Loading...
دینک ٹربیون» Newsمدعے بنام مودی چناؤ میں دھرویکرن-دینک ٹربیون

راج مستری کی بیٹی کو راجیہ میں8واں,ضلعے میں تیسرا ستھان !    سنگاپور سے ووٹ ڈالنے بھارت آیا این آر آئی پریوار !    زیادہ تر ایگجٹ پول میں پھر مودی سرکار !    راشٹرپتی سے سمانت نیہا نے چھیڑی پانی بچانے کی مہم !    ایکدا !    بھدرواہ جانچ کے آدیش,کرفیو جاری !    ‘جج کے خلاف مہابھیوگ,سانسد کا نام نہیں بتا سکتے’ !    یوجیسی:یون اتپیڑن کے آنکڑے بتاییں !    دیش کی گوشالاؤں میں گؤئیں گہرے دباوٴ میں !    اندور میں بھاجپا کاریہ کرتا کی ہتیا !    

مدعے بنام مودی چناؤ میں دھرویکرن

Posted On May - 15 - 2019

لوک سبھا چناؤ کا ساتواں اور آخری چرن19مئی کو ہونے کے بعد متگننا23مئی کو ہوگی۔ ظاہر ہے,تبھی پتہ چلیگا که وشو کے سب سے بڑے لوکتنتر کے متداتاؤں نے کیا جنادیش دیا ہے۔ آدرش ستھتی تو یہی ہے که سبھی راجنیتک دل نیتا چناؤ پرنام کی پرتیکشا کریں اور پھر جنادیش کے انوروپ نئی سرکار کے گٹھن کی پرکریا شروع ہو,پر چناؤ پرچار میں نیونتم ششٹاچار اور مریادہ کو تار تار کر دینے والوں سے آدرشوں کی اپیکشا کیسی؟ نوگٹھت چھوٹے راجیہ تیلنگانہ کے مکھیہ منتری کے.چندرشیکھر راؤ کی بھاجپا ورودھی دھرویکرن کی اتاولی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ جس آندھر پردیش میں سے پرتھک تیلنگانہ راجیہ بنا,اسکے مکھیہ منتری ایوں تیلگو دیشم کے مکھیہ چندر بابو نائڈو بھی بھاجپا ورودھی دھرویکرن کا اغوا بننے کا کوئی موقع نہیں چوکنا چاہتے۔ نریندر مودی سرکار کے شروعاتی ورشوں میں تیلگو دیشم راجگ کا گھٹک رہ چکا ہے۔ کے.چندرشیکھر راؤ کی بھی مودی سرکار کے شروعاتی دور میں بھاجپا سے نزدیکیاں گوپنی نہیں رہیں۔
چندرشیکھر راؤ تیلنگانہ کے چناؤ سے فری ہوتے ہی سوت: سپھورت بھاوٴ سے وپکشی ایکتا کی قوائد میں جٹ گئے ہیں تو نائڈو بھی چاہتے ہیں که23مئی کو متگننا کا انتظار کیے بنا, 19مئی کو آخری چرن کے متدان کے بعد ہی سبھی غیر بھاجپا دلوں کی بیٹھک ہو,لیکن وپکش کے دو دگجوں:مایاوتی اور ممتا بنرجی نے انہیں چناؤ پرناموں تک رکنے کی صلاح دی ہے۔ پھر بھی چناؤ پرکریا کے بیچ ہی نئے سمیکرن بنانے,دوست تلاشنے کی قوائد سے کچھ سوابھاوک سوال تو اٹھتے ہی ہیں۔ رہی ہوگی کبھی وشو کے سب سے بڑے لوکتنتر بھارت کی راجنیتک وچار دھارا,نیتی,سدھانت آدھارت پچھلے کچھ دشکوں سے تو یہ محض ستا کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ ایک ایسا کھیل,جسمیں بہہ مت کے لئے ضروری آنکڑا جٹانا ہی انتم لکشیہ ہے۔ وہ آنکڑا نئے دوست تلاش کر جٹایا جائے یا پرانے دشمنوں کو دوست بناکر اتھوا وشدھ سودے بازی کرکے,اس سے کسی کو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ تبھی تو یہ کہاوت اب نیتی واکیہ کی طرح دوہرایی جانے لگی ہے که راجنیتی میں کبھی کوئی ستھائی متر یا شترو نہیں ہوتا۔ یعنی پرستھتیوں یا ضرورتوں کے مطابق راجنیتی میں سمبندھ اور سمیکرن بدلتے رہتے ہیں۔ اب یہ اسہج سوال مت پوچھئے که پھر بھلا اوسرواد کیا ہوتا ہے؟
سامانیت: ستا کے کھیل میں جادئی آنکڑا جٹانے کی قوائد چناؤ پرناموں کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اتھوا پھر پہلے سے یہ آبھاس ہو جائے که چناؤ پورو سمیکرنوں سے بات نہیں بننے والی۔ ہار جیت کا پتہ تو23مئی کو ہی چلیگا لیکن متدان کے شروعاتی چرنوں تک یہ عام دھارنا رہی که2014جتنی سپشٹ دکھائی نہ پڑتے ہوئے بھی ان چناووں میں مودی لہر سوابھاوک ایوں اپیکشت چناوی مدعوں پر بھاری پڑ رہی ہے۔ مدعوں کے بجائے مودی کے نام پر چناؤ کے لئے صرف بھاجپا کو ہی دوش نہیں دیا جا سکتا۔ اپنے پچھلے چناوی وایدوں اور ان پر عمل کی حقیقت سے منھ چراکر نئے لوکلبھاون وایدوں ناروں پر ووٹ مانگنا ہمارے راجنیتک دلوں نیتاؤں کی فطرت ہی بن گئی ہے۔ اسکی وجہ سمجھنا بھی مشکل نہیں ہونا چاہئیے۔ چناؤ جیتنے کے لئے سورگ ہی دھرتی پر اتار لانے کے وایدے کر دئیے جاتے ہیں,اور جب اگلے چناؤ میں رپورٹ کارڈ پیش کرنے یا جنتا ایوں وپکش دوارہ سوال پوچھے جانے کا موقع آتا ہے تو ان سے منھ چرا کر نئے نعروںوایدوں کے علاوہ کوئی وکلپ بچتا ہی نہیں۔ اسلئے یہ انایاس نہیں ہے که اچھے دن,ہر بھارتیہ کے بینک کھاتے میں15لاکھ,نوٹبندی اور جیئیسٹی سریکھے مدعوں کے بجائے مودی اور بھاجپا کو پلوامہبالاکوٹ پر ووٹ مانگنا زیادہ فائدےمند لگ رہا ہے۔ یہ آزمایا ہوا نسخہ ہے که بات جب راشٹربھکتی اور آستھا کی ہو,تب ترک اور سوال کے لئے جگہ نہیں بچتی۔
تب کیا متدان کے چرن بیتتے بیتتے یہ آزمایا ہوا نسخہ بھی اپیکشت چمتکارک پرنام نہیں دے پا رہا؟ یہ سوال اسلئے بھی که غیر بھاجپا دل ہی نہیں,خود بھاجپا بھی نئے سمیکرن اور راجنیتک دوست تلاش رہی ہے۔ جس طرح بہار میں اپنی جیتی ہوئی سیٹیں بھی جنتا دل یونائٹیڈ کو بٹوارے میں دے دی گئیں یا مہاراشٹر میں چر اسنتشٹ شیوسینا کو منایا گیا اتھوا اتر پردیش میں اپنا دل سریکھے بیحد چھوٹے دل کو بھی خوش کیا گیا,وہ مودی اور بھاجپا کی چھوی سے میل ہرگج نہیں کھاتا۔ ظاہر ہے,پلوامہبالاکوٹ پر آکرامک جوش کے باوجود2014والا آتموشواس نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے که2014میں چناؤ پرچار کے دوران اور پردھان منتری بننے کے بعد بھی کچھ سمیہ تک مودی دلگت راجنیتی سے اوپر اٹھ کر تمام راجیوں کے مکھیہ منتریوں کے ساتھ ملکر ٹیم انڈیا کی طرح دیش کے سروانگین وکاس کے لئے کام کرنے کی باتیں کرتے تھے,لیکن بعد میں غیر بھاجپا شاست راجیہ کا شائد ہی کوئی مکھیہ منتری بچا ہو,جس پر انہوں نے موقعےبیموکے نشانہ نہ سادھا ہو۔ سمندری طوفان فانی سے نپٹنے میں اڑیسہ کی نوین پٹنائک سرکار کی پرشنسا مودی کی اس آکرامک چھوی سے میل نہیں کھاتی۔ اسی لئے سوال اٹھا که کیا مودی چناؤ پشچات نئے راجنیتک سمیکرن کی سنبھاونائیں تلاش رہے ہیں؟
دلگت راجنیتی اور چناؤ کے ذریعے ہی چار بار مکھیہ منتری بن چکے نوین پٹنائک پر راجنیتک راگ دویش کا آروپ کبھی نہیں لگا۔ ہاں,اراجنیتک پرشٹھبھومی کے باوجود انہوں نے کبھی کالاہانڈی اور بھکھمری کے لئے جانے,جانے والے اڑیسہ کا کایا کلپ کر تٹستھ پریکشکوں کی پرشنسا اوشیہ پائی ہے۔ چناؤ پورو بھی وہ کسی خاص راجنیتک گولبندی کا حصہ نہیں بنے۔ ایسے میں چناؤ پشچات آوشیکتا پڑنے پر نوین پٹنائک کا بیجو جنتا دل کیندر میں مودی سرکار کے لئے راجگ کو سمرتھن دے بھی سکتا ہے۔ اچ ستا مہتواکانکشا کے شکار کے.چندرشیکھر راؤ بھی خود کو راجنیتک روپ سے پراسنگک بنائے رکھنے اور اپنی وراثت سرکشت کرنے کے لئے کب پالا بدل لیں,کوئی نہیں جانتا۔ اگر اپنے ڈی این اے تک پر سوال اٹھائے جانے کے باوجود نیتش کمار راجگ میں واپس لوٹ سکتے ہیں تو خود کو غیر بھاجپائی خیمے میں کمان نہ ملنے پر چندر بابو کو دیشہت میں ایسا قدم اٹھانے میں بھلا کیا سنکوچ ہو سکتا ہے؟ کانگریس دوارہ لگاتار اپمانت کیے جانے والے جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس کو بھی مودی یا بھاجپا سے کوئی الرجی کیوں ہونی چاہئیے؟
اگر یہ سنبھاونائیں بھاجپانیت راجگ سرکار کا ہی سنکیت دے رہی ہیں,تب غیر بھاجپائی دلوں کی گتیودھیوں کا کیا ارتھ ہے؟ مت بھولیے که

راج کمار سنگھ

مودی کو جنتا کے مدعوں پر بھاری پڑتا ماننے والے بھی مان رہے ہیں که2014والی لہر کہیں نہیں ہے۔ تب کیا ورش2004کی پنراورتی سمبھو ہے,جب پنڈت نہرو کے بعد دیش کے سب سے کداور نیتا اٹل بہاری واجپئی اور بھاجپا شائننگ انڈیا کی چکاچوندھ میں کانگریس دوارہ بچھایی گئی چناوی بساط اور زمینی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے تھے اور راجنیتک روپ سے نو سکھیا معنی جانے والی سونیا گاندھی سے مات کھا گئے تھے؟ بیشک سب سے بڑے راجیہ اتر پردیش میں تو سپہ بسپا رالود گٹھ بندھن میں کانگریس جگہ نہیں پا سکی,لیکن چناؤ پشچات دھرویکرن میں وہ غیر بھاجپائی خیمے کا پرمکھ گھٹک ہی ہوگی۔ اتر پردیش میں مایاوتی اکھلیش,بہار میں راجد کانگریس مہاگٹھبندھن,اڑیسہ میں نوین پٹنائک,پچھم بنگال میں ممتا بنرجی,آندھر میں چندر بابو اور جگن ریڈی,تیلنگانہ میں چندرشیکھر راؤ,کرناٹک میں کانگریس جنتا دل سیکیولر تتھا راجستھان,مدھیہ پردیش,چھتیس گڑ اور پنجاب میں اکیلیدم کانگریس,راجگ کو جیسی کڑی چنوتی پیش کرتے دکھ رہے ہیں,اس میں اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے که خاص کر اتر بھارت میں گھٹنے والی سیٹوں کی بھرپائی بھاجپا کہاں سے کریگی؟ دراصل سبرہمنیم سوامی اور رام مادھو کا بھاجپا کی سیٹیں گھٹنے کا انومان بھی اسی سوال کو گمبھیر بناتا ہے۔ ظاہر ہے,ایسے سبھی سوالوں کے جواب کے لئے23مئی کا انتظار کرنا ہی بہتر ہوگا۔

journalistrksingh@gmail.com


Comments Off onمدعے بنام مودی چناؤ میں دھرویکرن
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation