Loading...
سکھوں کے دسویں گرو,گرو گووند سنگھ جی کا پرکاش پرو۔guru govind singh jayanti 2019 | Webdunia Hindi

سکھوں کے دسویں گرو,گرو گووند سنگھ جی کا پرکاش پرو

guru govind singh

جی سکھوں کے دسویں گرو ہیں۔ اتہاس میں گرو گووندسنہ ایکویکتتو ہے۔ ہندو کیلینڈر کے انوسار گرو گووند سنگھ کا جنم پوش ماہ کی شکل پکش کی سپتمی تتھی کو1723وکرم سنوت کو ہوا تھا۔ اس سال یہ تتھی13جنوری کو آ رہی ہے۔ ات: اس دنمنایا جائیگا۔

گرو گووند سنگھ ایک مہان کرمپرنیتا,ادوتیہ دھرمرکشک,اوجسوی ویر رس کے کوی کے ساتھ ہی سنگھرششیل ویر یودھا بھی تھے۔ انمیں بھکتی اور شکتی,گیان اور ویراگیہ,مانو سماج کا اتھان اور دھرم اور راشٹر کے نیتک مولیوں کی رکشا ہیتو تیاگ ایوں بلیدان کی مانسکتا سے اوتپروت اٹوٹ نشٹھا تتھا درڑھ سنکلپ کی ادبھت پردھانتا تھی تبھی سوامی وویکانند نے گروجی کے تیاگ ایوں بلیدان کا وشلیشن کرنے کے پشچات کہا ہے که ایسے ہی ویکتتو کے آدرش سدیو ہمارے سامنے رہنا چاہئیے۔

گرو نانک دیو کی جیوتی ان میں پرکاشت ہوئی,اسلئے انھیں دسویں جیوتی بھی کہا جاتا ہے۔ بہار راجیہ کی راجدھانی پٹنہ میں گرو گووند سنگھ جی کا جنم ہوا تھا۔ سکھ دھرم کے نوویں گرو تیغ بہادر صاحب کی اکلوتی سنتان کے روپ میں جنمے گووند سنگھ کی ماتا کا نام گزری تھا۔

شری گرو تیغ بہادر سنگھ نے گرو گدی پر بیٹھنے کے پشچات آنندپر میں ایک نئے نگر کا نرمان کیا اور اسکے بعد وہ بھارت کی یاترا پر نکل پڑے۔ جس طرح گرو نانک دیو نے سارے دیش کا بھرمن کیا تھا,اسی طرح گرو تیغ بہادر کو بھی آسام جانا پڑا۔

اس دوران انہوں نے جگہ جگہ سکھ سنگت ستھاپت کر دی۔ گرو تیغ بہادر جی جب امرتسر سے آٹھ سو کلومیٹر دور گنگا ندی کے تٹ پر بسے شہر پٹنہ پہنچے تو سکھ سنگت نے اپنا اتھاہ پیار پرکٹ کرتے ہوئے ان سے ونتی کی که وہ لمبے سمیہ تک پٹنہ میں رہیں۔ ایسے سمیہ میں نوم گرو اپنے پریوار کو وہیں چھوڑکر بنگال ہوتے ہوئے آسام کی اور چلے گئے۔

پٹنہ میں وہ اپنی ماتا نانکی,پتنی گزری تتھا کرپالچند اپنے سالے صاحب کو چھوڑ گئے تھے۔ پٹنہ کی سنگت نے گرو پریوار کو رہنے کے لئے ایک سندر بھون کا نرمان کروایا,جہاں گرو گووند سنگھ کا جنم ہوا۔ تب گرو تیغ بہادر کو آسام سوچنا بھیج کر پتر پراپتی کی بدھائی دی گئی۔

پنجاب میں جب گرو تیغ بہادر کے گھر سندر اور سوستھ بالک کے جنم کی سوچنا پہنچی تو سکھ سنگت نے انکے اگوانی کی بہت خوشی منائی۔ اس سمیہ کرنال کے پاس ہی سیانا گاؤں میں ایک مسلمان سنت فقیر بھیکھن شاہ رہتا تھا۔ اسنے ایشور کی اتنی بھکتی اور نشکام تپسیا کی تھی که وہ سویں پرماتما کا روپ لگنے لگا۔

پٹنہ میں جب گرو گووند سنگھ کا جنم ہوا اس سمیہ بھیکھن شاہ اپنے گاؤں میں سمادھی میں لپت بیٹھے تھے۔ اسی اوستھا میں انہیں پرکاش کی ایک نئی کرن دکھائی دی جسمیں اسنے ایک نوجات جنمے بالک کا پرتبمب بھی دیکھا۔ بھیکھن شاہ کو یہ سمجھتے دیر نہیں لگی که دنیا میں کوئی ایشور کے پریہ پیر کا اوترن ہوا ہے۔ یہ اور کوئی نہیں گرو گووند سنگھ جی ہی ایشور کے اوتار تھے۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation