Loading...
دینک ٹربیون» Newsیوواؤں کا حق-دینک ٹربیون

اچانا تحصیل میں پٹواریوں کے16پد رقت !    گائے کے نام پر ووٹ مانگتی ہے بھاجپا,لیکن چارہ نہیں دیتی !    قرض معافی,پانی,معاوضے کی مانگ پر کسانوں کا دھرنا شروع !    مکر سنکرانتی دوسرے دن بھی شردھالوؤں نے لگائی ڈبکی !    منریگا سکیم میں ہوئی لاکھوں کی دھاندھلی !    روی شنکر پرساد کو ایمس میں بھرتی کرایا گیا !    وت سچو کو ایک ماہ کا سیوا وستار !    سجن کی یاچکا پر سی بی آئی کو نوٹس !    پردوشن دور کرنے کو کرترم بارش کی یوجنا !    پٹاخے خریدنے کے لئے دکھانا ہوگا پہچان پتر !    

یوواؤں کا حق

Posted On January - 11 - 2019

مدھریندر سنہا
دیش کے25کروڑ کشوروں یوواؤں کے لئے ایک بڑے پریاس کی شروعات ہو گئی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ کشور بھارت میں ہیں۔ سنیکت راشٹر سنگھ نے دنیا بھر کے کشوروں کو شکشا,سواستھیہ اور روزگار دلانے کا آہوان کیا ہے اور بھارت اسکا حصہ بنا ہے۔ ایک مہتواکانکشی,لیکن سمبھو ہو سکنے والے بڑے ابھیان کے لئے نہ کیول سنیکت راشٹر,بلکہ بھارت کے کئی ساجھی دار اس میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں نجی کاروباری,بزنس چیمبرس,اینجیو,شیئر بازار,نیتی آیوگ سبھی نے شرکت کی ہے۔ اب اس دشا میں کام کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ مہتی پریاس دیش کے کروڑوں یوواؤں کے سپنوں کو ساکار کر سکتا ہے اور انکے گھروں میں روشنی بخیر سکتا ہے۔ یہ دیش کو آرتھک روپ سے اور آگے لے جانے کی ایک ابھوتپورو کوشش ہے۔
اس پہل کے تحت10سے24ورش کے کشوروں اور یوواؤں کے لئے شکشا,کوشل پرشکشن,روزگار یا ادیمتا کی ویوستھا کرانے کے لئے بڑے پیمانے پر نجی کاروباریوں نے ہاتھ ملایا ہے۔ سنیکت راشٹر کے تتوادھان میں یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے,جس سے دیش کے یووا ورگ کو اسکا حق ملے۔ یونسیپھ نے نیتی آیوگ کے ساتھ ملکر اور پہل کر اس دشا میں کام کرنے کے لئے ایک خاکہ کھینچا ہے,جس سے دیش کے کروڑوں نوجوانوںنویوتیوں کو سمچت شکشا اور روزگار مل سکےگا۔ لیکن یہ مہتواکانکشی ساماجک آرتھک ابھیان چنوتیوں سے بھرا ہوا ہے۔ دھن کے علاوہ پرشکشن دینے والے سونیسیویوں اور شکشت کاریہ کرتاؤں کی دیش میں کمی ہے اور اسلئے سماج کے ہر طبقے کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا۔ یہ بھی کوئی آسان نہیں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں پروفیشنلس کو ایک منچ پر اکٹھا کرنا بڑی چنوتی ہے۔ اسلئے نیتی آیوگ اور یونسیپھ نے سبھی کو اس میں شامل کرنے کا آہوان کیا ہے۔
اس منچ پر بہراشٹریہ کمپنیوں کے آگے آنے سے اتساہ بڑھا ہے۔ مائکروساپھٹ انڈیا کے پورو چیئرمین روی وینکٹیش,جو حال ہی میں اپنا پد چھوڑکر یونسیپھ میں وشیش پرتیندھی بنے ہیں,اس دشا میں پہل کر رہے ہیں۔ اس ابھیان سے جڑے سبھی پکش اپنی طرح کا یوگدان کر رہے ہیں,جس سے سبھی کو سمان آرتھک اوسر مل سکیں۔ سنیکت راشٹر کی ایجینسیوں,سول سوسائٹی سے جڑے سنگٹھن,راجیہ سرکاریں,پرائیویٹ سیکٹر سبھی طرح کی چنوتیوں سے نپٹنے کی روپ ریکھا تیار کر رہے ہیں اور ساتھ ہی سمادھان کی تلاش کر رہے ہیں۔ اسکے لئے کئی سطروں پر ساجھیداریاں کی جائینگی اور نئے راستوں کی تلاش کی جائیگی۔ اس مہتی پریاس سے ہی بڑے پیمانے پر آرتھک اوسر پیدا ہو نگے۔ یہ دیکھنا بھی سنتوش کا وشیہ ہے که بھارت کے نجی شیتر نے بھی اس دشا میں کافی سہیوگا کرنے کی اچھا جتائی ہے۔ یونسیپھ کی ای ڈی ہینرتا فور بھارتیہ بزنیس گھرانوں کی اس بات کے لئے پرشنسا کرتی ہیں که انہوں نے ہمیشہ اس طرح کے ساماجک بدلاؤ کے کاریہ کرموں میں سماج کا ساتھ دیا ہے۔ انکا ماننا ہے که بزنیس سے لابھ تبھی ہو سکتا ہے,جب اسکے پریاسوں سے سماج سوستھ اور شکشت بنتا ہو۔ لابھ کامانے کے لئے سماج کے کمزور ورگ کو اوپر اٹھانا بھی ضروری ہے۔ بزنس کے ذریعے بچوں کو شکشت اور سوستھ بنائے رکھنا ایک بڑا لکشیہ ہے۔ اس دشا میں اس ابھیان کے تحت کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔2030تک بھارت کے ہر بچے کو سکول کی شکشا ملنی چاہئیے اور ساتھ ہی انہیں انکے عمر کے حساب سے پرشکشن بھی ملے تاکہ انکے لئے روزگار کے راستے کھلیں۔
کوشل پرشکشن میں نویش ضروری
بھارت میں یووا ورگ کو پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے که شکشا اور کوشل پرشکشن میں بھاری نویش کیا جائے۔25کروڑ سے بھی جی دا بچوں اور یوواؤں کو آگے بڑھانے کے لئے بھاری راشی کی ضرورت ہوگی,جو اکیلے سراکر کے بوتے کا نہیں ہے۔ یہ سروودت ہے که یووا کچھ بھی کر سکتے ہیں,لیکن اسکے لئے ضروری ہے اچت شکشا,کوشل اور صحیح مارگدرشن۔ اس کاریہ میں پرائیویٹ بزنس اور ادیمیوں کے یوگدان سے سپھلتا ملے گی,کیونکہ انکے پاس پونجی اور کوشل ہے۔ پرائیویٹ پبلک بھاگیداری میں دیش میں بڑے بڑے کام ہوئے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں۔ یوواؤں کے لئے شروع کئے جا رہے اس وشال ابھیان میں انکی بھاگیداری سے ہی آگے کا راستہ کھلیگا۔ دیش میں پرائیویٹ پبلک بھاگیداری سے بڑے بڑے کام ہوئے ہیں۔ پل بنے ہیں,ہائی وے تیار ہوئے ہیں,انتراشٹریہ ایئرپورٹ نرمت ہوئے ہیں اور بھی نہ جانے کتنے کام ہوئے ہیں۔ اس سماجک آرتھک ابھیان میں یہ دونوں ہی آگے بڑھکر حصہ لے رہے ہیں,یہ دیکھنا سکھد ہے۔ ان دونوں کی بھاگیداری کے ساتھ ہی بدھجیویوں,ادیمیوں,ٹرینروں کا بڑے پیمانے پر سہیوگ چاہئیے ہوگا,جن کے ملنے کی پوری سنبھاونا ہے۔ اس سمیہ وہ سبھی اس منچ پر آ رہے ہیں اور ہاتھ بنٹا رہے ہیں۔ پرائیویٹ بزنس کا ساتھ ملنے سے سرکار کی دھن لانے کی چنتا بھی کم ہو گئی ہے اور نئے راستے کھلنے کی سنبھاونا بھی بڑھ گئی ہے,لیکن انکے ساتھ یووا ورگ کو بھی سامنے آنا ہوگا اور اس ابھیان کو سپھل بنانے میں اپنا ہاتھ بنٹانا ہوگا,کیونکہ انکے یوگدان کے بنا اتنا بڑا ابھیان سپھل نہیں ہو سکتا ہے۔
اس دیش کی خاصیت یہ ہے که یہاں تمام انترورودھوں کے باوجود بڑے ابھیانوں میں سبھی ساتھ آ جاتے ہیں۔ چیچک اور پولیو کے انمولن میں یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ کیرل کے باڑھگرست لوگوں کی مدد کے لئے جس طرح سے دیش بھر کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا,اس سے یہ بات اور بھی پختہ ہوئی ہے۔ بھارت نے ماترتو مرتیو در کو گھٹانے اور بچوں کو سکول بھیجنے میں سپھلتا پائی ہے,لیکن ابھی بھی کروڑوں بچے شکشا اور کوشل کے ابھاؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انکے لئے زندگی کا دوسرا چرن اوروں کے ہاتھوں میں ہے۔ انہیں شکشا دلانہ,انکے سواستھیہ کا دھیان رکھنا اور انہیں کوشل اپلبدھ کرانا اکیلے کسی سرکار کے بس میں نہیں ہے۔ اس میں سبھی کا خاص کر نجی ادیمیوں,اینجیو,سوینسیویوں اور ودوانوں کا ساتھ چاہئیے۔ سبھی ملکر ہی انکے لئے اس مہایگی کو پورا کر پائیں گے اور اسکے بعد ایک پوری شرنکھلا بن جائیگی۔ دیش کو فی الحال اسی مہایگی کی ضرورت ہے اور اس میں آہتی ڈالنے کے لئے کروڑوں ہاتھوں کی ضرورت ہوگی۔
روزگار سرجن میں پچھڑ رہا دیش
دنیا کی تیزی سے بڑھتی ارتھویوستھاؤں میں سے ایک بھارت میں آرتھک وکاس نے جس گتی سے گتی پکڑی ہے,روزگار کے اوسر اسکے مقابلے بہت دھیمے ہیں۔ حال ہی میں اجیم پریمجی یونیورسٹی کی جابس کے معاملے میں آئی رپورٹ بھی یہی کہتی ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے که دیش کی موجودہ7پرتیشت کی وکاس در کے باوجود روزگار دینے میں محض ایک پرتیشت سدھار ہوا ہے,جبکہ1970اور80کے دشک میں3سے4پرتیشت کی وکاس در کے ساتھ روزگار سرجن میں2پرتیشت کا سدھار تھا۔ ایسے میں ہم پرانے ڈھرے پر بھی دھیان دیتے تو موجودہ حالات میں روزگار سرجن میں کم سے کم4پرتیشت بڑھوتری ہونی چاہئیے تھی,لیکن حالت یہ ہے که2015میں دیش میں بیروجگاری در بڑھکر5پرتیشت ہو گئی تھی,جو پچھلے کم سے کم20ورشوں میں سب سے زیادہ رہی۔ اس سے نپٹنے کے لئے کیندر سرکار کو سکاراتمک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اچھا
ہو که ایک راشٹریہ روزگار پالسی بنائی جائے۔
اچھی نوکریاں محض17%
اجیم پریمجی یونیورسٹی کی اس ریسرچ میں سامنے آیا ہے که گروتھ اور جابس کے بیچ گھٹتے انوپات کا مکھیہ کارن کوشل اور اچھی نوکریوں کے بیچ تال میل بگڑنا ہے۔ دیش میں47کروڑ70لاکھ کے ورکپھورس میں کتھت طور پر اچھی نوکریوں کی حصے داری محض17پرتیشت ہے۔ سٹڈی میں پایا گیا ہے که جاب کی تلاش میں جٹے2کروڑ30لاکھ یوواؤں میں سے ایک تہائی سے زیادہ گریجئیٹ یا اس سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔


Comments Off onیوواؤں کا حق
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation