Loading...
دینک ٹربیون» Newsنیک صلاح-دینک ٹربیون

ہریانہ میں ایمس کے لئے جگی امید !    نریکشن کرنے گئی بیڈیپیؤ ٹیم کے ساتھ کی ہاتھاپائی !    نقلی سونا دیکر ٹھگے ساڑھے4لاکھ !    ہوٹل سے ایک ایک کر نکل رہے بھاجپا ودھایک !    آکروشت ودیارتھیوں نے لگایا جام !    سوہنا میں کمرے میں بند ملے بچے,ماں لاپتہ !    ادھک وصولی پر کورٹ کا کھٹکھٹایا دوار !    کھیلو انڈیا ہاکی میں کروکشیتر کے کھلاڑیوں کا دھمال !    راجستھان رایلس کے مالک بیچینگے حصے داری !    انجیکشن کا استعمال کرنے والے کھلاڑی پر2سال کے پرتیبندھ کا پرستاؤ !    

نیک صلاح

Posted On September - 6 - 2018

ہریانہ کی سنسکرتی بھی بڑی غضب کی ہے۔ کون,کب,کہاں,کس کو کیا صلاح دے دے کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تازہ صلاح بڑی دلچسپ اور گدگدا دینے والی ہے۔ گرگرام میں پچھلے سال ایسا‘مہاجام’لگا که دہلی سے لیکر چنڈیگڑھ تک ہل گیا۔ بڑی یوجنائیں بنیں,لمبے چوڑے دعوے ہوئے۔ اب اندر تو دیو ہیں,انہیں سرکاروں سے کیا سروکار۔ پچھلے دنوں ہوئی بارش سے یہ شہر پھر جلمگن ہو گیا۔ جام بھی لگنا ہی تھا۔ اس پر وقت کے مارے اور ایک بیروزگار بھاجپائی نے صلاح دی ہے که سرکار تکنیکی شکشا کے شیتر میں‘نوکاین’کا نیا ٹریڈ شروع کرے۔ ایسی وکٹ پرستھتی میں لوگ کم سے کم ناووں کے ذریعے تو ادھر ادھر آ جا سکیں گے۔ اور یہ تو ایسی سروس ہے,جسکے لئے نہ تو ڈیزل پیٹرول کی ضرورت ہی نہ پرمٹ کی۔
اپنوں سے بھی پردہ
کاکا کی سرکار کو4سال ہونے کو ہیں۔ کھٹر کاکا کے دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے,یہ پارٹی و سرکار کے دگجوں کو تو کیا انکے کھاسمکھاس منتریوں تک کو نہیں پتہ ہوتا۔ ویسے آج کل کاکا کچھ زیادہ ہی سسپینس بناکر چلنے لگے ہیں۔ سرکار اور سنگٹھن کے منتھن شور کو لیکر کاکا نے آخری پل تک پردہ ڈالے رکھا۔ منتریوں تک کو خبر نہیں تھی که چنتن شور میں انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ کچھ بھائی لوگ اس بات سے ناراض بھی ہیں۔ ایک منتری جی تو یہاں تک کہنے لگے که کاکا کو8سے کچھ زیادہ ہی پریم ہو گیا ہے۔ کبھی رات کو8بجے کیبنیٹ بلا لیتے ہیں,کبھی منتریوں کو صبح8بجے اپنے یہاں طلب کر لیتے ہیں۔ پر کاکا کو بھلا ان باتوں سے کیا مطلب,وہ تو ٹھہرے پھکڑ۔
آئرن لیڈی
آپنے لوہ پرش بلبھ بھائی پٹیل اور آئرن لیڈی اندرا گاندھی کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا۔ کیا کوئی ہریانہ کی‘آئرن لیڈی’کو بھی جانتا ہے۔ ہم بھی نہیں جانتے تھے۔ چار روز پہلے ہی پتہ لگا که اپنے آدمپر والے ودھایک‘کلو بھائی’کی پتنی رینکا بشنوئی کو انکے سمرتھکوں نے‘آئرن لیڈی’کے طور پر پروجیکٹ کیا ہے۔ انکا جنم دن تھا۔ دوسرے نیتاؤں کی طرح انہیں بھی شبھ کامنائیں دینے والوں کی ہوڑ لگنی ہی تھی۔ اب یہ بات ہر کسی کی سمجھ سے پرے ہے که انہوں نے ایسا کیا اور کس سے لوہا لے لیا که انکے سمرتھکوں نے انکو یہ تمغہ دے دیا۔ ویسے کھٹر کاکا نے کچھ ماہ پہلے آدمپر جاکر‘کلو بھائی’پر نشانہ کیا سادھا,چاروں اور سے سمرتھک بوکھلا گئے تھے۔ کہیں,اسلئے تو یہ نیا نام کرن نہیں ہوا…!
سر پر سہرا
پردیش کی بھاجپا سرکار26اکتوبر کو اپنے کاریہ کال کے چار سال پورے کریگی۔ اس موقعے پر28اکتوبر کو سی ایم سٹی کرنال میں پردیش سطر کی ریلی ہوگی۔ پی ایم نریندر مودی کو ریلی میں بلانے کی تیاری ہے۔ کرنال میں ریلی کرنے کے پیچھے پوری کہانی ہے۔ دراصل,مورنی کے تھاپلی پھوریسٹ گیسٹ ہاؤس میں ہوئے چنتن شور میں سرکار کی ورشگانٹھ پر پردیش سطر کی ریلی کے ذریعے شکتی پردرشن کا سجھاؤ آیا ہے۔ ریلی کے لئے کئی شہروں کے نام پر چرچا ہوئی۔ بتاتے ہیں که اپنے‘بھائی لوگوں’نے بڑی سہجتا اور چالاکی کے ساتھ یہ‘موقع’کاکا کو ہی دے دیا۔ اب کاکا کرنال سے ودھایک ہیں اور انکے نرواچن شیتر میں ریلی ہو رہی ہے تو سہرا بھی انکے سر ہی بدھنا تھا۔
بھرت ملاپ
راجنیتی میں کچھ بھی اسمبھو نہیں۔ یہاں ہمیشہ کوئی کسی کا دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ دشکوں پورو سنیما گھروں میں دھوم مچانے والے لاوارث فلم کے گانے–کب کے بچھڑے ہم آج یہاں آ کر ملے..نے خوب تالیاں بٹوری تھیں۔ یہ گانا کیتھل کے ودھایک رندیپ سرجیوالا اور کلایت والے نردلیہ ودھایک جےپرکاش‘جیپی’کی جگلبندی پر صحیح بیٹھتا ہے۔ ایک دوسرے کے کٹر ورودھی رہے یہ دونوں نیتا پچھلے سپتاہ دل کھول کر گلے ملے۔ ایسا ملن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ نہ کوئی گلا شکوہ۔ کہا تو کیول اتنا که اتری ہریانہ کے حق کے لئے ایک ہوئے ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں که اس ملنے کے پیچھے جتنی ضرورت بتائی جا رہی ہے,اتنی ہی مجبوریاں بھی ہیں۔
سرکار نے بھرا ٹول ٹیکس
مورنی کی پہاڑیوں میں ستھت تھاپلی پھوریسٹ ریسٹ ہاؤس میں چنتن شور کے لئے‘سرکار’کو اس سمیہ اپنی جیل ڈھیلی کرنی پڑی,جب مورنی میں اینٹری کرنے سے پہلے ٹول پلاجا آ گیا۔ اب چونکہ اس شور کو گپت رکھا جا رہا تھا۔ سو,ٹول پلاجا پر موجود کرمچاریوں کو بھی یہ نہیں بتایا گیا که بس میں کون بیٹھا ہے۔ سی ایم سہت کیبنیٹ کے ادھکانش منتری و دگج روڈ ویز کی والوو بس میں سوار تھے۔ ٹول پلاجا آنے کے بعد ایک منتری جی نے اپنی جیب سے ٹول ٹیکس بھرا۔ اب کہنے والے کہہ رہے ہیں,اگر سبھی ٹول پلاجا پر اسی طرح صاحب لوگ ٹول چکتا کرنا شروع کر دیں تو شائد انہیں جنتا کی سمسیا کا بھی پتہ لگ جائے۔
وپکش کو بھایے پنڈت جی
مہیندرگڑھ والے بڑے پنڈت جی کی محنت کو بھاجپا نے بھلے ہی نہیں سمجھا,لیکن وپکشیوں کو انکے وجود کا اچھے سے پتہ ہے۔ تبھی تو بھاجپائیوں سے ادھک وپکشی پنڈت جی کے چہرے کے نام پر لوگوں کو رجھا رہے ہیں۔ سنچار وبھاگ والے کانگریسی نیتاجی یعنی رندیپ سرجیوالا نے تو کھل کر کہہ دیا ہے که بھاجپا نے ووٹ تو پنڈت جی کا چہرہ دکھاکر مانگے اور بعد میں مکھیہ منتری ان سے جونیئر کو بنا دیا۔ ستا میں آنے کے بعد براہمن کلیان بورڈ کے گٹھن کا بھی وعدہ نیتاجی نے کر ڈالا ہے۔ ویسے اب جس طرح سے جاتی آدھارت سیاست نے پردیش میں زور پکڑا ہے,اسے دیکھتے ہوئے یہ لگنے لگا ہے که آنے والے چناووں میں بھی یہ مدعا حاوی ہو سکتا ہے۔
آخر میں آنکڑیباجی
انیلو سانسد دشینت چوٹالا بھی کسی آر ٹی آئی ایکٹوسٹ سے کم نہیں رہے ہیں۔ ہر15-20دن میں آر ٹی آئی سے جانکاری جٹا کر کوئی نہ کوئی پٹاخا پھوڑ دیتے ہیں۔ اپنے داڑھی والے منتری جی کے منترالیہ میں دوائیوں و اپکرنوں کی خرید میں کروڑوں کے گھوٹالے کا پردہ فاش کر چکے دشینت یوواؤں پر بھی پورا فوکس کئے ہوئے ہیں۔ انکے دوارہ اٹھایا لوکسیوا آیوگ,ہریانہ کرمچاری چین آیوگ کی نوکریوں میں آویدن شلک کا مدعا چھایا ہوا ہے۔ بات صحیح بھی لگتی ہے۔ جب نوکری مٹھی بھر لوگوں کو ملنی ہے تو اسکے لئے ہزاروں یووا کیوں اپنی جیب ڈھیلی کریں۔

-دنیش بھاردواج


Comments Off onنیک صلاح
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation