Loading...
Ganga Dussehra 2019 :گنگا دشہرا,جانئے مہتو اور اس دن کی وشیش پورانک کتھا| Webdunia Hindi

Ganga Dussehra 2019 :گنگا دشہرا,جانئے مہتو اور اس دن کی وشیش پورانک کتھا


جییشٹھ شکل دشمی ہست نکشتر میں شریشٹھ ندی سورگ سے اوترت ہوئی تھیں۔ گنگا ماں ہ مارےوشیش پاپوں کو نشٹ کرتی ہے۔ گنگا کے پرتھوی پر اوترن کے پرو کو گنگا دشہرا کے روپ میں منایا جاتا ہے۔
پرتیورش جییشٹھ ماہ کی شکل پکش کی دشمی کو گنگا دشہرا منایا جاتا ہے۔ جییشٹھ شکل پکش کی دشمی کو سنوتسر کا مکھ کہا گیا ہے۔ اسلئے اس دن دان اور سنان کا ہی اتیدھک مہتو ہے۔ وراہ پران کے انوسار جییشٹھ شکل دشمی,ہست نکشتر میںآئی تھی۔ اس ورشجون کو گنگا دشہرا منایا جائیگا۔
گنگا مییا ہم بھارتواسیوں کے لئے دیولوک کا مہا پرساد ہیں۔ ماں گنگا ہم بھارتیوں کو راشٹریہ ایکتا کے سوتر میں پروتی ہیں۔ ہمارے یہاں مرتیو سے ٹھیک پورو گنگا جل کی کچھ بوندیں منھ میں ڈالنا موکش کا پریائے مانا جاتا ہے۔ اسکے جل میں سنان کرنے سے جیون کے سبھی سنتاپوں سے مکتی ملتی ہیں۔

سرکاری پریاس کے ساتھ اس پوتر ندی کو سوچھ بنائے رکھنے کی ذمیداری ہم سب کی بھی ہے۔ کسی بھی پرکار سے اسے دوشت نہ کرنے کا سنکلپ لینا ہوگا۔ ندی کی سوچھتا کو بنائے رکھنے کے لئے گنگاجی میں سنان کرتے سمیہ صابن کا پر یوگ نہیں کریں اور نہ ہی صابن لگاکر کپڑے دھونا چاہئیے۔

گنگا دشہرا تن کے ساتھ ساتھ من کی شدھی کا پرو بھی ہے,اسلئے اس دن گنگاجی میں کھڑے ہوکر اپنی پورو میں کی ہوئی غلطیوں کے لئے شما مانگنی چاہئیے اور بھوشیہ میں کوئی بھی برا کاریہ نہیں کرنے کا سنکلپ لینا چاہئیے۔

گنگا کے اوترن کی پورانک کتھا

پراچین کال میں ایودھیا میں سگر نام کے مہاپرتاپی راجا راجیہ کرتے تھے۔ انہوں نے ساتوں سمدروں کو جیت کر اپنے راجیہ کا وستار کیا۔ انکی کیشنی تتھا سمتی نامک دو رانیاں تھیں۔ پہلی رانی کے ایک پتر اسمنجس کا الیکھ ملتا ہے,پرنتو دوسری رانی سمتی کے ساٹھ ہزار پتر تھے۔
ایک بار راجا سگر نے اشو میدھ یگی کیا اور یگی پورتی کے لئے ایک گھوڑا چھوڑا۔ اندر نے اس یگی کو بھنگ کرنے کے لئے یگیی اشو کا اپہرن کر لیا اور اسے کپل منی کے آشرم میں باندھ آئے۔ راجا نے اسے کھوجنے کے لئے اپنے ساٹھ ہزار پتروں کو بھیجا۔

سارا بھومنڈل چھان مارا,پھر بھی اشو نہیں ملا۔ پھر اشو کو کھوجتے کھوجتے جب کپل منی کے آشرم میں پہنچے تو وہاں انہوں نے مہرشی کپل کو تپسیا کرتے دیکھا۔ انہیں کے پاس مہاراج سگر کا اشو گھاس چر رہا ہے۔ سگر کے پتر انہیں دیکھ کر چور چور چلاّنے لگے۔
اس سے مہرشی کپل کی سمادھی ٹوٹ گئی۔ جیوں ہی مہرشی نے اپنے نیتر کھولے,تیوں ہی سب جل کر بھسم ہو گئے۔ اپنے پترویہ چرنوں کو کھوجتا ہوا راجا سگر کا پوتر انشمان جب منی کے آشرم میں پہنچا تو مہاتما گرڑ نے بھسم ہونے کا سارا ورتانت سنایا۔

گرڑ جی نے یہ بھی بتایا,یدی ان سب کی مکتی چاہتے ہو تو گنگاجی کو سورگ سے دھرتی پر لانا پڑےگا۔ اس سمیہ اشو کو لے جاکر اپنے پتامہ کے یگی کو پورن کراؤ,اسکے بعد یہ کاریہ کرنا۔
انشمان نے گھوڑے سہت یگیمنڈپ پر پہنچ کر سگر سے سارا ورتانت کہہ سنایا۔ مہاراج سگر کی مرتیو کے اپرانت انشمان اور انکے پتر دلیپ جیون پرینت تپسیا کرکے بھی گنگاجی کو مرتیلوک میں لا نہ سکے۔

سگر کے ونش میں انیک راجا ہوئے,سبھی نے ساٹھ ہزار پوروجوں کی بھسمی کے پہاڑ کو گنگا کے پرواہ کے دوارہ پوتر کرنے کا پریتن کیا,کنتو وہ سپھل نہ ہوئے۔ انت میں مہاراج دلیپ کے پترنے گنگاجی کو اس لوک میں لانے کے لئے گوکرن تیرتھ میں جاکر کٹھور تپسیا کی۔
اس پرکار تپسیا کرتے کرتے کئی ورش بیت گئے۔ انکے تپ سے پرسن ہوکر برہما نے ور مانگنے کو کہا تو بھاگیرتھ نے'گنگا"کی مانگ کی۔ بھاگیرتھ کے گنگا مانگنے پر برہما جی نے کہا, 'راجن! تم گنگا کو پرتھوی پر تو لے جانا چاہتے ہو,پرنتو گنگاجی کے ویگ کو سنبھالنے کی شکتی کیول بھگوان شو میں ہے۔ اسلئے اچت یہ ہوگا که گنگا کا بھار ایوں ویگ سنبھالنے کے لئے بھگوان شو کا انگرا پراپت کر لیا جائے۔"

مہاراج بھاگیرتھ نے ویسا ہی کیا۔ بھگوان شو نے گنگا کو اپنی جٹاؤں میں دھارن کیا۔ راجا بھگیرتھ کی گنگا کو پرتھوی پر لانے کی کوششوں کے کارن اس ندی کا ایک نام بھگیرتھی بھی ہے۔
گنگا دشہرا ہندؤں کا ایک پرمکھ تیوہار ہے۔ اس میں سنان,دان,ورت تتھا پوجن ہوتا ہے۔ سکند پران میں لکھا ہوا ہے که جییشٹھ شکل دشمی سنوتسرمکھی ہے۔ اس میں کسی بھی ندی پر جاکر ارگھیہ(پوجادک)ایوں تلودک(تیرتھ پراپتی نمتک ترپن)اوشیہ کریں۔ اس دن متھرا میں پتنگباجی کا وشیش آیوجن ہوتا ہے۔

گنگا سنان کا مہتو

بھوشیہ پران میں لکھا ہوا ہے که جو منشیہ گنگا دشہرا کے دن گنگا کے پانی میں کھڑا ہوکر دس بار'اوم نمو بھگوتی ہلی ہلی ملی ملی گنگے ماں پاویہ پاویہ سواہا"ستوترپڑھتا ہے,چاہے وہ دردر ہو,اسمرتھ ہو,وہ گنگا کی پوجا کا پورن پھل پا لیتا ہے۔

یدی جییشٹھ شکل دشمی کے دن منگلوار ہو تتھا ہست نکشتر تتھی ہو تو یہ سب پاپوں کو ہرنے والی ہوتی ہے۔

وراہ پران میں لکھا ہے که جییشٹھ شکل دشمی ہست نکشتر میں شریشٹھ ندی سورگ سے اوترت ہوئی تھی۔ وہ10بڑے پاپوں کو نشٹ کرتی ہے۔ اس کارن اس تتھی کو دشہرا کہتے ہیں۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation