر لائی۔ میں تمہیں اپنی زندگی سونپ کر جا رہی ہوں۔
 
گہو نے مسکراتے ہوئے انمول سے کہا که میں تمہاری عادت تھی نہ۔ تو عادت نہیں بدلی جا سکتی ہے۔
 
انمول کی آنکھیں بھر آئیں۔ 
 
انمول نے گہو سے کہا که گہو اتنی بڑی سجا دو گی تم مجھے۔ نہیں گہو,ایسا نہ کرو۔ تم نے میرا ہر پل ساتھ دیا,بھلے ہی میں تم سے میلوں دور تھا,پر تم نے مجھے کبھی دوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ میرے ہر درد میں تم ساتھ تھی,بھلے ہی میں تمہارے درد کو سمجھ نہیں پایا۔ آج تم یہاں ہو۔ میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا ہوں۔ تم مجھ سے ملنے آنا چاہتی تھی لیکن میں نے کیا کیا؟ میں نے اپنی مجبوریوں اور حالات کا پتھر رکھ دیا تمہارے راستے میں۔ تم نے ایک بار نہیں,کئی بار کوشش کی مجھ تک پہنچنے کی,پر تقدیر میری که اسنے مجھے تم سے ملنے نہیں دیا۔ انمول بپھرکر رو پڑا۔
 
گہو نے انمول کو سنبھالتے ہوئے کہا که ارے تقدیر بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے نہ جسکے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔ 
 
انمول,تمہیں دیکھنے کے بعد میرے جینے کی تمنا پھر جاگ اٹھی ہے اور میں پھر سے ہنسنا چاہتی ہوں,اڑنا چاہتی ہوں اپنی امنگوں کے ساتھ۔ لکھنا چاہتی ہوں۔ میں وہ سب کرنا چاہتی ہوں,جو پہلے کرتی تھی لیکن وقت؟ یہ وقت ہی تو نہیں ہے میرے پاس۔ میری ایک تمنا پوری کر دو۔ پھر مجھے اسی جگہ لے چلو,جہاں ہم پہلی بار ملے تھے۔ تھوڑی دیر کے لئے ہی صحیح,میں جینا چاہتی ہوں۔
 
ہاں ہاں گہو,ہم ضرور چلینگے۔ کل شام کو چلتے ہیں۔ اب تم آرام کرو۔ رات کافی ہو گئی ہے۔ گہو نے دوا لی اور وہ سو گئی۔ 
 
صبح جب سب گہو کے کمرے میں پہنچے تو گہو سو رہی تھی۔ آج جگانے پر بھی وہ نہیں جاگی۔ گہری نیند میں سو گئی تھی اور اسکے چہرے پر سکون کی جھلک صاف دکھ رہی تھی۔
 
انمول نے گہو کو جگاتے ہوئے کہا که گہو اٹھو,ہمیں ایپھل ٹاور چلنا ہے۔ اٹھو نہ,بہت سو لی۔ ابھی تو ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ کچھ تو بولو۔ جب کبھی میں ایک شبد کہتا تھا تو تمہارے جواب میں شبدوں کی جھڑیاں لگ جاتی تھی۔ میں جب کچھ نہ بولتا تو تم ایک دم خاموش ہو جاتی تھی۔ لیکن گہو آج میں کتنا بول رہا ہوں,تم کیوں نہیں بول رہی؟ گہو اٹھو نہ!
 
اب تو گہو ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی تھی اپنے ادھورے خوابوں کے ساتھ اور انمول ہاتھ میں اسکی کتاب لئے! >
>


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation