Loading...
دینک ٹربیون» Newsدو دھا میں‘بڑے چودھری’ -دینک ٹربیون

ہریانہ میں ایمس کے لئے جگی امید !    نریکشن کرنے گئی بیڈیپیؤ ٹیم کے ساتھ کی ہاتھاپائی !    نقلی سونا دیکر ٹھگے ساڑھے4لاکھ !    ہوٹل سے ایک ایک کر نکل رہے بھاجپا ودھایک !    آکروشت ودیارتھیوں نے لگایا جام !    سوہنا میں کمرے میں بند ملے بچے,ماں لاپتہ !    ادھک وصولی پر کورٹ کا کھٹکھٹایا دوار !    کھیلو انڈیا ہاکی میں کروکشیتر کے کھلاڑیوں کا دھمال !    راجستھان رایلس کے مالک بیچینگے حصے داری !    انجیکشن کا استعمال کرنے والے کھلاڑی پر2سال کے پرتیبندھ کا پرستاؤ !    

دو دھا میں‘بڑے چودھری’

Posted On October - 12 - 2018

ہری پگڑی والے‘بڑے چودھری’صاحب ان دنوں دو دھا میں ہیں۔ یہ وہی چودھری ہیں,جن کے ایک اشارے سے ہزاروں کی بھیڑ شانت ہو جاتی تھی۔ اب حالات بدلے تو ایسے که نہ اشاروں کا اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی کڑک اور دبنگ آواز کا پربھاؤ دکھ رہا ہے۔ ایک کہاوت ہے ‘انسان دنیا کی ہر مشکل سے لڑ سکتا ہے,لیکن گھر میں آ کر‘ہار’جاتا ہے۔’ان دنوں‘بڑے چودھری’کے گھر میں ہی‘کہرام’ہے۔ اسلئے,اب کریں تو کیا,اس پر ہی منتھن چل رہا ہے۔ پرانے لوگ چودھری صاحب کی اس دو دھا کو اچھے سے سمجھ سکتے ہیں۔ اب پرانے اور نئے‘خون’کے جوش میں انتر ہونا سوابھاوک ہے۔‘بڑے چودھری’نے اپنے پوتوں کے خلاف کڑی کارروائی کرکے یہ سنکیت دیا ہے که‘دباوٴ’کی راجنیتی میں وہ نہیں آئینگے۔ پھر نتیجے چاہے جو ہوں۔

کرسی کے لئے کچھ بھی
‘افسر اگر چاہے تو ہتھیلی پر سرسوں ہری کر دیں’۔ بیوروکریسی کے بارے میں یہ کہاوت ایسے ہی نہیں بنی ہے۔ اب گانے بجانے کے شوقین آئی اے ایس مہودیہ کو ہی لے لیں۔ صاحب نے مودی کی سامپلا ریلی کے لئے ایسا گیت لکھا که سرکار باغ باغ ہو گئی۔ خود کھٹر کاکا نے اس گیت کو سنا اور ریلی میں بجانے کی جھنڈی دے دی۔ یہ وہی گایک مہودیہ ہیں,جو اکثر منچ پر راگنی اور گیت گاتے دکھتے ہیں۔ اب صاحب کی رٹائرمینٹ نزدیک ہے,اسلئے پھر سے تاج پوشی کا پربندھ تو کرنا ہی ہوگا۔ صاحب راجیہ سوچنا آیوگ میں سوچنا آیکت کی کرسی پر بیٹھنے کے سپنے پال رہے ہیں۔ بتاتے ہیں که ابھی تو کھٹر کاکا پر گیت لکھا ہے۔‘مودی چالیسا’لکھنے پر کام چل رہا ہے۔ حالات یہ ہیں که سکھنا لیک پر بھی مارننگ واک کے دوران صاحب ستا کے بڑے چہروں کو اپنے لکھے گیت سنانے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ لیکن ان صاحب کی وجہ سے کیتھل والے‘راک سٹار’بھائی خود کو اسہج محسوس کرنے لگے ہیں۔

وائرل ویڈیو
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے زمانے میں اب کچھ بھی اتہاس نہیں رہا ہے۔ پرانی سے پرانی چیزیں کبھی بھی تازہ ہو سکتی ہیں۔ کڑک اور دبنگ آواز کے دھنی پورو سی ایم او پی چوٹالا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ انکا ایک ویڈیو ان دنوں یوٹیوب,فیس بک و وہاٹسئیپ پر وائرل ہے۔ اس میں چودھری صاحب کہہ رہے ہیں ‘ادھیکار مانگنے سے نہیں ملتے,چھیننے پڑتے ہیں۔’گوہانا ریلی میں ہوئی ہوٹنگ کے بعد لوگ باربار ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور چودھری صاحب کے بول کو سن رہے ہیں۔ اب کسی کی زبان کو تو کوئی روک نہیں سکتا۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں که اب دشینت بھی چوٹالا پریوار کے ہی ہیں۔ ادھیکار مانگنے سے نہیں ملیں گے تو وہ اپنے دادا کے دکھائے مارگ پر چل بھی پڑیں تو اس میں غلط کیا ہے۔

پرانی دوستی
پردھان منتری نریندر مودی پرانے دوستوں و چاہنے والوں کو بھولتے نہیں۔ سامپلا ریلی میں انہوں نے پھر سے یہ بات ثابت کر دی۔ سی ایم کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے وہ کھٹر کاکا کو کھلا‘آشیرواد’دے گئے۔ ساتھ ہی,لمبے سمیہ تک کسان مورچہ کی باگ ڈور سنبھالنے والے راجیہ کے کرشی منتری او پی دھنکھڑ کو سنگھرش کا پرانا ساتھی بتاکر انکا قد بڑھا دیا۔‘چھوٹے سوامیناتھن’تو اس گھٹنا کے بعد سے کافی اتساہت ہیں۔ ویسے ایسے موقعوں پر اکثر انکا من ناچنے کو کرتا ہے,لیکن اس بار وہ خود کو روکے ہوئے ہیں۔ بھاجپا پردیش مکھیالیہ میں کاریرت کرمچاری دیپک سے گلے ملکر اپنیپن کا احساس بھی مودی نے کرایا۔ اس سے پارٹی کے کئی دھرندھر بیچین بھی ہیں۔ ویسے کھٹر کاکا اپنے‘راجنیتک گرو’یعنی مودی کی راہ پر چلتے ہوئے اب کافی ایکٹو ہو گئے ہیں۔

نہلے پر دہلا
‘کھٹر کاکا’اب سیاست کے سبھی کھیل سمجھ چکے ہیں۔ یہی نہیں اب وہ‘کھیل’کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ اپنے سریے والے چودھری صاحب نے سر چھوٹورام کے ذریعے بانگر کے ساتھ دیشوالی جاٹ بیلٹ میں بھی پیٹھ بنانے کی کوشش کیا کی,انکا دانو ان پر ہی بھاری پڑ گیا۔ چو.چھوٹورام کے ناتی ہونے کے ناطے وہ پی ایم مودی کو سامپلا بلانے میں تو کامیاب ہو گئے,لیکن سرکار نے انکے ساتھ بڑا‘کھیل’کر دیا۔ ریلی کا سنیوجک ہی کرشی منتری اوم پرکاش دھنکھڑ کو بنوا دیا۔ سمارک بیشک,سرکار کی سمپتی ہے,لیکن اس پر چھوٹورام کی64فٹ اونچی پرتما بھی جیند والے چودھری نے لگوائی اور مودی کو بھی وہ لیکر آئے,لیکن شرییہ لے گئی سرکار۔ مودی کا سامپلا آنے کا کاریہ کرم تے ہوتے ہی یہ بھی فائنل ہو گیا تھا که مودی اب پہلی نومبر کو کرنال میں ہونے والی ریلی میں نہیں آئینگے۔ سو,سامپلا میں ہی گیم کر دیا گیا۔ اسے ہی کہتے ہیں نہلے پر دہلا۔

ہوٹنگ پر نظر
آج کل نیتاؤں کی ریلیوں میں بھی ویڈیوگراپھی کے لئے ڈرون کا استعمال ہونے لگا ہے۔ انیلو کی گوہانا ریلی میں بھی کئی ڈرون گھوم رہے تھے۔ ریلی میں ہوئی ہوٹنگ کے بعد ڈرون سے ہوئی ریکارڈنگ کو باربار دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے بھیڑ کا بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے اور یہ بھی سمجھا جا رہا ہے که ریلی میں ہوٹنگ کہاں کہاں سے ہو رہی تھی۔ یووا تو یووا,مہلاؤں دوارہ ہوٹنگ کرنا پارٹی کے لئے سردرد بنا ہوا ہے۔ بڑے چودھری سے لیکر پارٹی کے کرتا دھرتا اس بات پر منتھن کر رہے ہیں که یہ ہوا تو ہوا کیسے۔

امو کی واپسی
پدماوت فلم کو لیکر ہنگامہ کرنے والے بھاجپا کے پردیش پروکتا سورجپال امو کی‘گھر واپسی’ہو گئی ہے۔ قریب10ماہ کے بعد انکے استعفے کو پارٹی نے نامنظور کر دیا۔ یہی نہیں,امو کی دہلی میں مکھیہ منتری منوہر لال کھٹر کے ساتھ بات ہوئی۔ فلم رلیز کے دوران سی ایم سے لیکر پارٹی کے ادھکانش ورشٹھ نیتاؤں کے خلاف ابھدر ٹپنیاں کرنے والے امو اب پارٹی کے لئے کافی اہم ہو چلے ہیں۔ اب کہنے والے کہہ رہے ہیں که راجستھان میں راجپوت سماج کے ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے بھاجپا امو جیسے‘کداور’اور‘بڑے چہرے’کو وہاں بھی آگے کر سکتی ہے۔ چرچا تو یہ بھی ہے که بھاجپا کے سبھی پروکتاؤں کا‘چیف’بھی انہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اب اتنا بڑا بلیدان کرنے والے امو کے لئے اتنا سا کام تو کرنا بھی چاہئیے۔ سینی صاحب آپ بھی تیار رہیں۔

آخر میں گرہچال
چناوی ورش میں کھٹر کاکا کسی بھی کونے سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے۔ بات چاہے گھوشنا کرنے کی ہو یا پھر‘گرہچال’کی وہ چاروں طرف شانتی چاہتے ہیں۔ اب کاکا کی دھارمک یاتراؤں کو کوئی کنڈلی اور گرہچال سے جوڑکر دیکھ بھی لے تو اس میں غلط بھی کیا ہے۔ ویشنوں دیوی کے درشنوں کے بعد بدری ناتھ پر متھا ٹیک کر کاکا نے اپنے دھارمک ہونے کا پرمان دے دیا ہے۔ وہ کروکشیتر میں48کوس کی پرکرما بھی کرنے میں جٹے ہیں۔ ایک بڑے پنڈت نے کہا,اگر بنا بتائے یا سجھائے بھی دھارمک یاترائیں کی جائیں تو انکا بھی تھوڑا بہت فائدہ ملتا ہے۔

-دنیش بھاردواج


Comments Off onدو دھا میں‘بڑے چودھری’
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation