Loading...
meat |کیا ہندو دھرم میں مانس کھانا منا ہے؟| Webdunia Hindi

کیا ہندو دھرم میں مانس کھانا منا ہے؟

non vegetarianism meat
میںکھانا منا ہے یا نہیں ہے اس سمبندھ میں کئی لوگوں کے من میں بھرم ہے۔ شاکاہاری بھوجن کو ہندو دھرم میں اتم مانا ہے قلعے مانس کھانے کو لیکر کوئی سخت انودیش نہیں دیا گیا ہے۔ آؤ جانتے ہیں اس سمبندھ میں مہتوپورن جانکاری۔

ویدوں کے انوسار:-
وید ہی ہندو دھرم کے دھرم گرنتھ ہے۔ ویدوں کا سار اپنشد اور اپنشدوں کا سار گیتا ہے۔ یہاں تینوں کا مت جانینگے۔ ویدوں میں مانس کھانے کے سمبندھ میں سپشٹ منا کیا گیا ہے۔ ویدوں میں پشو ہتیا پاپ معنی گئی ہے۔ وینوں میں کچھ پشوؤں کے سمبندھ میں تو سکھ‍ت انودیش(ہداید)دی گئی ہے۔


ی پورشییین کروشا سمنکتے یو اشوییین پشیاتدھان۔
یو اگھنیایا بھرتی کشیرمگنے تیشانشیرشانی ہرساپی ورشچ۔۔-(رگ وید,منڈل ١٠,سوکت ٨٧,رچا ١٦)


ارتھات جو منشیہ نر,اشو اتھوا کسی انیہ پشو کا مانس سیون کر اسکو اپنے شریر کا بھاگ بناتا ہے,گو کی ہتیا کر انیہ جنوں کو دودھ آدی سے ونچت رکھتا ہے,ہے اگنسوروپ راجا,اگر وہ دشٹ ویکتی کسی اور پرکار سے نہ سنے تو آپ اسکا مستشک شریر سے ودارت کرنے کے لئے سنکوچ مت کیجئے۔

گیتا کے انوسار:-
گیتا میں مانس کھانے یا نہیں کھانے کے الیکھ کے بجائے ان کو تین شرینیوں میں وبھاجت کیا ہے۔1.ستو, 2.رج اور3.تم۔

گیتا کے انوسار ان سے ہی من اور وچار بنتے ہیں۔ جو منشیہ ساتوک بھوجن گرہن کرتا ہے اسکی سوچ بھی ساتوک ہوگی۔ ات: ساتوکتا کے لئے ساتوک بھوجن,راجسکتا کے لئے راجسک بھوجن اور تامسی کاریوں کے لئے تامسی بھوجن ہوتا ہے۔ یدی کوئی ساتوک ویکتی تامسی بھوجن کرنے لگےگا تو اسکے وچار اور قرم بھی تامسی ہو جا ئینگے۔

مانس دو طرح کے ہوتے ہیں راجسک اور تامسک۔ اسکو پکانے کے طریقے سے بھی اسکی شرینی تے ہوتی ہے۔ سنتوں,براہمنوں اور دھرم کے کاریہ میں کاریرت لوگوں کو ساتوک بھوجن کرنا چاہئیے۔ لیکن یدھ,کریڑا اور بھینکر قرم ہیتو لوگوں کو راجسک بھوجن کرنا چاہئیے۔ حالانکہ تا‍مسک بھوجن کبھی نہیں کرنا چاہئیے,کیونکہ یہ بھوجن راکھشس,پشاچ اور اسروں کا بھوجن ہوتا ہے۔ تامسک بھوجن میں اچھے سے نہیں دھویا گیا مانس,باسی بھوجن,خراب بھوجن,بہت تیکھا اور مسالیدار بھوجن آدی۔

سشرت سنہتا انوسار
آیرویدگی سشرت انوسار روگوپچار میں شریر کی پشٹی ہیتو کبھی کبھیکرنا ضروری ہوتا ہے۔ سشرت سنہتا انوسار مانس,لہسن اور پیاز اوشدھیہ ہے۔ اوشدھی کسی بیماری کے علاج ہیتو ہوتی ہے آپکے جوہا کے سواد کے لئے یا اسکا نیمت سیون کرنے کے لئے نہیں ہوتی ہے۔

آج بھی مچھلی کا تیل,سانپ کے جہر سے انیکو اوشدھی کا نرمان ہوتا ہے۔ اسی طرح بکرے کی ہڈی کے رس اور خرگوش کے خون کا بھی اوشدھیہ اپیوگ ہوتا ہے۔ انکے اچت سیون سے روگ نشٹ ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ دیکھا گیا ہے کسی وشیش روگ میں کچھ پشوؤں کے مانس,ہڈی یا انیہ انگوں کا اپیوگ ہوتا ہے۔

پشو بلی پرتھا
دیوتاؤں کو پرسن کرنے کے لئے بلی کا پر یوگ کیا جاتا ہے۔ بلی پرتھا کے انترگت بکرا,مرغا یا بھینسے کی بلی دیئے جانے کا پرچلن ہے۔ ہندو دھرم میں خاص کر ماں کالی اور کال بھیرو کو بلی چڑھائی جاتی ہے۔ ودوان مانتے ہیں که ہندو دھرم میں لوک پرمپرا کی دھارائیں بھی جڑتی گئیں اور انہیں ہندو دھرم کا حصہ مانا جانے لگا۔

دراصل,بلی پرتھا کبھی بھی ہندو دھرم کی دینا نہیں ہے۔ بلی پرتھا کا پراچلن ہندؤں کے شاکت اور تانترکوں کے سنپردائے میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اسکا کوئی دھارمک آدھار نہیں ہے۔ شاکت یا تانترک سنپردائے اپنی شروعات سے ایسے نہیں تھے لیکن لوگوں نے اپنی اچھاؤں کی پورتی کے لئے کئی طرح کے وشواس کو اکت سنپردائے میں جوڑ دیا گیا۔ پشبلی کی یہ پرتھا کب اور کیسے پرارمبھ ہوئی,کہنا کٹھن ہے,لیکن اتنا تو تے ہے که یہ وید,گیتا,اپنشد یا پرانوں کی دین نہیں ہے۔

دو مارگ ہے آتما اور شریر کا:-
اتت: آپنے سامنے دو مارگ ہے پہلا ہے آتما کا مارگ اور دوسرا ہے شریر کا مارگ۔ یدی آپ آتما کے مارگ پر چلنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے جیون میں ساتوک بھوجن,گن اور قرم کو اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ یدی آپ سنسارک مارگ پر چلکر شریر کو پش‍ٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تے کرنا ہے که آپ کو کیا کھانا اور کیا نہیں کھانا ہے۔


حالانکہ ہندو دھرم مانساہار کھانے کی صلاح یا انومتی نہیں دیتا ہے۔ خاص کر ہندو دھرم میں عش‍و,نر,گائے,شوان,سرپ,سور,شیر,گج اور پوتر پکشی(ہنسادی)کا مانس کھانا گھور پاپ مانا گیا ہے۔

-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation