Loading...
سوامی وویکانند:ایک اوسمرنیہ ہستی| Webdunia Hindi

سوامی وویکانند:ایک اوسمرنیہ ہستی

vtvekanand
-ڈا.بھارتی جوشی

بھارت کی پوتر بھومی سے انیک مہاپرشوں کا ادے ہوا ہے۔ جنہوں نے'بہوجن ہتائے بہوجن سکھائے'کی اکتی کو چرتارتھ کیا ہے۔ ایسے سماج سدھارک چلی آ رہی پرپاٹی کے پدچنہوں پر نہیں چلتے بلکہ سارے سماج کو بدل ڈالنے میں وشواس رکھتے ہیں اور امر ہو جاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک اوسمرنیہ ہستی نے کولکاتہ کی'سملیا'نام کی پلی میں12جنوری سن1863کو سوریہ کی پرتھم کرن کے ساتھ شری وشوناتھ دت کے گھر جنم لیا۔ کنیاؤں کے جنم کے بعد دت دمپتی نے اس بالک ششو کو بھگوان شو سے منوتی سوروپ مانگا تھا۔ ات: بڑے پیار سے اسکا نام رکھا'نریندر ناتھ'۔ یہی بالک وشووکھیات سنیاسیکے نام سے جانے گئے۔
وویکانند جی نے ہیکی نینو ڈالی۔ بیجان بھارتیہ سماج میں پران سپندت کئے اور بھارت کی پراچین ویدانتک پرمپرا کو آدھونک لوکوپیوگی روپ پردان کیا۔ یہ ولکشن شخصیت کیول39ورش5ماہ کی الپایو میں چر سمادھی میں لین ہو گئے۔ لیکن اس تھوڑے سمیہ میں ہی انہوں نے ورتمان بھارت کی ایک سشکت آدھارشلا ستھاپت کی۔

سوامی جی نے بھارت کی سپت آدھیاتمک مہمہ کو ودیشوں میں پرچارت کرکے,سب سے پہلے پرادھین بھارت کی گرما کو پچھمی دیشوں کے سمکش ابھارا۔ سوامی جی کے کارن ہی بھارتواسی اس تتھیہ کو آتمسات کر پائے که ہمارا دھرم,ہماری سنسکرتی کو وشو میں سرواچ ستھان پراپت ہے۔ اس سمیہ دیش کے انیک نویوک جو دھرم پرورتن کر عیسائی بن رہے تھے,اپنی غلطی محسوس کی اپنی سنسکرتی کی اور پن: آکرشٹ ہوئے۔


سوامی جی بھارت کی پچھڑی دشا کو دیکھ کر چنتت تھے۔ انہیں اس پرستھتی کا ایک ہی کارن سمجھ میں آیا که جنتا ہندو دھرم کے اصلی سوروپ سے انبھگی ہے۔ اسلئے انہوں نے ہندو دھرم اور سادھنا کو دھیان,دھارن اور سمادھی کے آدرش کو ایکانت پروت اور گپھاؤں سے الگ کرکے جنتا کے ہت میں,لوککلیان کے لئے جاگرت کیا۔ سورنوں کے دمن چکر کا انہوں نے پرجور ورودھ کیا۔

انکے وچار تھے 'یدی ونش پرمپرا کے نیمانساربراہمن ودیا سیکھنے کے ادھک یوگیہ ہیں تو انکی شکشا کے لئے دھن وییہ نہ کرکے اسپرشیہ جاتی کی شکشا کے لئے سارا دھن لگا دو۔ دربل کی سہایتا پہلے کرو۔ ان پددلت منشوں کو انکا واستوک سوروپ سمجھانا ہوگا۔ دربلتا کے بھید بھاو کو چھوڑکر پرتیک بالک بالکا کو سنا دو تتھا سکھا دو که سبل نربل سبھی کے دل میں اننت آتما ودیمان ہے۔ ات: سبھی مہان بن سکتے ہیں۔ سبھی یوگی ہو سکتے ہیں۔'سوامی جی کے اس ادبودھن سے سپشٹ ہوتا ہے که وہ مانو کے سوابھاوک وکاس میں وشواس رکھتے تھے۔

سوامی جی کی شکشا کی آج سماج میں نتانت آوشیکتا ہے۔ کیونکہ اپنی سب پرکار کی دردشا,اونتی و دو:کھ کے لئے ہم ہی ذمیدار ہیں۔ انہوں نے اونت بھارت کو وشو پردشیہ میں پن: انت کرنے کا سنکلپ لیا تھا۔ وہ ایک منتر درشٹا ,انت کلپناشیل,کوی ہردیہ منیشی تھے۔ انکی ہاردک اچھا تھی,ایک ایسے دھرم کا پرچار کرنا جس سے منشیہ تیار ہو۔

جڑتا اور کریتیوں میں جکڑے بھارتواسیوں کو پکار کر انہوں نے کہا تھا- 'اتشٹھت: جاگرت: پرانیہ ور ان نوودھت: اس دھرم پر کسی ورگ وشیش کا ایکادھیکار نہیں ہے۔' ایسے ویر سادھک,یگپرش,کرمیوگی سوامی وویکانند کو 'یووا بھارت'اور'بھارت کا یووا'کبھی وسمرت نہیں کر سکتا۔

ALSO READ:وشیش:یووا پیڑھی سنبھل کرکے وویکانند ہو جائے!

-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation