Loading...
Rajasthan Election 2018: BJP Yunush Khan Contest against Congress Sachin Pilot | Rajasthan assembly election:ٹونک میں46سال بدلہ سمیکرن سچن پائلٹ کے خلاف بی جے پی کے یونس خان- Dainik Bhaskar

Rajasthan assembly election:ٹونک میں46سال بدلہ سمیکرن سچن پائلٹ کے خلاف بی جے پی کے یونس خان/ Rajasthan assembly election:ٹونک میں46سال بدلہ سمیکرن سچن پائلٹ کے خلاف بی جے پی کے یونس خان

راجستھان ودھان سبھا چناؤ2018:ٹونک میں کانگریس46سال سے مسلم پرتیاشی کو ہی ٹکٹ دیتی آئی ہے۔ اس بار سچن ہیں۔

DainikBhaskar.com

Nov 19, 2018, 11:33 AM IST
بی جے پی نے ٹونک میں ٹکٹ بدلہ۔� بی جے پی نے ٹونک میں ٹکٹ بدلہ۔�

جے پور. راجستھان ودھان سبھا چناؤ2018میں سیاسی پارہ پورے چڑھاؤ پر ہے۔ کانگریس پانچ سال بعد ستا میں واپسی کی جی توڑ کوشش کر رہی ہے۔ پرتیاشیوں کے چین سے لیکر زمینی پرچار میں اسنے کوئیقور کسرباقی نہیں رہی ہے۔ حالانکہ,ٹکٹ سوچی جاری کرنے میں ہوئی دیری اور دیر رات اسے جاری کرنے سے اتنا تو انومان لگایا ہی جا سکتا ہے که پارٹی کا پرتیاشیوں کے چین میں راستہ آسان نہیں رہا۔ بھاجپا ستا پر قابض ہے۔ کانگریس نے مکھیہ منتری وسندھرا راجے کے سامنے بی جے پی کے کداور نیتاجسونت سنگھکے بیٹے مانویندر سنگھ کو جھالارپاٹن سے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ بھاجپا سے ہی کانگریس میں گئے ہیں۔ بہرحال,ہم یہاں آپ کو ٹونک ودھان سبھا شیتر کا ایک دلچسپ سمیکرن بتا رہے ہیں۔ دراصل,انجانے میں ہی صحیح بی جے پی اور کانگریس دونوں نے اس ودھان سبھا سیٹ کا سمیکرن ہی بدل دیا ہے۔

سچن پائلٹ بنامیونس خان (BJP Yunush Khan vs against Congress Sachin Pilot)
ٹونک کے راجنیتک اتہاس پر نظر ڈالیں تو یہاں کانگریس46سال سے مسلم پرتیاشی کو ہی ٹکٹ دیتی آئی ہے۔ اس بار رننیتی بدلی گئی۔ سچن پائلٹ کو ٹونک سے اتارا گیا۔ پائلٹ نہ صرف کانگریس کے راجیہ میں یووا اور دگج نیتا ہیں بلکہ وہ پردیش کانگریس کے ادھیکش بھی ہیں۔ انکو خود کو جیتنا ہی ہے,پارٹی کو ستا تک لے جانے کی ذمیداری بھی انہیں کے کندھوں پر ہے۔ کہا جا رہا ہے که اگر کانگریس چناؤ جیتتی ہے تو سچن پائلٹ ہی اگلے مکھیہ منتری بنینگے۔ حالانکہ,پورو سی ایماشوک گہلوتکو خارج کرنے کی غلطی کوئی بھی سیاسی پنڈت نہیں کریگا۔

بی جے پی نے کھوجی کاٹ؟
بھاجپا نے کانگریس کی چال پر کاٹ کھوجنے کی کوشش کی۔ ٹونک ودھان سبھا شیتر سے اسنے اپنے ایکماتر مسلم پرتیاشی یونس خان کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ خان وسندھرا سرکار میں منتری بھی ہیں اور انکو راجیہ میں بی جے پی کا مسلم چہرہ مانا جاتا ہے۔ یونس بہت سدّھے ہوئے انداز میں بہترین بھاشن دیتے ہیں۔ اب جان کار مان رہے ہیں که بی جے پی نے وسندھرا کے خلاف کانگریس کی چال کا جواب سچن پائلٹ کے خلاف یونس خان کو اتار کر دیا ہے۔ سچن2004میں دوسا اور اسکے بعد2009میں اجمیر سے سانسد چنے گئے۔2014میں وہ بھاجپا کے سانورلال جاٹ سے ہار گئے تھے۔

کس کی کتنی آبادی؟
بی جے پی کی طرف سے بھی سمیکرن روچک ہے۔ پارٹی1980سے یہاں سے مہاویر پرساد جین کو اتارتی رہی۔ پچھلے یعنی2013کے چناؤ میں یہاں سے اجیت سنگھ مہتہ کو ٹکٹ دیا گیا۔ ٹونک ودھان سبھا میں2لاکھ22ہزار ووٹر ہیں۔ یہ نوابی دور کا شہر ہیں۔ یہاں قریب50ہزار مسلم متداتا ہیں۔ مانا جاتا ہے که انکا رجحان بھاجپا کے بجائے کانگریس کی طرف زیادہ ہے۔ پائلٹ خود گجر سمودائے سے آتے ہیں۔ انکی سنکھیا یہاں قریب30ہزار ہے۔ اسکے علاوہ35ہزار ایس سی اور15ہزار مالی سمودائے کے ووٹ بھی ہیں۔ اشوک گہلوت خود مالی سمودائے سے آتے ہیں۔ سچن سے انکی پرتسپردھا معنی جاتی ہے۔

X
بی جے پی نے ٹونک میں ٹکٹ بدلہ۔�بی جے پی نے ٹونک میں ٹکٹ بدلہ۔�
COMMENT

آج کا راشی پھل

پائیں اپنا تینوں طرح کا راشی پھل,روزانہ
Web Tranliteration/Translation