Loading...
یووا چیتنا کے انترراشٹریہ پرتیک سوامی وویکانند| Webdunia Hindi

یووا چیتنا کے انترراشٹریہ پرتیک سوامی وویکانند

*آج کے یوواؤں میں ضروری ہےکے درشن کا پرسار
شکاگو میں ہوئے پارلیمنٹ آف رلیجنس میں جب پرتیک دھرماولمبی اپنے اپنے دھرم کو دوسرے دھرم سے اوپر دکھانے کی چیشٹا کر رہا تھا تب وویکانند نے انکے اس شیتیدھ کا نوارن ایک چھوٹی سی پرنتو مہتوپورن کہانی کے دوارہ کیا۔

بات1867کی ہے۔ ایک ٹیوٹر ان دنوں کولکاتہ کے غور موہن مکھرجی لین ستھت مکان پر ایک بالک کو روز پڑھانے آتے تھے۔ تب نہ تو ان ٹیوٹر کو تتھا نہ ہی کسی انیہ کو پتہ تھا که یہی بالک ایک دن وشو دھرم کا پرچار کریگا اور یووا چیتنا کا ایک انترراشٹریہ پرتیک بنےگا۔ ویسے اس بالک کی ماتا بھونیشوری دیوی کو تب ہی آبھاس ہو چکا تھا,جب یہ بالک انکی کوکھ میں پل رہا تھا که یہ سنتان وشو کلیان کے لئے ہی اتپن ہوگی۔

بچپن میں اس بالک کا نام تھا نریندرناتھ دت۔ نریندر کے پتاجی انگریجی شکشا میں دیکشت,ادار,پشچمپرک تتھا ایک سمپن وکیل تھے۔ دھرم کے پرتی انکی آستھا کم ہی تھی۔ اسکے وپریت نریندر کی ماں سناتن آستھاؤں والی دھرمپراین مہلا تھی۔ پتا چاہتے تھے که نریندر بھی انہیں کا ویوسائے اپناکر جیونیاپن کرے اور اسی تارتمیہ میں انہوں نے اسے پریسیڈینسی کالج تتھا سکاٹش چرچ کالج سے سناتک(بی اے)کروایا۔ آگے انہوں نے قانون کی پڑھائی بھی پرارمبھ کر دی تھی,پرنتو یواوستھا سے ہی انہیں'ایشور کی کھوج'کی بھی دھن سوار ہو گئی تھی۔ یہی دھن انہیں ایک پرتشٹھت وکیل بننے کی بجائے سوامی رام کرشن پرم ہنس تک لے گئی۔
کالانتر میں پرم ہنس کے مکھیہ ششے کے روپ میں سننیاس لیکر نریندر نے وویکانند نام گرہن کیا۔ اسکے پشچات پرارمبھ ہوئی ایک یووا کی کرانتی الخ,جو ڈیڑھ دو دشک تک کھوج,سادھنا,دیشاٹن,دیشپریم آدی کے روپ میں گجرتے ہوئے سمیہ سے پورو الپکال میں بجھ گئی,پرنتو اپنے پیچھے چھوڑ گئی ایک انمول دھروہر,ایک پرورتن کی,وشو بندھتو کی۔ یہی کرانتی الخ پچھلی ایک شتابدی سے پرتیک یووا پیڑھی کے مارگدرشن و اتپریرک کا کاریہ کرتی آ رہی ہے۔ سب سے ادھک آشچریہ کی بات تو یہ ہے که جہاں سو ورش پرانی انیہ باتیں,پہلو و چیزیں آج کے دور میں لگ بھگ اپراسنگک ہو چکی ہیں,وہیں وویکانند کا درشن نہ کیول آج بھی اتنا ہی پراسنگک ہے ورن اس سمیہ سے بھی آج زیادہ سارتھک ہے۔
آج ہم کتنے ہی انت ہونے کے باوجود آنترک روپ سے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ جاتی,بھاشا کے آدھار پر ویمنسیہ,گرتے نیتک پرجاتانترک مولیہ تتھا سنسکرتی میں ہو رہے وراٹ و اٹپٹے پرورتن سے نپٹنے کے لئے اب پن یووا شکتی کو جاگرت ہونا ہوگا۔ اسکی اس راہ میںکا شاشوت راشٹروادی و دیشپریمیکت ادھیاتم کارگر سدھ ہو سکتا ہے۔
سن‌ 1893میں شکاگو میں ہوئے پارلیمنٹ آف رلیجنس(دھرم سنسد)میں جب پرتیک دھرماولمبی اپنے اپنے دھرم کو دوسرے دھرم سے اوپر دکھانے کی چیشٹا کر رہا تھا تب وویکانند نے انکے اس شیتیدھ کا نوارن ایک چھوٹی سی پرنتو مہتوپورن کہانی کے دوارہ کیا:ایک کئیں میں بہت سمیہ سے ایک مینڈھک رہتا تھا۔ ایک دن ایک دوسرا مینڈھک,جو سمندر میں رہتا تھا,وہاں آیا اور کئیں میں گر پڑھا۔'تم کہاں سے آئے ہو؟'کوپمنڈوپ نے پوچھا۔'میں سمندر سے آیا ہوں۔'سمندر! بھلا وہ کتنا بڑا ہے؟ کیا وہ میرے کئیں جتنا ہی بڑا ہے؟'یہ کہتے ہوئے اسنے کئیں میں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چھلانگ لگائی۔
سمندر والے مینڈھک نے کہا 'میرے متر,سمندر کی تلنا بھلا اس چھوٹے سے کئیں سے کس پرکار کی جا سکتی ہے؟'تب اس کئیں والے مینڈھک نے دوسری چھلانگ لگائی اور پوچھا, 'تو کیا سمندر اتنا بڑا ہے؟'سمندر والے مینڈھک نے کہا تم کیسی بےوقوفی کی بات کر رہے ہو! کیا سمندر کی تلنا اس کئیں سے ہو سکتی ہے؟ اب کئیں والے مینڈھک نے چڑھ کر کہا 'جا,جا,میرے کئیں سے بڑھکر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ سنسار میں اس سے بڑا اور کچھ نہیں ہے۔ جھوٹھا کہیں کا! ارے,اسے پکڑکر باہر نکال دو۔
وویکانند کی اس کتھا کا سار نہ کیول دھرم کی سنکیرنتا دور کرنے والا ہے ورن اسکے پیچھے یوواؤں کو بھی ایک سندیش ہے که پرتیک سنبھاونا کا وستار ہی(بغیر کوپمنڈوکتا کے)جیون کا مول ادیشیہ ہونا چاہئیے۔

وویکانند چاہتے تھے که ہر سماج سوتنتر ہو,دوسرے سماج سے وچارگت,آستھاگت سمایوجن ہو۔ بھارت کے وشیہ میں انکا سوچنا تھا که ایک طرف تو ہم نشکریہ رہ کر پراچین گورو کے غرو میں پھنس گئے,دوسری اور ہینتا کی بھاونا میں دب گئے۔ تیسرے,ساری دنیا سے کٹ کر گھونگھے میں بند ہو گئے۔ وہ کہتے تھے که جس پراچین آدھیاتمک شکتی پر ہم غرو کرتے ہیں,اسے اپنے بھیتر جگانا ہوگا۔ یہ ابھی ہمارے بھیتر نہیں ہے,کیول باہری ہے۔

انہوں نے یہ آہوان یوواؤں سے کیا تھا که تم ہی یہ کاریہ کر دکھاؤ۔ یہ یووا ہی ہیں,جو اس سماج کو آتمشکتی دے سکتے ہیں,اسمپورن وشو سے غرو سے سنواد و سمبندھ ستھاپت کر سکتے ہیں۔ اسکے اپرانت ہی ہم سوتنتر ہو پائیں گے و ساماجک نیائے کی اودھارنا سماج میں ستھاپت کر سکیں گے۔ یہ وچار آج کہیں ادھک اپیوگی ہیں,جس سے ہم اس راشٹر کو پھر جیوت کر سکیں جو وویکانند کی کلپناؤں کا تھا۔ آوشیکتا ہے تو بس اتنی ہی که وویکانند کے درشن کا پرسار یوواؤں میں ایک آندولن کی بھانتی ہو۔
-لوکیندرسنہ کوٹ

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation