Loading...
Pradosh Vrat 2019 List: Pradosh Vrat Dates 2019, Vrat Vidhi, Katha |کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں جانے ورت کا مہتو,کتھا اور پوجا ودھی وستار سے- Dainik Bhaskar

کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں جانے ورت کا مہتو,کتھا اور پوجا ودھی وستار سے/کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں جانے ورت کا مہتو,کتھا اور پوجا ودھی وستار سے

شکروار کے دن پڑنے والے پردوش ورت سے ملتی سکھ سمردھی

Dainik Bhaskar

Jan 17, 2019, 04:33 PM IST
کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں ج� کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں ج�

نئی دہلی.سوبھاگیہ اور دامپتیہ جیون کو سکھ شانتی سے بھرنا چاہتے ہیں تو شو کو سمرپت پردوش ورت سے بہتر اور کچھ نہیں۔ خاص طور سے اگر یہ ورت شکروار کو پڑے تو سونے پہ سہاگہ سمجھیئے۔ جی ہاں...یوں تو پردوش ورت کا اپنا کافی مہتو ہے لیکن اگر یہ ورت شکروار کے دن ہو تو یہ اور بھی پھلدایی ہو جاتا ہے۔ آج وہی شکر پردوش ورت ہے۔ کہا جاتا ہے که شکروار کو پردوش ورت سوبھاگیہ اور دامپتیہ جیون میں سکھ سمردھی بھر دیتا ہے۔ یہی کارن ہے که آج کے پردوش ورت کا کافی خاص مانا جا رہا ہے۔ جو پردوش ورت شکروار کے دن آئے اسے شکر پردوش ورت یا پھر بھگوارا پردوش کہتے ہیں۔ یہ دن خاص طور سے بھگوان شو کی آرادھنا کو ہی سمرپت ہے۔ یہ ورت چندر ماس کے13ویں دن یعنی تریودشی پر ہوتا ہے۔ اور اس دن بھگوان شو کے ساتھ ساتھ ماتا پاروتی کی پوجا کا بھی ودھان ہے۔ کہتے ہیں بھگوان شو کی پوجا ارچنا کرنے سے پاپ تو مٹتے ہی ہے ساتھ ہی موکش بھی پراپت ہوتا ہے۔ تو وہی پردوش ورت رکھنے سے دو گایوں کو دان دینے کے برابر پنیہ عرجت ہو سکتا ہے۔ ہفتے کے کسی بھی دن پردوش ورت ہو سکتا ہے اور ہر دن کا ایک خاص مہتو ہوتا ہے۔ اس بار پردوش ورت شکروار کو ہے اور کہا جاتا ہے که شکر پردوش ورت سوبھاگیہ اور دامپتیہ جیون کی سکھ شانتی اور سمردھی کے لئے ہوتا ہے۔

پردوش ورت کی کتھا
کہا جاتا ہے که ک نگر میں تین متر رہتے تھے–راج کمار,براہمن کمار اور تیسرا دھنک پتر۔ راج کمار اور براہمن کمار وواہت تھے۔دھنک پتر کا بھی وواہ ہو گیا تھا,لی کی گونہ شیش تھا۔ ایک دن تینوں متر استریوں کی چرچا کر رہے تھے۔ براہمن کمار نے استریوں کی پرشنسا کرتے ہوئے کہا ‘ناریہین گھر بھوتوں کا ڈیرا ہوتا ہے۔’دھنک پتر نے یہ سنا تو ترنت ہی اپنی پت‍نی کو لانے کا نش‍چیا کر لیا۔ تب دھنک پتر کے ماتا پتا نے سمجھایا که ابھی شکر دیوتا ڈوبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بہو بیٹیوں کو انکے گھر سے وداع کروا لانا شبھ نہیں مانا جاتا لیکن دھنک پتر نے ایک نہیں سنی اور سسرال پہنچ گیا۔ سسرال میں بھی اسے منانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ضد پر اڑا رہا اور کنیا کے ماتا پتا کو انکی وداعی کرنی پڑی۔ وداعی کے بعد تی پت‍نی شہر سے نکلے ہی تھے که بیل گاڑی کا پہیا نکل گیا اور بیل کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ دونوں کو چوٹ لگی لیکن پھر بھی وہ چلتے رہے۔ کچھ دور جانے پر انکا پالا ڈاکوؤں سے پڑا۔ جو انکا دھن لوٹ کر لے گئے۔ دونوں گھر پہونچے۔ وہاں دھنک پتر کو سانپ نے ڈس لیا۔ اسکے پتا نے ویدیہ کو بلایا تو ویدیہ نے بتایا که وہ تین دن میں مر جائیگا۔ جب براہمن کمار کو یہ خبر ملی تو وہ دھنک پتر کے گھر پہنچا اور اسکے ماتا پتا کو شکر پردوش ورت کرنے کی صلاح دی۔ اور کہا که اسے پت‍نی سہت واپس سسرال بھیج دیں۔ دھنک نے براہمن کمار کی بات معنی اور سسرال پہنچ گیا جہاں اسکی حالت ٹھیک ہوتی گئی۔ یعنی شکر پردوش کے ماہاتمیہ سے سبھی گھور کشٹ دور ہو گئے۔

X
کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں ج�کل ہے شکر پردوش ورت,یہاں ج�
COMMENT

آج کا راشی پھل

پائیں اپنا تینوں طرح کا راشی پھل,روزانہ
Web Tranliteration/Translation