Loading...
آستھا کا پرمکھ کیندر ہے پاکستان کا ماتا ہنگلاج مندر,جہاں ہوتی ہے ہر منوکامنا پوری۔mata hinglaj mandir | Webdunia Hindi

آستھا کا پرمکھ کیندر ہے پاکستان کا ماتا ہنگلاج مندر,جہاں ہوتی ہے ہر منوکامنا پوری

mata hinglaj mandir pakistan
* میں ہے ماتا ہنگلاج کا شکتپیٹھ,جہاں مسلم کرتے ہیں اسکی دیکھ ریکھ
ماتا ستی کے51شکتپیٹھوں میں سے ایک شکتپیٹھ پاکستان کے قبضے والے بلوچستان میں ستھت ہے۔ اس شکتپیٹھ کی دیکھ ریکھ مسلم کرتے ہیں اور وہ اسے چمتکارک ستھان مانتے ہیں۔ اس مندر کا نام ہے ماتا ہنگلاج کا مندر۔

پاکستان کے قبضے والے بلوچستان شیتر میں ستھت ماں ہنگلاج مندر میں ہنگلاج شکتپیٹھ کی پرتیروپ دیوی کی پراچین درشنیہ پرتما وراجمان ہیں۔ ماتا ہنگلاج کی خیاطی صرف کراچی اور پاکستان ہی نہیں اپتو پورے بھارت میں ہے۔ نوراتری کے دوران تو یہاں پر نو دنوں تک شکتی کی اپاسنا کا وشیش آیوجن ہوتا ہے۔ سندھ کراچی کے لاکھوں سندھی ہندو شردھالو یہاں ماتا کے درشن کو آتے ہیں۔ بھارت سے بھی پرتیورش ایک دل یہاں درشن کے لئے جاتا ہے۔
پاکستان کے بلوچستان راجیہ میں ہنگول ندی کے سمیپ ہنگلاج شیتر میں ستھت ہنگلاج ماتا مندر ہندو بھکتوں کی آستھا کا پرمکھ کیندر اور پردھان51شکتپیٹھوں میں سے ایک ہے۔ ہنگول ندی اور چندرکوپ پہاڑ
پر ستھت ہے۔ سرمے پہاڑیوں کی تلہٹی میں ستھت یہ مندر اتنا وکھیات ہے که یہاں ورش بھر میلے جیسا ماحول رہتا ہے۔

پورانک تتھیہ: پورانک کتھانسار جب بھگوان شنکر ماتا ستی کے مرت شریر کو اپنے کندھے پر لیکر تانڈو نرتیہ کرنے لگے,تو برہمانڈ کو پرلے سے بچانے کے لئے بھگوان وشنو نے اپنے سدرشن چکر سے ماتا کے مرت شریر کو51بھاگوں میں کاٹ دیا۔
مانیتانسار ہنگلاج ہی وہ جگہ ہے جہاں ماتا کا سر گرا تھا۔ جنشرتی ہے که مریادہ پرشوتم بھگوان شری رام بھی یاترا کے لئے اس سدھ پیٹھ پر آئے تھے۔ ہندو دھرم گرنتھوں کے انوسار بھگوان پرشورام کے پتا مہرشی جمدگری نے یہاں گھور تپ کیا تھا۔ انکے نام پر آسارام نامک ستھان اب بھی یہاں موجود ہے۔

ماتا ہنگلاج مندر میں پوجا اپاسنا کا بڑا مہتو ہے۔ کہا جاتا ہے که اس پرسدھ مندر میں ماتا کی پوجا کرنے کو گرو گورکھ ناتھ,گرو نانک دیو,دادا مکھان جیسے مہان آدھیاتمک سنت آ چکے ہیں۔
ایسا ہے مندر کا سوروپ: یہاں کا مندر گپھا مندر ہے۔ اونچی پہاڑی پر بنی ایک گپھا میں ماتا کا وگرہ روپ وراجمان ہے۔ پہاڑ کی گپھا میں ماتا ہنگلاج دیوی کا مندر ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں۔ مندر کی پرکرما میں گپھا بھی ہے۔ یاتری گپھا کے ایک راستے سے داخل ہوکر دوسری اور نکل جاتے ہیں۔ مندر کے ساتھ ہی گرو گورکھ ناتھ کا چشمہ ہے۔ مانیتا ہے که ماتا ہنگلاج دیوی یہاں صبح سنان کرنے آتی ہیں۔
یہاں ماتا ستی کوٹٹری روپ میں جبکہ بھگوان بھولیناتھ بھیملوچن بھیرو روپ میں پرتشٹھت ہیں۔ ماتا ہنگلاج مندر پرسر میں شریگنیش,کالکا ماتا کی پرتما کے علاوہ برہمکنڈ اور تیرکنڈ آدی پرسدھ تیرتھ ہیں۔ اس آدی شکتی کی پوجا ہندؤں دوارہ تو کی ہی جاتی ہے انھیں مسلمان بھی کافی سمان دیتے ہیں۔

ہنگلاج مندر میں داخل ہونے کے لئے پتھر کی سیڈھاں چڑھنی پڑتی ہیں۔ مندر میں سب سے پہلے شری گنیش کے درشن ہوتے ہیں جو سدھی دیتے ہیں۔ سامنے کی اور ماتا ہنگلاج دیوی کی پرتما ہے جو ساکشات ماتا ویشنو دیوی کا روپ ہیں۔

کیسے جائیں ماتا ہنگلاج کے مندر درشن کو:-اس سدھ پیٹھ کی یاترا کے لئے دو مارگ ہیں ایک پہاڑی تتھا دوسرا مرستھلی۔ یاتری جتھا کراچی سے چل کر لسبیل پہنچتا ہے اور پھر لیاری۔ ماتا ہنگلاج دیوی کی یاترا کٹھن ہے کیونکہ راستہ کافی اوبڑ کھابڑ ہے۔ اسکے دور دور تک آبادی کا کوئی نامو نشان تک نظر نہیں آتا۔

کراچی سے چھہ سات میل چلکر"ہاو"ندی پڑتی ہے۔ یہیں سے ہنگلاج کی یاترا شروع ہوتی ہے۔ یہیں شپتھ گرہن کی کریا سمپن ہوتی ہے,یہیں پر لوٹنے تک کی اودھی تک کے لئے سننیاس گرہن کیا جاتا ہے۔ یہیں پر چھڑی کا پوجن ہوتا ہے اور یہیں پر رات میں وشرام کرکے پرات:کال ہنگلاج ماتا کی جے بول کر مرتیرتھ کی یاترا پرارمبھ کی جاتی ہے۔

راستے میں کئی برساتی نالے تتھا کئیں بھی ملتے ہیں۔ اسکے آگے ریت کی ایک ششک برساتی ندی ہے۔ اس علاقے کی سب سے بڑی ندی ہنگول ہے جسکے نکٹ چندرکوپ پہاڑ ہیں۔ چندرکوپ تتھا ہنگول ندی کے مدھیہ لگ بھگ15میل کا فاصلہ ہے۔ ہنگول میں یاتری اپنے سر کے بال کٹوا کر پوجا کرتے ہیں تتھا یگیوپویت پہنتے ہیں۔ اسکے بعد گیت گاکر اپنی شردھا کی ابھویکتی کرتے ہیں۔
مندر کی یاترا کے لئے یہاں سے پیدل چلنا پڑتا ہے کیونکہ اس سے آگے کوئی سڑک نہیں ہے اسلئے ٹرک یا جیپ پر ہی یاترا کی جا سکتی ہے۔ ہنگول ندی کے کنارے سے یاتری ماتا ہنگلاج دیوی کا گنگان کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ اس سے آگے آساپرا نامک ستھان آتا ہے۔ یہاں یاتری وشرام کرتے ہیں۔ یاترا کے وستر اتار کر سنان کرکے صاف کپڑے پہن کر پرانے کپڑے غریبوں تتھا ضرورتمندوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس سے تھوڑا آگے کالی ماتا کا مندر ہے۔ اتہاس میں الیکھ ملتا ہے که یہ مندر2000ورش پورو بھی یہیں ودیمان تھا۔
اس مندر میں آرادھنا کرنے کے بعد یاتری ہنگلاج دیوی کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ یاتری چڑھائی کرکے پہاڑ پر جاتے ہیں جہاں میٹھے پانی کے تین کئیں ہیں۔ ان کنؤں کا پوتر جل من کو شدھ کرکے پاپوں سے مکتی دلاتا ہے۔ اسکے نکٹ ہی پہاڑ کی گپھا میں ماتا ہنگلاج دیوی کا مندر ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں۔ مندر کی پرکرما میں گپھا بھی ہے۔ یاتری گپھا کے ایک راستے سے داخل ہوکر دوسری اور نکل جاتے ہیں۔ مندر کے ساتھ ہی گرو گورکھ ناتھ کا چشمہ ہے۔ مانیتا ہے که ماتا ہنگلاج دیوی یہاں صبح سنان کرنے آتی ہیں۔
چمتکار: برٹش شاسنکال میں بلوچستان تین حصوں میں بنٹا ہوا تھا۔ ایک بھاگ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا,جہاں انگریزی شاسن تھا,دوسرا بھاگ سوادھین یا کرد راجیہ تھا جو لاسبیلا اور کلاس کی ریاستوں کے ادھین تھا۔ تیسرا بھاگ ایران کے انترگت تھا۔ اب ایرانی بلوچستان کو چھوڑکر شیش دونوں بھاگ پاکستان کے انترگت ہیں۔

جب پاکستان کا جنم نہیں ہوا تھا اور بھارت کی پچھمی سیما افغانستان اور ایران تھی,اس سمیہ ہنگلاج تیرتھ ہندوؤں کا پرمکھ تیرتھ تو تھا ہی,بلوچستان کے مسلمان بھی ہنگلا دیوی کی پوجا کرتے تھے,انہیں'نانی'کہ کر مسلمان بھی لال کپڑا,اگر بتی ,موم بتی,عطرپھلل اور سرنی چڑھاتے تھے۔ ہنگلاج شکتپیٹھ ہندوؤں اور مسلمانوں کا سنیکت مہاتیرتھ تھا۔ ہندوؤں کے لئے یہ ستھان ایک شکتپیٹھ ہے اور مسلمانوں کے لئے یہ نانی پیر کا ستھان ہے۔
پرمکھ روپ سے یہ مندر چارن ونش کے لوگوں کی کل دیوی معنی جاتی ہے۔ یہ شے‍تر بھارت کا ہنسا ہی تھا تب یہاں لاکھوں ہندو ایکجٹ ہوتے تھے۔ مسلم کال میں اس مندر پر مسلم آکرانتانوں نے کئی حملے کئے لیکن ستھانیہ ہندو ارو مسلمانوں نے اس مندر کو بچایا۔ کہتے ہیں که جب یہ حصہ بھارت کے ہاتھوں سے جاتا رہا تب کچھ آتنکوادیوں نے اس مندر کو شتی پہنچانے کا پریاس کیا تھا لیکن وہ سبھی کے سبھی ہوا میں لٹکے گئے تھے۔
سبھی شکتیوں کا راس: اس مندر سے جڑی ایک اور مانیتا ویاپت ہے۔ کہا جاتا ہے که ہر رات اس ستھان پر سبھی شکتیاں ایکترت ہوکر راس رچاتی ہیں اور دن نکلتے ہنگلاج ماتا کے بھیتر سما جاتی ہیں۔

اس مندر پر گہری آستھا رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے که ہندو چاہے چاروں دھام کی یاترا کیوں نہ کر لے,کاشی کے پانی میں سنان کیوں نہ کر لے,ایودھیا کے مندر میں پوجا پاٹھ کیوں نہ کر لیں,لیکن اگر وہ ہنگلاج دیوی کے درشن نہیں کرتا تو یہ سب ویرتھ ہو جاتا ہے۔ وہ استریاں جو اس ستھان کا درشن کر لیتی ہیں انہیں ہاجیانی کہتے ہیں۔ انہیں ہر دھارمک ستھان پر سمان کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

ماتا کا چول:ایک بار یہاں ماتا نے پرکٹ ہوکر وردان دیا که جو بھکت میرا چول چلیگا اسکی ہر منوکامنا پوری ہوگی۔

چول ایک پرکار کا انگاروں کا باڑا ہوتا ہے جسے مندر کے بہار10فٹ لمبا بنایا جاتا ہے اور اسے دھدھکتے ہوئے انگاروں سے بھرا جاتا ہے جس پر منتدھاری چل کر مندر میں پہچتے ہیں اور یہ ماتا کا چمتکار ہی ہے کی منتدھاری کو ذرا سی پیڑا نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی شریر کو کسی پرکار کا نقصان ہوتا ہے,لیکین آپکی منت ضرور پوری ہوتی ہے۔ حالانکہ آج کل یہ پرمپرا نہیں رہی۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation