Loading...
یہ مہلا چناؤ ادھیکاری ہو رہیں سوشل میڈیا پر وائرل...لیکن سچ تو کچھ اور ہی ہے| Webdunia Hindi

یہ مہلا چناؤ ادھیکاری ہو رہیں سوشل میڈیا پر وائرل...لیکن سچ تو کچھ اور ہی ہے

Last Updated: گرووار, 9مئی2019 (18:26 IST)
سوشل میڈیا پر پیلی ساڑی میں ایک مہلا کی تصویریں آگ کی طرح پھیل رہی ہیں۔ تصویروں کو جے پور کا بتاتے ہوئے لوگ دعویٰ کر رہے ہیں که اس مہلا ادھیکاری کی کماوت سکول پولنگ بوتھ میں ڈیوٹی لگی تھی اور وہاںہوئی تھی۔
تصویروں کو شیئر کر یوجرسکو صلاح دینے لگے که اسی طرح سندر مہلا افسروں کی ڈیوٹی ہر بوتھ پر لگانی چاہئیے,تاکہہو پائے۔ مہلا ادھیکاری کا نام نلنی سنگھ بتایا جا رہا ہے,جو مسیج جے پور رہی چکی ہیں اور فی الحال سماج کلیان وبھاگ میں کاریرت ہیں۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

تصویریں شیئر کر بتنگڑ نام کے ایک فیس بک پیج نے لکھا

‘یہ ہے مسیج جے پور نلنی سنگھ۔ آپ سماج کلیان وبھاگ میں ہیں۔ چناؤ میں انکی ڈیوٹی ایئیسائی کے نکٹ کماوت سکول میں تھی۔ انکے بوتھ پر100%متدان ہوا!!چناؤ آیوگ چاہے تو یہ نسخہ ہر جگہ آزمایا جا سکتا ہے...!!’



کئی انیہ یوجرس اور پیجیس اس بوتھ پر98فیصدی ووٹنگ کی بات بھی لکھ رہے ہیں۔ لیکن100بات کی ایک بات..سبھی چناؤ آیوگ کو یہی بولنا چاہ رہے ہیں که متداتا جاگروکتا کے نام پر کروڑوں رپئے خرچ کرنے کی جگہ اس نسخے کے بارے میں وچار کرنا چاہئیے۔

سچ کیا ہے؟

وائرل تصویریں میں سے ایک تصویر میں مہلا ادھیکاری کے بیکگراؤنڈ میں جو بسیں دکھ رہی ہیں,انمیں ایک سکول بس پر سکول کا نمبر لکھا ہے تو دوسری پرBBDلکھا دکھا۔

سکول بس پر لکھا نمبر0522-3247119/20/23لکھنؤ کے ایک پبلک سکول کا نکلا اور انٹرنیٹ پرBBDسرچ کرنے پر ہمیںBBD University Lucknow (بابو بنارسیداس یونیورسٹی)سرچ رزلٹ میں ملا۔

اسکے علاوہ ایک اور تصویر میں بھی ایک بس پرG...AL UNIVERSITYلکھا دیکھا,تو ہم نے لکھنؤ کی سبھی یونیورسٹی کے نام کی لسٹ نکالی,تو ہمیںINTEGRAL UNIVERSITYکا‍نام ملا۔
پھر ہم نے ہمارے لکھنؤ سنوادداتا سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے بھی وہ بسیں لکھنؤ کی ہونے کی پشٹی کی۔ انہوں نے بتایا کهBBD Universityکی کئی بسیں کانپور میں چناؤ ڈیوٹی پر لگی تھیں,تو ہو سکتا ہے که یہ تصویریں کانپور کی ہوں۔

حالانکہ,صاف طور پر نہیں کہا جا سکتا که وائرل تصویریں اتر پردیش میں کس جگہ کی ہیں,لیکن یہ سپش‍ٹ ہے که یہ جے پور,راجستھان کی تو نہیں ہیں۔
اسکے علاوہ,اس مہلا کے بارے میں فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل پائی ہے۔ جیسے ہی انکے بارے میں کوئی جانکاری ملے گی ہم آپ کو اپ ڈیٹ کرینگے۔

اب بات کرتے ہیں100یا98فیصدی ووٹنگ کی,اگر ایسا ہوتا تو ضرور کسی میڈیا سنستھان نے یہ خبر پبلش کی ہوتی۔ اسلئے ہم نے اس بارے میں سرچ کیا۔ لیکن ہمیں نہ تو راجستھان کی نہ ہی یوپی کی ایسی کوئی خبر ملی۔

آپ کو بتا دیں که کرناٹک کے باگلکوٹ لوک سبھا سیٹ کے بوتھ نمبر174میں100فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس بوتھ کے سبھی435ووٹروں نے متدان کیا تھا۔
اسکے علاوہ,گجرات کے جونا گڑھ میں ایک بوتھ پر بھی100فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی,لیکن روچک بات یہ ہے که اس بوتھ پر کیول ایک ہی ووٹر ہے۔

ویبدنیا نے اپنی پڑتال میں پایا که وائرل تصویریں جے پور کی نہیں, بلکہ اتر پردیش کی ہیںاور دونوں میں سے کسی بھی راجیہ میں100فیصدی ووٹنگ کی خبر بھی نہیں ہے۔حالانکہ,اس مہلا کے بارے میں جو بھی جانکاریاں سامنے آ رہی ہیں, ویبدنیاانکی پشٹی نہیں کرتاہے۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation