Loading...
دیوی گنگا کس کی پتری اور کس کی پتنی تھیں؟| husband and father of ganga devi | Webdunia Hindi

دیوی گنگا کس کی پتری اور کس کی پتنی تھیں؟

گنگا کیا ہے؟ ندی یا دیوی؟ سچ مچ گنگا کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ ندی ہے تو پھر دیوی کیسے اور دیوی ہے تو پھر ندی کیسے؟ دراصل,بھارت میں پرتیک ندی کو دیویتلیہ مانا گیا ہے,کیونکہ اسی سے اسمپورن بھارت میں انیہ جل اتپن ہوتا ہے۔ وہی ہے جو مانو جیون کو سنبھالے ہوئے ہے۔ ندی ہے تو جیون ہے۔ نشچت ہی تب ایسے میں کسی ندی کا نام کرن کسی دیوی پر ہی رکھا جائیگا۔ گنگا کے بارے میں ہمیں پرانوں میں کئی کہانیاں ملتی ہے۔ آؤ انہیں میں سے کچھ کو جانتے ہیں۔

گنگا کی اتپتی کتھا
کہتے ہیں کهہمالیہ ہے جو پاروتی کے پتا بھی ہیں۔ جیسے راجا دکش کی پتری ماتا ستی نے ہمالیہ کے یہاں پاروتی کے نام سے جنم لیا تھا اسی طرح ماتا گنگا نے اپنے دوسرے جنم میں رشی جہنو کے یہاں جنم لیا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے که گنگا کا جنم برہما کے کمنڈل سے ہوا تھا۔ مطلب یہ که گنگا نامک ایک ندی کا جنم۔ ایک انیہ کتھا کے انوسار برہما جی نے وشنجی کے چرنوں کو آدر سہت دھویا اور اس جل کو اپنے کمنڈل میں ایکتر کر لیا۔ بھگوان وشنو کے انگوٹھے سے گنگا پرکٹ ہوئی ات اسے وشنپدی کہاں جاتا ہے۔ ایک انیہ کتھا کے انوسار گنگا پروتوں کے راجا ہموان اور انکی پتنی مینا کی پتری ہیں,اس پرکار وہ دیوی پاروتی کی بہن بھی ہیں۔ کچھ جگہوں پر انہیں برہما کے کل کا بتایا گیا ہے۔

گنگا کی کہانی نمبر 1
یہ تو سبھی جانتے ہیں که بھگوان رام کے پوروج اکشواکو ونشی راجاکے پریاسوں سے ہی گنگا ندی سورگ سے دھرتی پر آئی تھی۔ لیکن انہیں سورگ سے دھرتی پر گنگا کو لانے کے لئے تپسیا کرنا پڑی تھی۔ انکی تپسیا سے پرسن ہوکر برہما نے- 'راجن! تم گنگا کا پرتھوی پر اوترن تو چاہتے ہو؟ پرنتو کیا تم نے پرتھوی سے پوچھا ہے که وہ گنگا کے بھار تتھا ویگ کو سنبھال پائیگی؟ میرا وچار ہے که گنگا کے ویگ کو سنبھالنے کی شکتی کیول بھگوانمیں ہے۔ اسلئے اچت یہ ہوگا که گنگا کا بھار ایوں ویگ سنبھالنے کے لئے بھگوانکا انگرا پراپت کر لیا جائے۔'

مہاراج بھگیرتھ نے ویسے ہی کیا۔ انکی کٹھور تپسیا سے پرسن ہوکر برہما جی نے گنگا کی دھارا کو اپنے کمنڈل سے چھوڑا۔ تب بھگوان شنکر نے گنگا کی دھارا کو اپنی جٹاؤں میں سمیٹ کر جٹائیں باندھ لیں۔ بعد میں بھگیرتھ کی آرادھنا کے بعد انہوں نے گنگا کو اپنی جٹاؤں سے مکت کر دیا۔


کہتے ہیں که برہمچارنی گنگا کے دوارہ کئے سپرش سے ہی مہادیو نے انہیں اپنی پتنی کے روپ میں سویکار کیا۔ پتنی پرش کی سیوا کرتی ہے ات اسکا واس پتی کے ہردیہ میں اتھوا چرنوں مے ہوتا ہے کنتو بھگوتی گنگا شو کے مستک پر وراجتی ہے۔ بھگوان وشنو کے انگوٹھے سے گنگا پرکٹ ہوئی ات اسے وشنپدی کہاں جاتا ہے۔ بھگوان وشنو کے پرساد روپ میں شو نے دیوی گنگا کا پتنی کے روپ میں سویکار کیا۔
کہتے ہیں که شنکر اور پاروتی کے پتر کارتکییہ کا گربھ بھی دیوی گنگا نے دھارن کیا تھا۔ گنگا کے پتا بھی ہموان ہے ات وہ پاروتی کی بہن معنی جاتی ہے۔ سکند پران کے انوسار,دیوی گنگا کارتکییہ(مرگن)کی سوتیلی ماتا ہیں;کارتکییہ واستو میں شنکر اور پاروتی کے ایک پتر ہیں۔ پاروتی نے اپنے شریرک میل سے گنیش کی چھوی کا نرمان کیا,لیکن گنگا کے پوتر جل میں ڈوبنے کے بعد گنیش جیوت ہو اٹھے۔ اسلئے کہا جاتا ہے که گنیش کی دو ماتائیں ہیں پاروتی اور گنگا اور اسی لئے انہیں دوماتر تتھا گنگییہ(گنگا کا پتر)بھی کہا جاتا ہے۔

برہم ویورت پران(2.6.13-95)کے انوسار,وشنو کی تین پتنیاں ہیں جن کی آپس میں بنتی نہیں تھی,اسلئے انہوں نے کیول لکشمی کو اپنے ساتھ رکھا اور گنگا کو شوجی کے پاس تتھا سرسوتی کو برہما جی کے پاس بھیج دیا۔

گنگا کی کہانی نمبر 2
پورو جنم میں راجا شانتنو مہابھش تھے۔ برہما جی کی سیوا میں وہ اپستھت تھے۔ اس وقت گنگا بھی وہاں پر اپستھت تھی۔ راجا مہابھش گنگا پر موہت ہوکر اسے ایک ٹک دیکھنے لگے۔ گنگا بھی ان پر موہت ہوکر انہیں دیکھنے لگی۔ برہما نے یہ سب دیکھ لیا اور تب انہیں منشیہ یونی میں دو:کھ جھیلنے کا شراپ دے دیا۔

راجا مہابھش نے کرو راجا شانتنو کے روپ میں جنم لئے اور اس سے پہلے گنگا نے رشی جہنو کی پتری کے روپ میں۔ ایک دن پتر کی کامنا سے شانتنو کے پتا مہاراجہ پرتیپ گنگا کے کنارے تپسیا کر رہے تھے۔ انکے تپ,روپ اور سوندریہ پر موہت ہوکر گنگا انکی داہنی جنگھا پر آ کر بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں, 'راجن! میں آپ سے وواہ کرنا چاہتی ہوں۔ میں جہنو رشی کی پتری گنگا ہوں۔'

اس پر راجا پرتیپ نے کہا, 'گنگے! تم میری داہنی جنگھا پر بیٹھی ہو,جبکہ پتنی کو تو وامانگی ہونا چاہئیے,داہنی جنگھا تو پتر کا پرتیک ہے ات میں تمہیں اپنے پترودھو کے روپ میں سویکار کر سکتا ہوں۔'یہ سن کر گنگا وہاں سے چلی گئیں۔'

جب مہاراج پرتیپ کو پتر کی پراپتی ہوئی تو انہوں نے اسکا نام شانتنو رکھا اور اسی شانتنو سے گنگا کا وواہ ہوا۔ گنگا سے انہیں8پتر ملے جسمیں سے7کو گنگا ندی میں بہا دیا گیا اور8ویں پتر کو پالا پوسا۔ انکے8ویں پتر کا نام دیوورت تھا۔ یہ دیوورت ہی آگے چلکر بھیشم کہلایا۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation