Loading...
کیا آپ جانتے ہیں نرسنگھ اوتار کا آشچریہ جنک رہسیہ,سکلیگڑھ کا سچ جان کر حیران رہ جا ئینگے| Webdunia Hindi

کیا آپ جانتے ہیں نرسنگھ اوتار کا آشچریہ جنک رہسیہ,سکلیگڑھ کا سچ جان کر حیران رہ جا ئینگے


-ونود بندھو

اتہاسک اور پراتاتوک ستھلوں میں چراند ایک ایسی جگہ ہے جہاں ٹیلے میں ہزار ورش پرانی سبھیتا اور سنسکرتی کے اوشیشوں کا جکھیرا دفن ہے۔ یہ صحیح ہے که نالندہ,گیا,ویشالی جیسے ضلعوں میں بودھ,جین اور ہندو دھرم سے جڑے انیک اتہاسک اور پراتاتوک ستھل ہیں جن کی خیاطی انترراشٹریہ سطر پر ہے اور انمیں سمردھ پریٹن ستھل کے روپ میں وکست ہونے کی تمام سنبھاونائیں موجود ہیں لیکن متھلا,چمپارن,انگ آدی شیتروں میں بھی ایسے انیک پراچین ستھل ہیں جو نایاب کلاکرتیوں,تنتر,ادھیاتم اور پراکرتک سوندریہ کے بہتر نمونے ہیں۔

پورووتر بہار میں پورنیا پرمنڈل مکھیالیہ سے30کلومیٹر دور دھرہرا گاؤں ستھت سکلیگڑھ کا بھی اپنا دھارمک اور پراتاتوک مہتو ہے۔ اسے بھکت پرہلاد کی رکشا کے لئے بھگوان وشنو کےاوتار اور راجا ہرنیکشیپ کا ودھ ستھل مانا جاتا ہے۔ یہاں ہزاروں شردھالو بھکت وشنو کی پوجا کرنے آتے ہیں۔ سکلیگڑھ میں موجود ستمبھ اسکے اتی پراچین ہونے کا پرمان ہے۔

ویسے کچھ انگریج شاسکوں اور بنگالی اتہاسکاروں کی مانیتا رہی ہے که یہ سمراٹ اشوک کے سمیہ کا ستمبھ ہے لیکن نہ تو اسکا سوروپ اس سمیہ لگے ستمبھوں سے میل کھاتا ہے نہ ہی لوگوں میں ایسی کوئی مانیتا ہے۔ یہاں دھارنا ہے که بھکت پرہلاد کے جیون کی رکشا کے لئے بھگوان وشنو نے اسی ستمبھ سے نرسنگھ اوتار لیا۔ گجرات کے پوربندر ستھت بھارت مندر میں بھی اس ستھل کا الیکھ نرسنگھ اوتار کے بطور ہے۔
وہ کھمبھا جس سے نرسنگھ اوتار کے باہر نکلنے کی مانیتا ہے۔

لال گرینائٹ کے اس ستمبھ کا شیرش حصہ دھوست ہے۔ زمین کی سطح سے قریب دس فٹ اونچا اور دس فٹ ویاس کے اس ستمبھ کا اندرونی حصہ پہلے کھوکھلا تھا۔ پہلے جب شردھالو اس میں پیسے ڈالتے تھے تو ستمبھ کے بھیتر سے چھپ چھپ کی آواز آتی تھی۔ اس سے انومان لگایا جاتا تھا که ستمبھ کے نچلے حصے میں جل ثروت ہے۔ بعد میں ستمبھ کا پیٹ بھر گیا۔ اسکے دو کارن ہو سکتے ہیں ایک تو ستھانیہ لوگوں نے مٹی ڈال کر بھر دیا یا پھر کسی پراکرتک گھٹنا میں نیچے کا جل ثروت سوکھ گیا اور اس میں ریت بھر گئی۔

ستھانیہ لوگوں کا کہنا ہے که19ویں صدی کے انت میں ایک انگریج پراتتوود یہاں آئے تھے۔ انہوں نے اس ستمبھ کو اکھاڑنے کا پریاس کیا لیکن یہ ہلا تک نہیں۔ ورش1811میں فرانسس بکانن نے بہار بنگال گجیٹیر میں اس ستمبھ کا الیکھ کرتے ہوئے لکھا که اس پرہلاد ادھارک ستمبھ کے پرتی ہندو دھرماولمبیوں میں اثیم شردھا ہے۔ اسکے بعد ورش1903میں پورنیا گجیٹیر کے سمپادک جان او.میلی نے بھی پرہلاد ستمبھ کی چرچا کی۔ میلی نے یہ خلاصہ بھی کیا تھا که اس ستمبھ کی گہرائی کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
بہار میں ہولی کا تیوہار بہت ہی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ سکلیگڑھ کے پرتی راجیہ کے لوگوں کی آستھا کا یہ بھی ایک بڑا کارن ہے۔ اس سے جڑی ایک مانیتا اس پورانک کتھا پر آدھارت ہے که ہرنیکشیپ کی بہن ہول کا کو یہ وردان پراپت تھا که وہ آگ میں نہیں جلیگی۔ اپنے بھائی کے آدیش پر وہ بھکت پرہلاد کو گود میں لیکر دھدھکتی چتا کے بیچ بیٹھ گئی لیکن بھگوان وشنو کی کرپا سے ہول کا جل کر راکھ ہو گئی اور پرہلاد کا بال بانکا نہیں ہوا۔

پوروی بہار کے سہرسا اور پورنیا پرمنڈل پر پچھلے ورشوں میں کوسی کے جلپرلیہ نے بھاری شتی پہنچائی۔ کوسی نے ان دونوں پرمنڈلوں کے اتہاسک اور پراتاتوک مہتو کے ستھلوں پر بھی حملے کئے ہیں۔ کئی ستھلوں کا تو نامو نشان مٹا دیا۔ سکلیگڑھ دئیے کی طرح ٹمٹماتا رہا ہے۔

متمتانتر سے کچھ لوگ پاکستان میں بھی ایک جگہ بتاتے ہیں جہاں بھگوان نرسنگھ نے اوتار لیا تھا..جاننے کے لئے دی گئی لنک کو کلک کریں۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation