Loading...
مہلا دوس پر وشیش:آدھی آبادی کو کیوں نہ ملے پوری آزادی؟| Webdunia Hindi

مہلا دوس پر وشیش:آدھی آبادی کو کیوں نہ ملے پوری آزادی؟

WOMENS DAY

آچاریہ کوٹلیہ نے ارتھ شاستر میں کہا تھا که مہلاؤں کی سرکشا ایسی ہونی چاہئیے که مہلا خود کو اکیلی سنسان سڑکوں پر بھی بالکل سرکشت سمجھے۔ آخر کیوں گھر کے اندر اور باہر مہلائیں خوف کے سائے میں جینے کو مجبور ہیں؟ جو ہر شن برداشت کرتی ہیں سماج کے وحشی درندوں کو۔ ہر پل جھیلتی ہے بیچارگی کا احساس کراتی'سہانبھوتی'۔ جو ہر پل اسے یاد دلاتی که'بھول مت جانا!'ویسا'ہوا تھا تیرے ساتھ'۔ ہر دن سہتی ہے اپنے شریر پر ٹکیں ہزاروں ناپاک نظروں کو۔

اور اپنی حالت پر ترستے و سہمتے ہوئے بس یہی سوال کرتی ہے آخر کب ہوگا اس سماج کو پرایشچت؟ کب ایک ماں اپنی بیٹی کو دوپٹہ کھول کر اوڑھنے اور نظریں نیچی کر چلنے کی ہدایت دینا بند کریگی؟ کب کوئی باپ اپنے بیٹے کو کسی لڑکی کو غلط نظر اٹھاکر نہ دیکھنے کی نصیحت دیگا؟ کب کینڈل جلانے,پوسٹر اٹھانے و نعرے لگانے کا دور تھمیگا؟ اور کب لوگوں کی وکرت مانسکتا میں بدلاؤ آئیگا؟ اور کب سرکاریں آئینہ دکھاتے ان آنکڑوں کو سامنے سے ہٹانے کی بجائے ان سے سبق لیکر سماج کا چہرہ سدھارنے کی پہل کرینگی؟

ہر بار ٹوٹنے کے بعد میں پھر سجاتی ہوں امیدوں کے رنگ وشواس کے کینواس پر۔ ہر بار ہارکر سوچتی ہوں کچھ نیا اپنے لئے,چاہتی ہوں کچھ اچھا اپنے اپنوں کے لئے۔ لیکن پاتی ہوں خالی ہاتھ,سونی آنکھیں,کھوکھلی باتیں,کڑوے انبھو,پھیکی ہنسی,گرتا سمان,لٹتی عصمت اور نیائے کا انتہین انتظار۔

ٹوٹ کر بکھر جاتی ہوں پر میں ناری ہوں,شکتی ہوں,ستیمشومسندرم بھی۔ میں پھر اٹھتی ہوں,میں پھر ہنستی ہوں,میں پھر مسکراتی ہوں,میں پھر سپنے دیکھتی ہوں,میں پھر رنگ بھرتی ہوں جیون کے کینواس پر۔ میں پھر گنگناتی ہوں جیون کا سنگیت۔ کوملتا کی آشا میں,آتموشواس کی بھاشا میں که کبھی تو پورے ہو نگے میرے ارمان اور کبھی تو مجھے ملیگا اپنے ملک میں,اپنے صوبے میں,اپنی زمین پر,اپنی ہواوٴں میں,اپنے آکاش کے نیچے سرکشا کے ساتھ سانس لینے کا ادھیکار۔ آخر کون ہوں میں,کوئی ڈوبتے سورج کی کرن یا آئینے میں بےبس سی کوئی چپی۔ ماں کی آنکھوں کا کوئی آنسو یا باپ کے ماتھے کی چنتا کی لکیر یا پھر دنیا کے سمندر میں کامپتی ہوئی سی کوئی کشتی۔

ہر سال کی طرح ایک بار پھر یہ سوال آج جندا ہو گیا ہے,کیونکہ ایک بار پھر دیش دنیا میں مہلاؤں کے سمان اور ادھیکار کے نام پر'انترراشٹریہ مہلا دوس'منایا جا رہا ہے۔ مہلا سشکتیکرن کو لیکر بڑے بڑے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ آدھی آبادی کی پوری آزادی کے زور شور کے ساتھ ڈھیروں دعوے کئے جا رہے ہیں۔ شکشا سے لیکر سیاست تک میں انکا ستھان سنشچت کرنے کے وعدے کئے جا رہے ہیں۔

مگر مہلا سشکتیکرن کے دعووں سے ٹکراتی موجودہ وقت کی سچائی کچھ اور ہی حقیقت بیاں کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے که6دشک سے زیادہ بیت گئے ہمیں آزادی ملے ہوئے۔ آزادی پرمپراؤں کو بھلا دینے کی۔ آزادی سچائی کو اسویکارنے کی۔ آزادی کسی لاڑلی کے عصمت کو لوٹ لینے کی۔ آزادی کسی کچی کلی کے کھلنے سے پہلے ہی مسل دینے کی۔ آزادی آدھی آبادی کے ارمانوں کو روند دینے کی۔ اور آزادی عورت کو ایک کھلونا بنانے کی۔

پھر یہ ایک دن کا سمان کا ڈھونگ کیوں؟ یہ کہنے میں کوئی گریز نہیں که مہلاؤں کی بھاگیداری سماج میں ہر سطر پر بڑھی ہے,پھر بھی بہہ سنکھیک مہلاؤں کے یوگدان,انکی آرتھک اپادییتا کا نہ تو صحیح طریقے سے آکلن ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں واجب حق ملتا ہے۔ بڑے فلک پر بھی دیکھیں,تو مہلاؤں کی بدولت کئی پیمانے وکاس میں سپھل ہوئے ہیں۔ کوئی بھی سماج مہلا کامگاروں دوارہ راشٹریہ آئے میں کئے گئے یوگدان کو درکنار نہیں کر سکتا۔ باوجود اسکے,انکو پریاپت مہتو نہیں ملتا۔ حالانکہ بھارت کے شرم بازار میں مہلاؤں کی بھاگیداری دنیا کے مقابلے کافی کم ہے۔

پھر بھی گھریلو کام میں مہلاؤں کی بھاگیداری75فیصدی سے ادھک ہے۔ یہ سروویاپی ہے که گرامین ایوں شہری دونوں علاقوں میں مہلاؤں کی شکشا در میں بڑھوتری ہوئی ہے۔ حالانکہ مہلاؤں کی پوری آزادی کی مانگ تو لمبے عرصے سے چلی آ رہی ہے,لیکن وہ دواسوپن جیسا ہی پرتیت ہو رہا ہے,پر جیوں جیوں وقت بدل رہا ہے,تیوں تیوں اس مانگ کا سوروپ بھی بدلتا جا رہا ہے۔ پہلے مہلائیں یاچک کی مدرا میں تھیں لیکن جس رفتار سے انکے ویکتتو کا وکاس ہو رہا ہے,اس سے لگ رہا ہے که اپنی پوری آزادی کے لئے وہ'یاچنا نہیں اب رن ہوگا'کی طرظ پر کام کرینگی۔

الیکھنیہ ہے که گرامین علاقوں میں15سے19آیو ورگ کی لڑکیوں میں شکشا کے پرسار کے ساتھ شرم شیتر میں انکی بھاگیداری گھٹی ہے,یہ اچھی بات ہے۔ لیکن20سے24ورش کی آیو سیما کی لڑکیوں کے آنکڑے بتاتے ہیں که انکے دوارہ پراپت شکشا کا لابھ انہیں روزگار میں بہت نہیں ملا ہے۔ دراصل,مہلاؤں کی شمتا کو لیکر سماج میں ویاپت دھارنا کا بھی اہم یوگدان ہوتا ہے۔ دیش کی پترستاتمک ویوستھا میں آدھنکتا کے باوجود کئی سطروں پر مہلاؤں کو انکا واجب حق نہیں مل پاتا۔ جب تک اس بھید بھاو کو دور نہیں کیا جاتا,تب تک مہلا پرش برابری صرف کتابی باتیں ہی رہ جائینگی۔

یہ دربھاگیہ پورن ہے که21ویں صدی کے19ویں ورش میں بھی مہلاؤں کے پرتی دوشت درشٹیکون رکھا رہا ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے که پترکارتا میں سیکسسٹ لیکھوں اور تصویروں کی مثالیں اب بھی عام ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا که سنستھان بڑا ہے یا چھوٹا,یا پترکار بڑے شہر میں کام کرتا ہے یا چھوٹے,یہ سوچ ابھی بھی ہے۔ اکثر مہلا کھلاڑیوں کی جو تصویریں چھاپی جاتی ہیں,وہ بھی'خراب'نظر سے ہوتی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک اخبار نے بالی وڈ ابھینیتری سونم کپور کی سائڈ سے لی ہوئی تصویر چھاپ دی,جو آپتیجنک تھی۔ اخبار چاہتا تو اس تصویر کو نہ چھاپ کر کوئی بہتر اور صاف ستھری تصویر بھی چھاپ سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ دوشت مانسکتا کا دیوتک ہے۔

فرق نجرئے کا ہے,ریکھا کے اس اور یا اس اور۔ مہلا کی تعریف ایک جگہ ہے اور اسکی قابلیت کو کم آنکنا یا سندرتا کے نام پر درکنار کر دینا دوسری۔ آخر یہ بھی صاف ہے که سپھل کامکاجی پرشوں کے روپ رنگ پر ایسی ٹپنیاں نہیں کی جاتی۔ شائد ہی کسی لیکھ میں انکے پہناوے کو انکے کریر سے جوڑا جاتا ہو۔ لبو لواب یہ ہے که سماج کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

بتاتے ہیں که جینیوا ستھت ورلڈ اکانومک فورم کے وارشک جینڈر گیپ انڈیکس کے انوسار بھارت142دیشوں کی سوچی میں13ستھان گرکر114ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ بھارت میں مہلا سشکتیکرن اور آرکشن کو لیکر بھلے لمبے چوڑے دعوے کئے جاتے رہے ہوں,لیکن یہاں مہلا ادیمیوں کی راہ آسان نہیں ہے۔ سماج کے وبھن شیتروں کی طرح انکو ادیوگ جگت میں بھی بھاری بھید بھاو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھید بھاو کے علاوہ مہلاؤں کی قابلیت پر سوال بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے که مہلا ادیمتا سوچکانک کی تازہ سوچی میں شامل77دیشوں میں سے بھارت70ویں ستھان پر ہے۔ پچھم بنگال سمیت دیش کے کئی راجیوں میں تو حالات اور بدتر ہیں۔ مہلا مکھیہ منتری کے ستا میں ہونے کے باوجود اس معاملے میں بنگال کی حالت باقی راجیوں سے خراب ہے۔ بتاتے ہیں که ادیوگ کے شیتر میں مہلاؤں کے پچھڑنے کی پرمکھ وجہوں میں مزدوروں کی اپلبدھتا اور کاروبار کے لئے پونجی جٹانے میں ہونے والی دقتیں شامل ہیں۔

واشنگٹن ستھت گلوبل انٹرپرینیورشپ اینڈ ڈیولپمینٹ انسٹی ٹیوٹ(جیئیڈیائی)کی اور سے ورش2015میں جاری ایسے سوچکانک میں30دیش شامل تھے اور انمیں بھارت26ویں ستھان پر تھا۔ اس سے صاف ہے که دیش میں مہلا ادیمیوں کے ستھتی سدھرنے کی بجائے اور بدتر ہو رہی ہے۔ حالانکہ سنستھا کا کہنا ہے که پچھلے سال کے مقابلے بھارت کی رینکنگ دراصل کچھ سدھری ہے۔

یہ صحیح ہے که بھارت میں اب اچ تکنیکی شکشا اور پربندھن کی ڈگری کے ساتھ ہر سال پہلے کے مقابلے زیادہ مہلائیں کاروبار کے شیتر میں قدم رکھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے که سمانتا کے تمام دعووں کے باوجود انکو اس شیتر میں پرشوں کے مقابلے زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہلا ادیمیوں کی راہ میں آنے والی بادھاؤں کو دور کرنے کے لئے پہلے سماج کا نظریہ بدلنا ضروری ہے۔
(لیکھکا اترپردیش سرکار میں راجپترت ادھیکاری ہیں۔)

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation