Loading...
مہلا دوس:مہلاؤں کے پرتی وفاداری دکھانے کا صرف ایک دن ہی کیوں؟۔Mahila Diwas | Webdunia Hindi

مہلا دوس:مہلاؤں کے پرتی وفاداری دکھانے کا صرف ایک دن ہی کیوں؟

Womens Day
Author راج شری کاسلیوال|
*صرف ایک دن ہی کیوں ہو سمان...?

آجہے۔ میں کہتی ہوں که وشوبھر کو مہلا دوس منانے کی آوشیکتا ہی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے که ہمارے دیش میں دیوی کی پوجا نہیں ہوتی ہے۔ بھارت میں کئی روپوں میں دیویوں کا پوجن کیا جاتا ہے۔ دیوی درگا,ماتا پاروتی,ماں بھگوتی,ماں بگلامکھی,ماتا کالکا یا پھر انیہ کئی دیویوں کا پوجن ہی کیوں نہ ہو؟ ہمارا دیش دیوی کو پوجتا بھی ہے اور ہمارے سماننیہ ناریوں اور دیویوں کے لئے نتمستک بھی ہے۔
لیکن پھر بھی ہمیں مہلا دوس نہیں منانا چاہئیے,کیونکہ جہاں ماں,پتری,بیٹی,لڑکی,مہلا یا استری کے شیل دھرم کی رکشا نہیں کی جا سکتی,وہاں محض ایک دن مہلاؤں کے پرتی وفاداری دکھانے کا کیا اوچتیہ ہے؟ بات صرف اتنی ہی نہیں ہے,جہاں گربھ میں آتے ہی بیٹیوں کو مار دیا جاتا ہے,وہ تو اس سب سے اوپر بہت ادھک بھیاوہ اور لجت ہونے والی بات ہے۔ ہمیں اس بات کے پرتی سجگ ہوتے ہوئے گربھ میں پل رہیں بیٹیوں کی رکشا کرنی چاہئیے تاکہ آنے والے سمیہ میں بھارت کہیں بیٹیوں کے سنیہہ اور پیار سے ونچت نہ رہ جائیں۔

کو انترراش‍ٹریہ مہلا دوس آتے ہی صرف ایک دن کے لئے مہلاؤں کا گنگان کرکے انہیں سمان دینا اور دوسری اور انکو چھلنا,انکے ساتھ کپٹ بھاوٴ رکھنا,راستے چلتے چھیڑ چھاڑ کرنا,استری کو لجت کرنا,شراب پیکر مہلاؤں کے ساتھ مارپیٹ کرنا...یہ سب ہمیں شوبھا نہیں دیتا۔ اس سے اچھا یہی ہوگا که ہم مہلا دوس منانا ہی بھول جائیں۔
اگر سچ میں ہمارے من میں مہلاؤں کے پرتی آدر اور سمان ہے,تو سب سے پہلے ہمیں چاہئیے که ہم ان ماں,بہن,بیٹیوں,بہؤں اور ان معصوم بچیوں کے پرتی اپنا نظریہ بدلیں اور انہیں ہین درشٹی سے دیکھنا بند کریں۔ پرائے گھر کی کسی مہلا یا لڑکی کو ہم ہماری گھر کی بیٹی سمجھ کر انہیں بھی اسی نجرئے دیکھیں,جو نجری‍یا ہم اپنی ماں اور بہنوں کے لئے رکھتے کرتے ہیں۔

مہلا دوس منانے کا کیول یہ مطلب نہیں ہے که ایک دن تو بہت اونچے ستھان پر بٹھاکر مان سمان دے دیا جائے اور دوسرے ہی دن راہ چلتی لڑکیوں سے چھیڑکھانی شروع کر دی جائے۔ یہاں یووا تو یووا,بزرگ بھی ان معاملوں میں پیچھے نہیں ہیں۔ راستے چلتے لڑکیوں پر پھبتی‍یاں کسنا انکی عادت شمار میں ہے اور سب سے زیادہ شرمناک بات تو تب ہو جاتی ہے,جب ہیوانوں کا دل3-5سال کی معصوم بچیوں کو بھی اپنا نشانہ بنانے میں نہیں چوکتے اور موقع دیکھتے ہی انکا شیلہرن کرکے انہیں نارکیہ جیون میں پہنچا دیتے ہیں۔

کبھی ٹافی کا لالچ دیکر تو کبھی انیہ بہانوں سے بہلا پھسلاکر اپنے گندے ناپاک ارادوں کو ان معصوموں پر تھوپ دیا جاتا ہے۔ چاہے وہ پھر اپنے پڑوسی کی جان پہچان کی بچی ہو یا پھر کوئی اور...انہیں اس قدر روند دی‍یا جاتا ہے که وہ نہ جینے لائق بچتی ہے اور نہ ہی سماج میں اپنا منھ کسی کو دکھانے لائق۔ ہمارے پروفیشنل سماج کو چاہئیے که وہ اس طرح درندگی کا شکار ہوئی بچیوں اور مہلاؤں کے پرتی اپنا نظریہ بدلے اور انہیں اپنے گھروں میں بیٹی یا بہوؤں کا ستھان دینے کی پہل کریں۔

مہلا دوس صرف ایک دن منا کر اپنے کرتویہ سے اتشری نہ کریں,مہلا کے مان سمان کے پرتی ہر دوس,ہر پل سجگ رہیں تاکہ کسی بھی گھر کی بیٹی,بہو یا اور کوئی بھی ہو اسکے ساتھ کچھ بھی,کہیں بھی غلط نہ ہو سکیں۔ اسکے لئے پرشوں کو اس معاملے میں ٹھوس قدم اٹھانا چاہئیے,کیونکہ ناری سمان کی بات گھر سے ہی شروع کی جانی چاہئیے تاکہ باقی بھی اس سمان کو برقرار رکھنے میں پوری طرح سہیوگ دے سکیں۔

آج مہلائیں,یوتیاں گھر کی چہاردیواری سے باہر نکل کر ہر شیتر میں جہاں اپنا پرچم بخوبی لہرا رہی ہیں,وہیں اگر پرش ورگ بھی انکے پرتی اپنا نظریہ بدل دینگے تو نش‍چت ہی بھار‍‍ت کی ہر بیٹی بہو کا مان سمان,اجت آبرو کی رکشا ہوگی۔ اتنا ہی نہیں,کوئی بھی انکے پرتی غلط بھاونا اپنے من میں نہیں لا پائے,ایسا اپنے من میں سو پرتیشت نرنیہ لیکر ہی نشچیہ کرنا ہوگا تاکہ ہم اس دوس کو منانے کے یوگیہ بن سکیں۔

میری اور سے سبھی کو مہلا دوس کی سسنیہ شبھ کامنائیں!


 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation