Loading...
12جنوری:سوامی وویکانند جینتی پر پڑھیں انکے جیون کی ایک روچک گھٹنا۔Swami Vivekananda Jayanti 2019, 12جنوری,سوامی وویکانند جینتی, Swami Vivekanandaجینتی,جنم12جنوری1863,مرتیو4جولائی1902,نریدرناتھ دت,وویکانند, Swami Vivekananda | Webdunia Hindi

12جنوری:سوامی وویکانند جینتی پر پڑھیں انکے جیون کی ایک روچک گھٹنا


*پورے وشو میں بھارتیہ سنسکرتی اور ادھیاتم کا ڈنکا بجانے والے سوامیکی جینتی
پورے وشو میں اپنی تیجسوی وانی کے ذریعے بھارتیہ سنسکرتی اور ادھیاتم کا ڈنکا بجانے والےنے کیول وگیانک سوچ تتھا ترک پر بل ہی نہیں دیا,بلکہ دھرم کو لوگوں کی سیوا اور ساماجک پرورتن سے جوڑ دیا۔ سوامی وویکانند کاکو کولکاتہ میں ہوا تھا۔1884میں انکے پتا وشوناتھ دت کی مرتیو ہو گئی۔ پتا کی مرتیو کے بعد اتینت غریبی کی مار نے انکے چت کو کبھی ڈگنے نہیں دیا۔ سنگیت,ساہتیہ اور درشن میں وویکانند کو وشیش رچی تھی۔ تیراکی,گھڑ سواری اور کشتی انکا شوق تھا۔

مانوتا کی دویتا کے اپدیش کا سوابھاوک پھل تھا نربھیتا اور ویوہارک انگریج جاتی نے سوامی جی کے جیون کی کئی گھٹناؤں میں اس نربھیتا کا پرتیکش اداہرن دیکھا تھا۔

ایک گھٹنا وشیش روپ سے الیکھنیہ ہے۔ ایک دن ایک انگریج متر تتھا کو.مولر کے ساتھ وہ کسی میدان میں ٹہل رہے تھے۔ اسی سمیہ ایک پاگل سانڈ تیزی سے انکی اور بڑھنے لگا۔ انگریج سجن اپنی جان بچانے کو جلدی سے بھاگ کر پہاڑی کے دوسری چھور پر جا کھڑے ہوئے۔ کو.مولر بھی جتنا ہو سکا دوڑی اور پھر گھبراکر بھومی پر گر پڑیں۔ سوامی جی نے یہ سب دیکھا اور انہیں سہایتا پہنچانے کا کوئی اور اپائے نہ دیکھ کر وہ سانڈ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور سوچنے لگے 'چلو,انت آ ہی پہنچا۔'
بعد میں انہوں نے بتایا تھا که اس سمیہ انکا من حساب کرنے میں لگا ہوا تھا که سانڈ انہیں کتنی دور پھینکیگا۔ پرنتو کچھ قدم بڑھنے کے بعد ہی وہ ٹھہر گیا اور اچانک ہی اپنا سر اٹھاکر پیچھے ہٹنے لگا۔ سوامی جی کو پشو کے سمکش چھوڑکر اپنے کایرتاپورن پلائن پر وہ انگریج بڑے لجت ہوئے۔ کو.مولر نے پوچھا که وہ ایسی خطرناک پرستھتی سے سامنا کرنے کا ساہس کیسے جٹا سکے۔ سوامی جی نے پتھر کے دو ٹکڑے اٹھاکر انہیں آپس میں ٹکراتے ہوئے کہا که خطرے اور مرتیو کے سمکش وہ اپنے کو چکمک پتھر کے سمان سبل محسوس کرتے ہیں کیونکہ میں نے ایشور کے چرن سپرش کئے ہیں۔'

اپنے بالیکال میں بھی ایک بار انہوں نے ایسا ہی ساہس دکھایا تھا۔ انگلینڈ کے اپنے کاریہ تتھا انوبھووں کے وشیہ میں انہوں نے حیل بہنوں کو لکھا تھا که یہاں انکے کاریہ کو زبردست سپھلتا ملی ہے۔ ایک انیہ امریکی متر کے نام پتر میں انہوں نے لکھا که انگریزوں کے مہان وچاروں کو آتمسات کرنے کی شکتی میں انہیں وشواس ہے,یدیپی اسکی گتی دھیمی ہو سکتی ہے,پرنتو یہ اپیکشاکرت ادھک سنشچت ایوں ستھائی ہوگی۔
انہیں امید تھی که ایک ایسا سمیہ آئیگی جب انگریزی چرچ کے پرمکھ پادری ویدانت کے آدرشواد سے انوپرانت ہوکر اینگلیکن چرچ کے بھیتر ہی ایک ادار سمودائے کا گٹھن کرینگے اور اس پرکار سدھانت اور ویوہار دونوں ہی درشٹیوں سے دھرم کی ساروبھومکتا کا سمرتھن کرینگے۔

پرنتو انگلینڈ میں انہیں سب سے اچھا لگا تھا-انگریزوں کا چرتر,انکی درڑھتا,ادھیوسائے,سوامیبھکتی,آدرش کے پرتی نشٹھا تتھا ہاتھ میں لئے ہوئے کسی کاریہ کو پورا کرنے کی انکی لگن۔ وہاں کے لوگوں کے انترنگ سمپرک میں آنے پر انکے بارے میں سوامی جی کے پوروکلپت وچار بالکل ہی بدل گئے۔ پرورتی کال میں انہوں نے کلکتہ کے ناگرکوں کو سمبودھت کرتے ہوئے کہا تھا- 'برٹش بھومی پر انگریزوں کے پرتی مجھ سے ادھک گھرنا کا بھاوٴ لیکر کبھی کسی نے پیر نہ رکھا ہوگا۔'
اب یہاں ایسا کوئی بھی نہ ہوگا جو مجھ سے زیادہ انگریجوں کو پیار کرتا ہو۔'

28نومبر1896ای.کو انہوں نے حیل بہنوں کو لکھا- 'انگریج لوگ امیرکنوں کی طرح اتنے ادھک سجیو نہیں ہیں,کنتو یدی کوئی ایک بار انکے ہردیہ کو چھو لے تو پھر صدا کے لئے وہ اسکے غلام بن جاتے ہیں۔...اب مجھے پتہ چل رہا ہے که انیائے جاتیوں کی اپیکشا پربھو نے ان پر ادھک کرپا کیوں کی ہے۔ وہ درڑھ سنکلپ تتھا اتینت نشٹھاوان ہیں;ساتھ ہی انمیں ہاردک سہانبھوتی ہے-باہر اداسینتا کا کیول ایک آورن رہتا ہے۔ اسکو توڑ دینا ہے,بس پھر تمہیں اپنے پسند کا ویکتی مل جائیگا۔'
ایک انیہ پتر میں وہ لکھتے ہیں- 'یہ تو تم جانتی ہی ہو که انگریج لوگ کتنے درڑھچت ہوتے ہیں;انیہ جاتیوں کی اپیکشا ان لوگوں میں پارسپرک ایرشیا کی بھاونا بھی بہت ہی کم ہوتی ہے اور یہی کارن ہے که انکا پربھتو سارے سنسار پر ہے۔ داستا کے پرتیک خوشامد سے سروتھا دور رہ کر انہوں نے آگیا پالن,پورن سوتنترتا کے ساتھ نیموں کے پالن کے رہسیہ کا پتہ لگا لیا ہے۔ سوامی وویکانند کا ماتر39ورش کی عمر میں4جولائی1902کو انکا ندھن ہو گیا۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation