Loading...
دینک ٹربیون» Newsتنتر کی کاہلی سے بگڑتے حالات-دینک ٹربیون

راج مستری کی بیٹی کو راجیہ میں8واں,ضلعے میں تیسرا ستھان !    سنگاپور سے ووٹ ڈالنے بھارت آیا این آر آئی پریوار !    زیادہ تر ایگجٹ پول میں پھر مودی سرکار !    راشٹرپتی سے سمانت نیہا نے چھیڑی پانی بچانے کی مہم !    ایکدا !    بھدرواہ جانچ کے آدیش,کرفیو جاری !    ‘جج کے خلاف مہابھیوگ,سانسد کا نام نہیں بتا سکتے’ !    یوجیسی:یون اتپیڑن کے آنکڑے بتاییں !    دیش کی گوشالاؤں میں گؤئیں گہرے دباوٴ میں !    اندور میں بھاجپا کاریہ کرتا کی ہتیا !    

تنتر کی کاہلی سے بگڑتے حالات

Posted On May - 15 - 2019

ابھیشیک کمار سنگھ

جنگل کی آگ کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے که ایک سالانہ اپکرم کے تحت وہاں لگنے والی آگ نئے سرجن کا راستہ کھولتی ہے۔ ایسا صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور آگے بھی ہوگا۔ لیکن سمسیا تب ہے,جب یہ آگ انینترت ہو جائے,جنگل کے جیوجنتؤں کے لئے کال بن جائے,نزدیک بسی مانو آبادی کے لئے مشکل بن جائے۔ اس کارن پیدا ہوئے دھوئیں کے کارن آنا جانا مشکل ہو جائے اور جنگل کی بیش قیمتی امارتی لکڑی جل کر خاک ہو جائے۔ ایک سالانہ اپکرم کی طرح اس سال بھی کچھ سمیہ سے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے جنگلوں میں آگ کی خبریں آنے لگی ہیں۔ مشکل یہ ہے که اکثر گرمیوں کے موسم میں جنگلی آگ ایسا ہی وناش رچتی ہے لیکن اس پر کوئی خاص روک نہیں لگ پا رہی ہے۔
خاص طور سے اتراکھنڈ کے کماؤں کے نینیتال اور چمپاوت ضلعوں سے آگ کی ڈراونی تصویریں مئی کے آرمبھ سے ہی آنے لگی ہیں۔ حالانکہ ون کرمی آگ بجھانے کے لئے جوجھ رہے ہیں۔ اس آگ سے صرف جنگل سواہا نہیں ہو رہے,بلکہ اس سے پیدا ہونے والی دھندھ اور دھوئیں کے کارن یاتایات بھی پربھاوت ہو رہا ہے۔ نینیتال اور چمپاوت کے علاوہ چمولی کے جنگلوں میں بھی آگ کا پرکوپ دکھنے لگا ہے۔ یہاں کے بدری ناتھ ون پر بھاگ اور کیدارناتھ ون پر بھاگ کے جنگلوں میں آگ سے لگاتار ون سمپدا کا نقصان ہو رہا ہے اور ونیہ جیووں کا وجود بھی سنکٹ میں پڑا ہوا ہے۔
یہ آگ محض جنگل تک سیمت نہیں رہتی۔ یہ بڑھکر رہایشی علاقوں اور ساروجنک اپیوگ کی عمارتوں سمپتیوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جیسے پچھلے سال ہماچل پردیش کے کسولی میں وایوسینا ڈپو تک آگ پہنچ گئی تھی,جسے روکنے کے لئے ومانوں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کرنا پڑا۔ کچھ موقعوں پر کالکا شملہ ٹرین کو روکنا پڑا تھا۔ جموں کشمیر میں ویشنودیوی کے راستے ترکٹا کے جنگلوں میں لگی آگ نے شردھالوؤں کا راستہ روک دیا تھا۔ پچھلے سال ناسا کی سیٹیلائٹ تصویروں کے ذریعے بتایا گیا تھا که یوپی,مدھیہ پردیش,مہاراشٹر,چھتیس گڑ,اتراکھنڈ,ہماچل اور جموں کشمیر کے علاوہ دکشنی راجیوں میں آگ سے6ہزار ہیکٹیئر ون شیتر سواہا ہو گیا تھا۔
ون شیتروں میں لگی آگ کو بجھانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے کارن درشیتا بیحد کم ہو جاتی ہے,اسلئے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسے بجھانے کی کوشش کرنا بیحد جوکھم والا کام بن جاتا ہے۔ ویسے تو ایسی ہر جگہ,جہاں مانسون اور سردیوں میں بارش ہوتی ہے اور گرمیوں میں سوکھا موسم رہتا ہے,وہاں آگ لگتی رہتی ہے۔ بارش کی وجہ سے پیڑ پودے خوب بڑھ جاتے ہیں۔ گرمیوں میں جھاڑیاں اور گھاس پھوس سوکھ کر آگ لگنے کا ماحول تیار کر دیتے ہیں۔ پراکرتک روپ سے جنگلوں میں لگنے والی آگ سے وہاں کے پیڑ پودھوں کو نپٹنے کا طریقہ معلوم ہے۔ کہیں پیڑوں کی موٹی چھال بچاو کا کام کرتی ہیں تو کہیں آگ کے بعد جنگل کو پھر سے پھلنے پھولنے کا ہنر آتا ہے۔ افریقہ کے سوانا جیسے گھاس کے میدانوں میں باربار آگ لگتی رہتی ہے لیکن گھاس پھوس جلدی جلنے سے آگ کا اثر زمین کے اندر,گھاس پھوس کی جڑوں تک نہیں پہنچتا۔
اتراکھنڈ,ہماچل اور جموں کشمیر کے جنگلوں کی آگ کے پیچھے کچھ ایسی ہی وجہیں ہیں۔ یہاں کے جنگلوں میں چیڑ کی بہتایت ہے۔ جب کبھی پرل کہلانے والی چیڑ کی پتیوں کے ڈھیر زیادہ لگ جاتے ہیں تو جنگلوں میں ذرا سی چنگاری وشال روپ لے لیتی ہے۔ چیڑ کی ایک اور خاصیت ہے که یہ اپنے آس پاس چوڑی پتیوں والے ورشوں کو پنپنے نہیں دیتا۔ پہلے جنگلوں میں بکھری چیڑ کی پتیوں کو لوگ پشوؤں کے نیچے بچھونے کے روپ میں استعمال کر لیتے تھے۔ پتیوں کو گوبر کے ساتھ سڑاکر کھاد بنا لیتے تھے لیکن روزگار کے چلتے ہوئے پلائن کے کارن گاؤں کے گاؤں خالی ہیں۔
آگ کو بجھانے کے تین طریقے وشیشگیہ سجھاتے ہیں۔ پہلا,مشینوں سے جنگلوں کی نیمت صفائی ہو,چیڑ آدی کی پتیوں کو سمیہ رہتے ہٹایا جائے,لیکن یہ بیحد مہنگا وکلپ ہے۔ دوسرا,وہاں نینترت ڈھنگ سے آگ لگائی جائے۔ دکشن افریقہ اور دکشن امریکہ کے کئی دیشوں میں یہی کیا جا رہا ہے,لیکن اسکے لئے بھی کافی سنسادھن چاہئیے۔ تیسرا یہ که پروتیہ علاقوں میں پلائن روک کر جنگلوں پر آشرت ویوستھا کو بڑھاوا دیا جائے,جس سے جنگلوں کی صافسپھائی ہوگی اور آگ کے خطرے کم ہو نگے۔ چونکہ ہمارے نیتاگنوں,یوجناکاروں نے جنگلوں کی آگ کی اہمیت کو ٹھیک سے سمجھا نہیں ہے,اسلئے کہنا مشکل ہے که ان میں سے کوئی بھی طریقہ انہیں راس آئیگا۔ ایسے میں اکلوتا طریقہ یہی ہے که سوچنا ملتے ہی ہیلی کاپٹر پانی کے ساتھ دہکتے جنگلوں کی طرف روانہ کئے جائیں اور گاؤں,پرشاسن سمیت سینا بھی ایسے نازک موقعوں پر الرٹ رہے۔


Comments Off onتنتر کی کاہلی سے بگڑتے حالات
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation