Loading...
دینک ٹربیون» News ‘چودھری’کو چنوتی-دینک ٹربیون

ہریانہ میں ایمس کے لئے جگی امید !    نریکشن کرنے گئی بیڈیپیؤ ٹیم کے ساتھ کی ہاتھاپائی !    نقلی سونا دیکر ٹھگے ساڑھے4لاکھ !    ہوٹل سے ایک ایک کر نکل رہے بھاجپا ودھایک !    آکروشت ودیارتھیوں نے لگایا جام !    سوہنا میں کمرے میں بند ملے بچے,ماں لاپتہ !    ادھک وصولی پر کورٹ کا کھٹکھٹایا دوار !    کھیلو انڈیا ہاکی میں کروکشیتر کے کھلاڑیوں کا دھمال !    راجستھان رایلس کے مالک بیچینگے حصے داری !    انجیکشن کا استعمال کرنے والے کھلاڑی پر2سال کے پرتیبندھ کا پرستاؤ !    

‘چودھری’کو چنوتی

Posted On October - 18 - 2018

جن کانوں کو اونچی تو کیا,ذرا سی تیز آواز بھی راس نہیں آتی تھی۔ آج وہی کان پورے زمانے کی سن رہے ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں انیلو سپریمو اور بڑے چودھری اوم پرکاش چوٹالا کی۔ دوسرے کے گھروں کے جھگڑے نپٹانے میں‘پنچائتی’ہونا الگ بات ہے,لیکن اصل پریکشا تو تب ہوتی ہے,جب اپنے ہی گھر کے برتن آپس میں بج رہے ہوں۔ اس پریوارک جھگڑے کا کیا ہوگا,کہا نہیں جا سکتا,لیکن اتنا ضرور ہے که چودھری نے پچھلے دو سپتاہ میں
وہ کچھ سن لیا,جس کا10پرتیشت سننا بھی انکی عادت نہیں رہی۔ ویسے کہنے اور سنانے والے بھی غیر نہیں ہیں۔ وہ اگر چودھری کو کوئی بات کہہ رہے ہیں تو اس میں بھی پارٹی اور پریوار کی بھلائی ہوگی۔ اب یہ تو چودھری کو ہی تے کرنا ہے که انکے لئے سرووپری کیا ہے۔
سوامیناتھن کی ڈیوٹی
بادلی والے‘چھوٹے سوامیناتھن’ان دنوں آپے سے باہر ہیں۔ ہو بھی کیایں نہ,ان دنوں صاحب کی پوری ہوا ہے۔ سامپلا کی ریلی میں پی ایم نریندر مودی نے انہیں اپنا پرانا سنگھرش کا ساتھی جو کہہ دیا۔ اس سے کئی بھاجپائیوں کی حالت ٹائٹ ہے۔ وہ خود کو اسرکشت محسوس کرنے لگے ہیں۔ اب ان باتوں سے کچھ ہوتا ہوگا,ہمیں تو یہ نہیں لگتا۔ پھر بھی کچھ بھائی لوگوں کو خوش ہونے تو کچھ کو کوپ بھون میں جانے کا موقع مل گیا ہے۔ رہی صحیح کسر اپنے کھٹر کاکا نے پوری کر دی۔ سرکار کی ورشگانٹھ کے موقعے پر سبھی22ضلعوں میں ریلیاں کرنے کا اعلان سرکار نے کیا ہے۔ ان ریلیوں کا سنیوجک‘چھوٹے سوامیناتھن’کو بنایا گیا ہے۔ اب‘چھوٹے سوامیناتھن’خوش تو ہو سکتے ہیں,لیکن انکے سامنے چنوتی بھی ہے۔ یہی نہیں, 31اکتوبر کو‘سٹیچیو آف یونٹی’کے ادگھاٹن پر گجرات میں سمرتھکوں کو لیکر جانے کی تیاری بھی وہ کر رہے ہیں۔ سرکار نے تو انہیں ریلیوں کا سنیوجک بناکر اپنی ذمیداری سے پیچھا چھڑا لیا ہے۔ اب بھیڑ جٹی تو سرکار کی بلے بلے اور کچھ کمی رہ گئی تو ذمیداری چھوٹے سوامیناتھن کی۔
بدلتے مزاج
انڈین نیشنل لوک دل کے ووٹ بینک کو پرمپراگت اور ستھائی مانا جاتا ہے۔ دھارنا رہی ہے که انیلو اکیلا ایسا سیاسی دل ہے,جو پردیش کے کسی بھی حصے میں ہزاروں لوگوں کو ایک آواز پر جٹا سکتا ہے۔ لیکن سمیہ بدل رہا ہے,ساتھ ہی بدل رہا ہے لوگوں کا مزاج۔ اب پچھلے دنوں جیند میں ہوئی انیلو کی بیٹھک کے ایک قصے کو ہی لیں۔ پارٹی سپریمو اوم پرکاش چوٹالا بیٹھک میں موجود تھے۔ تبھی چودھری کے پرانے ساتھی سنہرا سنگھ نے دو ٹوک کہہ دیا,میرے گھر میں سات ووٹ ہیں۔ میرا ووٹ تو آپ کو ملیگا,باقی چھہ ووٹ دشینت کے ہیں۔ جب چودھری نے روٹھوں کو منانے کی بات کہی تو ایک پرانے ساتھی نے کہہ دیا ورکروں کو تو بعد میں بھی منا لیں گے,پہلے اپنے گھر کے جھگڑے کو نپٹا لیں۔ اب ورکروں کے یہ بدلے مزاج کچھ تو نیا ہونے کی اور سنکیت کر رہے ہیں۔
سینی کا کیپسول
بھاجپا کو قریب قریب الوداع کہہ چکے کروکشیتر والے سانسد راج کمار سینی کے سمرتھکوں نے پرچار کا ایک اور نیا طریقہ نکالا ہے۔ لوکتنتر سرکشا پارٹی بنا چکے سینی سمرتھکوں نے بھی دوسرے دلوں کی طرح سوشل میڈیا کو پرچار کا مادھیم بنایا ہے۔ لال اور ہرے رنگ کا ایک کیپسول سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے۔ اس پر لکھا ہے,یہ کیپسول کڑوا ہے,مگر70سال کی بیماریوں کو جڑ سے دور کر رہا ہے۔ جن ہت میں جاری اس کیپسول پر راج کمار سینی کا نام لکھا ہے۔ اب کہنے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ ایک ساتھی نے کٹاکش کرتے ہوئے کہا,کیپسول تو صحیح ہے,لیکن بنا اینٹی بائیوٹک کے کام نہیں چلنے والا۔
لالاجی کی سی ڈی
یہ سی ڈی بھی بڑی جالم ہے۔ کئی بیحد ہی‘ایماندار’اور‘چرتروان’لوگوں کی نوکری کھا چکی ہے۔ اب اپنے نارنول والے لالاجی کو ہی لے لو۔‘بیچارے’بڑی‘سازش’کا شکار ہو گئے۔ ویسے لالاجی کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سی ڈی کے مارے انکے جیسے اور بھی کئی ہیں۔ ایسے شوشت,پربھاوت اور اتپیڑن کے شکار کئی بھائی لوگ‘سی ڈی’کا نام آتے ہی ڈر جاتے ہیں۔ کئیوں کا تو منتری پد تک سی ڈی لے چکی ہے۔ اب تو نیتا چاہے ستاسین ہوں یا پھر ستا سے باہر والے,سبھی کی ایک ہی ڈیمانڈ ہے–سی ڈی سسٹم کو بند کیا جائے,پرانے والے ویڈیو پلیئر ہی صحیح تھے۔ اس میں کم سے کم اتنی جلدی سی ڈی بننے کا ڈر تو نہیں تھا۔ ویسے بھائی لوگوں کی اس ڈیمانڈ بارے سرکار کو سوچنا چاہئیے!
مندروں میں دشینت
دادا کے‘پرکوپ’کو جھیل رہے حصار سانسد دشینت چوٹالا دھارمک آچار وچار والے ہیں۔ پہلے نئی دہلی میں ورکروں کی بیٹھک لی|اسکے بعد حصار,بھوانی اور مہیندرگڑھ میں پتا اجے چوٹالا کے سمرتھکوں سے ملاقات کی۔ بھوانی کے پرسدھ درگا مندر کے علاوہ حصار کے مندر میں بھی دشینت نے ماتھا ٹیکا۔ اس گھٹنا کے بعد وہ راجستھان ستھت سالاسار بالاجی دھام بھی پوجا ارچنا کو گئے۔ بتاتے ہیں که دشینت کی ماں نینا چوٹالا بھی دکشن بھارت میں پوجا ارچنا کے لئے گئی ہوئی ہیں۔ اب پوجا ارچنا کا کتنا فائدہ ہوگا,یہ تو کہہ نہیں سکتے,لیکن اتنا ضرور ہے که یہ دھارمک وچار ضرور چرچاؤں میں آ گئے ہیں۔
کاکا کے طیور
کھٹر کاکا ان دنوں کڑے طیور اپنائے ہوئے ہیں۔ اب وہ کسی کے دباوٴ میں آنے والے نہیں ہیں۔ روڈ ویز کرمچاریوں نے بھی جب کاکا کی باتوں کو نہیں مانا تو سیدھے ایکشن موڈ میں آ گئے۔ ایک ساتھ سیکڑوں کو باہر کا راستہ دکھا گیا۔ کرایے پر پرائیویٹ بس چلانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ عام طور پر چناوی ورش میں سرکار کرمچاریوں ہی نہیں سماج کے ہر ورگ کو خوش کرنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ مگر اپنے کاکا ہیں که انہیں ورگ وشیش سے زیادہ اپنے فیصلے کی چنتا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو ٹراسنپورٹ سیواؤں کے لئے ایک بار فیصلہ لیا تو اب اس پر اڈگ ہیں۔ ویسے کاکا کا یہ سٹائل پسند بھی کیا جا رہا ہے۔ اب ورودھ کرنے والے تو ہر جگہ ہیں۔

-دنیش بھاردواج


Comments Off on ‘چودھری’کو چنوتی
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation