Loading...
اپنی وانی سے دنیا کو چکت کرنے والے سوامی وویکانند نے کی تھی دھرم کی نئی پر یبھاشا۔Swami Vivekananda | Webdunia Hindi

اپنی وانی سے دنیا کو چکت کرنے والے سوامی وویکانند نے کی تھی دھرم کی نئی پر یبھاشا


*سوامینے بتایا تھا دھرم کی نئی پر یبھاشا کا مارگ
اپنی تیز اور اوجسوی وانی کے ذریعے پورے وشو میں بھارتیہ سنسکرتی اور آدھیاتم کا ڈنکا بجانے والےنے کیول وگیانک سوچ تتھا ترک پر بل ہی نہیں دیا,بلکہ دھرم کو لوگوں کی سیوا اور ساماجک پرورتن سے جوڑ دیا۔

وویکانند دوارہ ستھاپت اور جن کلیان سے جڑے رام کرشن مشن کے سوامی سنت آتمانند نے کہا, ‘وویکانند نے دھرم کو سویں کے کلیان کی جگہ لوگوں کی سیوا سے جوڑا۔ انکا ماننا تھا که دھرم کسی کونے میں بیٹھ کر صرف منن کرنے کا مادھیم نہیں ہے۔ اسکا لابھ دیش اور سماج کو بھی ملنا چاہئیے۔’
شکاگو میں آیوجت وشو دھرم پریشد کے ذریعے آدھونک وشو کو بھارتیہ دھرم اور سنسکرتی سے پرچت کرانے والے وویکانند ایک مہان سمنویکاری بھی تھے۔ سوتنتر بھارت کے پرتھم پردھان منتری جواہر لال نہرو نے وویکانند کو پراچین اور آدھونک بھارت کے بیچ کا سیتو بتایا ہے۔

وہیں سبھاش چندر بوس نے وویکانند کے بارے میں لکھا ہے, ‘سوامی جی نے پورب اور پچھم,دھرم اور وگیان,اتیت اور ورتمان کا سمایوجن کیا۔ یہی وجہ ہے که وہ مہان ہیں۔’

رام کرشن مشن میں سوینسیوک دیواشیش مکھرجی نے کہا, ‘سوامی وویکانند مول روپ سے آدھیاتمک جگت کے ویکتی تھے,لیکن ساماجک کاریوں پر بھی انہوں نے کافی زور دیا۔ انکے سندیش کے کیندر میں منشیہ کی گرما ہے اور وہ مانو کو ایشور کا انش مانتے تھے۔’سویں وویکانند نے بھی‘راج یوگ’میں لکھا ہے که پرتیک آتما ایشور کا انش ہے۔ اندر کے ایشور کو باہر پرکاشت کرنا لکشیہ ہے۔ ایسا قرم,بھکتی,دھیان کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

دیواشیش مکھرجی نے کہا, ‘وویکانند بھارت کو ایسا دیش مانتے تھے,جہاں پر آدھیاتم جیوت ہے اور جہاں سے پورے وشو میں آدھیاتم کا پرچار پرسار کیا جا سکتا ہے۔ وہ اسے بھارت کی مہتوپورن وشیشتا مانتے تھے اور کیول اسے بنائے رکھنے کی نہیں بلکہ اسے بڑھانے کی ضرورت پر بل دیتے تھے۔’

وویکانند نے ساماجک آرتھک سمسیاؤں کو بھی اپنے چنتن کا وشیہ بنایا ہے۔ انہوں نے1894میں میسور کے مہاراجہ کو لکھے پتر میں عام جنتا کی غریبی کو سبھی انرتھوں کی جڑ بتایا ہے۔ انہوں نے اسے دور کرنے کے لئے شکشا اور انمیں آتموشواس پیدا کرنا سرکار اور شکشتوں کا مکھیہ کاریہ بتایا تھا۔ بھارت آج بھی اسی دشا میں پریاسرت ہے۔

مکھرجی نے کہا, ‘وویکانند نے غریب اور پیڑت جنتا کے اتھان کو اہم مانا ہے۔ اسکے لئے انہوں نے وگیان اور تکنیک کے استعمال پر بل دیا ہے۔ وہ عام لوگوں کے وکاس میں ہی دیش اور وشو کا وکاس مانتے تھے۔’آج بھی وویکانند کو یوواؤں کا آدرش مانا جاتا ہے اور پرتیک سال انکے جنم دن12جنوری کو راشٹریہ یووا دوس منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا که, ‘وویکانند یوواؤں سے میدان میں کھیلنے,کسرت کرنے کے لئے کہتے تھے تاکہ شریر سوستھ اور ہرشٹ پشٹ ہو سکے اور آتموشواس بڑھے۔’

اپنی وانی اور تیز سے دنیا کو چکت کرنے والے وویکانند نے سبھی منشوں اور انکے وشواسوں کو مہتو دیتے ہوئے دھارمک جڑ سدھانتوں اور سامپردائک بھید بھاو کو مٹانے کا سندیش دیا۔


-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation